السلام علیکم ورحمۃ اللہ ، مفتی صاحب ! میرے ایک جاننے والے جناب غیاث الدین صاحب کا انتقال ہو گیا ہے ، مرحوم کے کفن دفن ، ادائیگی دین ومہر اور وصیت پوری کرنے کے بعد چار کروڑ ستر لاکھ (بنگلہ دیشی ٹکے) بچ گئے ہیں ، اور میت نے اپنے پیچھے والدہ ، ایک بیوہ ، ایک لڑکا ، دو لڑکیا ں ، چار بھائی اور پانچ بہنیں چھوڑی ہیں ، کچھ عرصہ بعد مرحوم کی والدہ کا بھی انتقال ہو گیا اور والدہ نے اپنے ورثاء میں چار بیٹے اور پانچ بیٹیاں چھوڑی ہیں، جبکہ غیاث الدین کے والد کا انتقال مرحوم کی زندگی میں ہو چکا تھا ، اب آپ رہنمائی فرمائیں کہ کس کو کتنی رقم ملے گی ۔
حقوق متقدمہ علی المیراث ( کفن دفن کے متوسط مصارف ، واجب الاداء قرضوں کی ادائیگی اور جائز وصیت پر ایک تہائی ( (3/1 کی حد تک عمل کرنے کے بعد اگر یہی رقم چار کروڑ ستر لاکھ(4,70,00000) بچتی ہو اور مرحوم کے بالواسطہ اور بلا واسطہ ورثاء بھی یہی ہوں ان کے علاوہ کوئی اور وارث نہ ہو ، تو مذکور رقم میں سے مرحوم کی بیوہ کو اٹھاون لاکھ پچھتر ہزار (58,75,000)ٹکے ، بیٹے کو ایک کڑور چیاسٹھ لاکھ پنتالیس ہزار آٹھ سو تینتیس (1,66,45,833) ٹکے ، ہر بیٹی کو تریاسی لاکھ بائس ہزار نو سو سولہ (83,22,916)ٹکے ، ہر بھائی کو بارہ لاکھ پانچ ہزار ایک سو اٹھائیس (12,05,128)ٹکے اور ہر بہن کو چھہ لاکھ دو ہزار پانچ سو چونسٹھ (6,02,564) ٹکے دیئے جائیں ۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1