ہماری والدہ کے انتقال کو سات سال گزر گئے ہیں، ان کی قبر کے برابر میں بہت اونچی قبر بنا دی گئی ہے، اور کسی نے چھوٹے بچے کی قبر بنانے کے لئے ہماری والدہ کی قبر کے کنارے پر قبضہ کرکے بچے کی قبر کا چھوٹا سا حصہ لے لیا ہے، اور دیگر لوگ والدہ کی قبر نیچے ہونے کی وجہ سے کوڑا اور جھاڑ جھنکار پھینکتے رہتے ہیں، کیا ایسی صورت میں ہم ابھی والدہ کی سات سال پرانی قبر کو برابر والی قبر جتنا اونچا کروا سکتے ہیں؟ یا یہ غلط اور گناہ میں شامل ہوگا؟
صورتِ مسئولہ میں مرحومہ کی قبر کو برابر والی قبر کے برابر اونچا کرنا تو درست نہیں جس سے احتراز لازم ہے، البتہ اگر مذکور قبر سطحِ زمین کے برابر ہوچکی ہو تو ایک بالشت کی حدتک اس کو اونچا کیا جاسکتا ہے، اور بطورِ حفاظت اس کے اردگرد اگر چھوٹی سی دیوار بنا دی جائے تو یہ بھی درست ہے۔
کما فی ادرالمختار: وفی الظھیریۃ وجوبا قدر شبر (ولا یجصص) للنھی عنہ (ولا یطین ولایرفع علیہ بناء وقیل لاباس بہ وھو المختار) الخ (ج2 صـ237 کتاب الصلاۃ باب صلاۃ الجنازۃ ط: سعید)۔