السلام علیکم! امید ہے کہ خیر و عافیت سے ہونگے ، سلام کے بعد عرض یہ ہے کہ ایک سوال کا فتوی معلوم کرنا تھا۔ سوال یہ ہے کہ تقسیم میراث کے وقت ایک بہن نے بھائیوں سے کہا کہ میں حصہ تمہیں بخش دیتی ہوں اب کچھ سالوں بعد وہ دوبارہ حصہ مانگتی ہے ،تو کیا اس صورت میں اس کا حصہ مانگنا جائز ہے ؟اسے حصہ ملے گا یا نہیں ؟ 2 : اسی طرح ایک اور بہن نے بھائیوں کو تقسیم میراث کے وقت حصہ بخش دیا اور پھر وہ فوت ہوگئی اب اس بہن کے بیٹے اپنی ماں کاحصہ مانگ سکتے ہیں یا نہیں؟ کیا ان کا حصہ مانگنا جائز ہوگا اور ان کا حق ہوگا یا نہیں ؟ بینوا توجروا
والدین مرحومین کے ترکہ میں جس طرح بیٹے حصہ دار ہوتے ہیں، اسی طرح مرحومین کی بیٹیاں بھی اپنے شرعی حصے کی حقدار ہوتی ہیں، لہٰذا بھائیوں کے ذمّہ اپنی بہنوں کو ان کا شرعی حصہ دینا لازم اور ضروری ہے، جبکہ تقسیم ترکہ سے قبل کسی وارث کا اپنا حصہ لیے بغیر فقط بخش دینے سے اس کا حصہ ترکہ سے ساقط نہیں ہوتا، بلکہ برقرار رہتا ہے، لہذا مذکورہ دونوں بہنوں نے اپنے بھائیوں سے اپنے حصۂ میراث کے بدلہ کچھ رقم وغیرہ لیکر بقیہ حصہ میراث سے دستبردار نہ ہوئی ہوں یا اپنا حصہ بھائیوں کو باقاعدہ فروخت نہ کیاہو ، بلکہ تقسیم ترکہ کے وقت ہر بہن کو اس کا حصہ حوالہ کرنے سے قبل ہی بہنوں نے اپنا حصہ زبانی کلامی بھائیوں کو بخش دیا ہو، تو اس سے ان کا حصہ بھی ساقط نہیں ہوا، لہذا اگر بہن بعد میں اپنا حصہ کا مطالبہ کرنا چاہے یا فوت شدہ بہن کی اولاد اپنی والدہ کے حق کا مطالبہ کریں بہر صورت ان کا مطالبہ کرنا شرعاً درست ہوگا، اور بھائیوں پر لازم ہوگا کہ جلداز جلد بہنوں یا انکی اولادں کاموجودہ مارکیٹ ویلیو کے حساب سے ان کاحق حوالہ کرکے مؤاخذۂ اخروی سے سبکدوشی حاصل کریں بصورت دیگر ان کے لئے اپنے حق کی وصولیابی کیلئے ان بھائیوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا بھی حق حاصل ہوگا۔
کما فی تکملہ رد المحتار : و في البزازية : لو أبرأ أحد الورثة الباقي ثم ادعى التركة و أنكروا لا تسمع دعواه و إن أقروا بالتركة أمروا بالرد عليه . و فيها : و لو قال تركت حقي من الميراث أو برئت منها و من حصتي لا يصح و هو على حقه ، لان الارث جبري لا يصح تركه الخ ( باب دعوی النسب، کتاب الدعوی، ج:8، ص: 88، ط: سعید)۔
وفی العقود الدریۃ: (سئل) فی أحد الورثۃ إذا اشھد علیہ قبل قسمۃ الترکۃ المشتملۃ علی أعیان معلومۃ لہ حقہ من الإرث و أسقطہ وأبرأ ذمۃ بقیۃ الورثۃ ویرید الآن مطالبۃ حقہ من الإرث فھل ذلک؟ (الجواب) الإرث جبری لایسقط بالإسقاط وقد أفتی بہ العلامۃ الخ۔ (کتاب الدعوی، ج:2، ص: 27، ط: سعید)۔
وفی الإشباہ : لو قال الوارث ترکت حقی لم یبطل حقہ إذا الملک لایبطل بالترک الخ (الفن الثالث الجمع والفرق مایقبل الإسقاط من الحقوق، ص: 272، ط: دارالکتب العلمیۃ)۔
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0