کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ مسمی نیلم بی بی بنت فضل ربی تحریر کرتی ہوں: کہ شادی کو دوسال گزر گئے، اس عرصہ کے دوران شوہر نے میرے حقوق زوجیت ادانہیں کئے، جس کی وجہ سے ذہنی اذیت میں مبتلاء ہو چکی ہوں اور پریشان ہوں ، یہ شادی ہم دونوں اور خاند ان کی رضامندی سے ہوئی تھی، حق مہر دو تولہ سونےکے طلائی زیورات مقرر ہواتھا، جب سے شادی ہوئی چھٹے دن سے لڑکے کا رویہ ٹھیک نہیں تھا، ہم نے دو سال صبر کیا ،اور شوہر کے رویہ کا انتظار کیا، لیکن ان کا رویہ مسلسل بگڑتا گیا، اب میں اپنی زندگی سے بیزار ہو چکی ہوں اور شوہر سے طلاق لینے کی خواہش مندہوں، اور طلاق لینے کی صورت میں میرا جوحق مہر ہے ، میں اس کی حق دار ہوں یا نہیں؟ لڑکے والے مہر دینے سے انکاری ہیں، اور لڑکے والے کہتے ہیں کہ تم اپنی مرضی سے طلاق لے رہی ہو، لہذا تم مہر کی حقدار نہیں ہو، براہ مہربانی اس مسئلہ کاحل کیا ہے، از روئے شریعت بتائیں۔
سائلہ کا بیان اگر واقعۃ درست اور مبنی بر حقیقت ہو ، اس میں کسی بھی قسم کی غلط بیانی اور الزام تراشی سے کام نہ لیا گیا ہو، اور واقعۃ رخصتی کے بعد سے لیکر اب تک شوہر نے نامردی کی وجہ سے ایک مرتبہ بھی ہمبستری نہ کی ہو اور علاج ومعالجہ کے باوجود شوہر ہمبستری کرنےپر قادر نہ ہو تو ایسی مجبوری کی صورت میں سائلہ طلاق کا مطالبہ کرسکتی ہے اور اس صورت میں وہ گنہگار بھی نہ ہوگی اور طلاق کی صورت میں سائلہ حق مہر کی بھی حقدار ہوگی ،البتہ اگر شوہر حق مہر معاف کیے بغیر طلاق دینے پر راضی نہ ہو تو ایسی صورت میں سائلہ حق مہر کے بدلے طلاق لیکر علیحدگی اختیار کرسکتی ہے، مگر اس صورت میں سائلہ حق مہر کی حقدار نہ ہوگی۔
کماقال الله تعالى : وآتوا النساء صدقاتھن نحلة ( سورة النساء، الآیۃ: 4)۔
وفي الهندية : والمهر یتأكد بأحد معان ثلاثة الدخول والخلوة الصحيحة وموت أحد الزوجين سواء كان مسمىً أو مهرالمثل حتى لا يسقط منه شيء بعد ذلك إلا بالابراء من صاحب الحق كذا في البدائع الخ (ج 1، ص 33، ط: ماجدية)۔
شادی شدہ عورت اگر کسی کے ساتھ بھاگ کر چلی جائے تو اس کا نکاح ختم ہو جاتاہے؟نیز اس عورت کو ازخود قتل کیا جاسکتا ہے ؟
یونیکوڈ تفریق و تنسیخ 1