میں حمیدہ بیوہ عبدالغفار لال وانی آ پ سے مخاطب ہوں میرا بڑا بیٹا 18/ 19 سالوں سے وراثت کی جائیداد پرقابض ہے نہ تو مجھے دوائی کے پیسے دیتا ہے نہ ہی میرے پیسوں کی امانت جو اس کے پاس ہے وہ دے رہا ہے شوہر کی دکان جو میرے نام پر ہونے کی وجہ سے دکان کی فائل مجھ سے جھوٹ بول کر لے گئے کہ توڑنے کے لئے آئے ہیں ، اس کے چند روز کے بعد مجھے اپنے ساتھ رجسٹرڈ دفتر لے گئے ، میں پڑھی لکھی نہیں ہو ں مجھے اس نے کہا کہ اندر آپ سے پوچھے تو کہنا کہ میں یہ دکان اپنے بیٹے کو تحفے کے طور پر دے رہی ہوں ، دیگر ورثاء کے علم میں لائے بغیر میں نے اپنے بیٹے سے کہا کہ یہ دکان تو وراثت کی ہے تو اس نے کہا کہ بعد میں میں سنبھال لونگا ، اور اس طرح دکان اپنے نام کروالی ، اس سے پہلے میرا چھوٹا بیٹا اپنے باپ کے ساتھ دکان پہ کاروبار کرتا تھا تو میرے بڑے بیٹے نے اس سے زبردستی یہ کہہ کر دکان خالی کروائی کہ چھوٹا بیٹا 12000 ہزار کرایہ دیتا ہے ، تو میں 15000 ہزار کرایہ دونگا ، اس طرح میرے چھوٹے بیٹےکو دکان خالی کرنے پر مجبور کیا ، میرے بیٹے نے شروع میں صرف دو یا تین مہینے کا کرایہ دیا اور پھر 18/19 سالوں سے ورثاء کو کرایہ نہیں دے رہاہے ، کیا یہ عمل عہد شکنی ہے؟ نیز میری دوائی کے پیسے نہ دینا یہ ماں کا حق ادا کر رہا ہے ؟ اور میری امانت کے پیسے نہ لوٹانا اور دکان دھوکہ سے اپنے نام کروا لینا دیگر ورثاء کے علم میں لائے بغیر ایسے عمل کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
سائلہ کا بیان اگر واقعۃْ درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس طور پر کہ سائلہ کے بڑے بیٹے نے دھوکے اور جعلسازی سے دیگر ورثاء کے علم میں لائے بغیر ترکہ کی دکان اپنے نام کرائی ہو یا اسکے علاوہ ترکے کی جائیداد پر قابض ہو اور سائلہ کے امانت پیسے سائلہ کو واپس نہ کر رہاہو ، اور نہ ہی معاہدے کے مطابق ورثاء کو دکان کا کرایہ ادا کر رہا ہو ،تو اس کا یہ عمل دھوکہ دہی , ظلم ،غصب اور خیانت پر مبنی ہونے کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہے جس کی وجہ سے وہ سخت گناہ گار ہو رہا ہے ، اس پر لازم ہے کہ اپنے اس عمل پر بصدقِ دل توبہ و استغفار کرکے والدہ کو اس کی امانت اور والدہ سمیت تمام ورثاء کو وراثت میں ان کا شرعی حصہ اور والد مرحوم کی وفات کے بعد ورثاء سے کیے گئے وعدے کے مطابق گزشتہ سالوں کے دکان کا کرایہ انہیں حوالے کرکے مؤاخذۂ دنیوی واخروی سے سبکدوشی حاصل کرے۔
کما قال اللہ تعالی: وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعۡبُدُوٓاْ إِلَّآ إِيَّاهُ وَبِٱلۡوَٰلِدَيۡنِ إِحۡسَٰنًاۚ إِمَّا يَبۡلُغَنَّ عِندَكَ ٱلۡكِبَرَ أَحَدُهُمَآ أَوۡ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُل لَّهُمَآ أُفّٖ وَلَا تَنۡهَرۡهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوۡلٗا كَرِيمٗا الایۃ(الاسراء۔آیۃ 23)-
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2