کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی نے دو شادیاں کی ہیں ، ایک بیوی سے اولاد ہے اور دوسری بیوی سے اولاد نہیں ہے ، اب اس آدمی کو یہ اندیشہ ہے کہ میری وفات کے بعد میرے بیٹے بیواؤں اور بہنوں کو حصہ نہیں دینگے ، اسکے پیش نظر وہ اپنی جائیداد زندگی میں ہی تقسیم کرنا چاہتا ہے ، لہذا اس حوالہ سے شرعی رہنمائی فرمائیں ۔
واضح ہو کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلا ہونے سے قبل اپنے مال و جائیداد کا تنہا مالک ہوتا ہے ، وہ اس میں جس طرح چاہے تصرف کر سکتا ہے ، اس کے ذمہ اپنی زندگی میں اپنی اولاد کے درمیان مال جائیداد تقسیم کرنا لازم نہیں ہے ، اور نہ ہی کسی بیٹے یا بیٹی کو اس میں حصہ داری کےمطالبہ کا حق حاصل ہے ، لہذا صورت مسئولہ میں مذکور شخص کے ذمہ بھی اپنی زندگی میں اپنا مال و جائیداد اولاد کے درمیان تقسیم کرنا کوئی لازم اور ضروری نہیں ، البتہ شخص مذکور اپنی مرضی سے بلا کسی جبر و اکراہ اپنا مال و جائیداد اپنی اولاد میں تقسیم کرنا چاہے تو شرعا ایسا کرنا بھی جائز اور درست ہے ، مگر یہ تقسیم ترکہ نہیں بلکہ ھبہ اور گفٹ کہلاتا ہے جس کا بہتر اور مستحب طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنی بقیہ زندگی کے لئے محتاط اندازے کے مطابق جو کچھ رکھنا چاہے وہ رکھ کر اور اپنی بیویوں کوجو کچھ دینا چاہے وہ دیکر بقیہ مال و جائیداد اپنی اولاد (بیٹوں اور بیٹیوں ) میں تقسیم کرکے ہر فرد کو اس کے حصہ پر باضابطہ مالکانہ قبضہ بھی دیدے تاکہ یہ ہبہ اور گفٹ شرعا بھی درست ہو جائے ، محض کاغذات میں نام کر دینا یا زبانی کلامی دینا کافی نہیں ، پھر بہتر یہ ہے کہ اس ھبہ اور اعطاء میں سب اولاد (بیٹوں اور بیٹیوں )کو برابر و یکساں رکھے کسی کو کم کسی کو زیادہ نہ دے کہ سب ہی اسکی اولاد ہیں ، البتہ اگر کسی بیٹے ، بیٹی کی خدمت گزاری ، دینداری و غیرہ کی بناء پر اسے دوسری اولاد کے مقابلے میں کچھ زیادہ دینا چاہے تو شرعا اس کی بھی اجازت ہے ، مگر بلا وجہ کسی وارث کو اپنی جائیداد سے بالکل محروم نہ کرے یہ گناہ ہے۔
کما فی البحر الرائق: یکرہ تفضیل بعض الاولاد علی البعض فی الھبۃ حالۃ الصحۃ(الی قولہ)وفی الخلاصۃ المختار التسویۃ بین الذکر و الانثی فی الھبۃ(کتاب الھبۃ۔ج 7 ص 788)۔
وفی رد المحتار : ولو وھب شیئا لاولادہ فی الصحۃ واراد تفضیل البعض علی البعض روی عن ابی حنیفہ لا باس بہ اذا کان التفضیل لزیادۃ فضل الدین الخ (ج 4 ص 444)۔
وفی الھندیۃ: ومنھا (من شرائط الھبۃ) ان یکون الموھوب مقبوضا حتی لا یثبت الملک للموھوب لہ قبل القبض الخ (ج 4 ص 374)۔واللہ اعلم
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1