السلام علیکم!
سر ہم دو بھائی اور پانچ بہنیں ہیں، والد ترکہ میں ایک مکان چھوڑ کر گئے ہیں، والد کی وفات کے بعد میں اپنے بھائی کے حق میں دست بردار ہوگیا،اور اپنا الگ مکان لےلیا، میرا سوال یہ ہے کہ وراثت کے اس مکان سے اپنی بہنوں کو انکا حق دینا میری ذمہ داری ہوگی، جبکہ میں خود اس سے دست بردار ہوں، اور اگر میرا بھائی وہ مکان اپنے پاس رکھنا چاہتاہو، تو کیا وہی ذمہ دار ہوگا سب بہنوں کو انکا حصہ دینے کا؟ براہِ مہربانی رہنمائی فرمائیں اس موقع پر مجھ پر کیاشرعی فرض لازم ہے؟جزاک اللہ خیراً
واضح ہوکہ اگر کوئی وارث ترکہ لینے سے انکار کردے یا دستبردار ہوجائے تواس کے باوجود اس کا شرعی حق ختم نہیں ہوتا، بلکہ بدستور وہ اپنے حصۂ شرعیہ کا حقدار ہوتاہے۔
چنانچہ سائل بھی اگر اپنے بھائی کے حق میں دستبردار ہوچکا ہو تو اس سے اس کا شرعی حق ختم نہیں ہوا، بلکہ اب بھی وہ اپنے حصۂ شرعیہ کا حقدار ہے، لہذا سائل کو چاہیئے کہ والد مرحوم کا ترکہ تمام ورثاء میں حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم کرکے اس فریضہ سے سبکدوشی حاصل کرے ، ورنہ اخروی پکڑ سے سبکدوشی نہ ہوسکے گی۔
اس کے بعد واضح ہو کہ سائل کے والد مرحوم کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق ان کے ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے انتقال کے وقت جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد، سونا، چاندی، نقد رقم اور ہرقسم کا چھوٹا بڑا گھریلو سازوسامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے، وہ سارا کا سارا مرحوم کا ترکہ ہے، جس میں سے سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ مرحوم کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا تو وہ اداکریں، اس کے بعد دیکھیں کہ مرحوم نے اگر کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) حصے کی حد تک اس پر عمل کریں، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل نو (9) حصے بنائے جائیں، جن میں سے ہر بیٹے کو دو (2) حصے، ہر بیٹی کو ایک (1) حصہ دیدیا جائے،
کما فی الدرالمختار: (لا) تتم بالقبض (فیما یقسم) وھبہ(لشریکہ) او لاجنبی لعدم تصور القبض الکامل کما فی عامۃ الکتب فکان ھذا المذھب وفی الصیرفیۃ عن العتابی وقیل یجوز لشریکہ وھو المختار(فان قسمہ وسلمہ صح)لزوال المانع(ولو سلمہ شائعا لایملکہ فلا ینفذ تصرفہ فیہ (ج5 صـ692 کتاب الھبۃ ط: ایچ ایم سعید)۔
وفی رد المحتار: تحت( قولہ: ولو سلمہ شائعا الخ) قال فی الفتاوی الخیریۃ: ولاتنفذ الملک فی ظاھر الروایۃ قال الزیلعی: ولو سلمہ شائعا لایملکہ حتی لاینفذ تصرفہ فیہ فیکون مضمونا علیہ وینفذ فیہ تصرف الواھب ذکرہ الطحاوی (الی قولہ) ولو کان ذارحم محرم من الواھب قال فی الجامع الفصولین رامزالفتاوی الفضلی ثم ھلکت افتیت بالرجوع للواھب ھبۃ فاسدۃ لذی رحم محرم منہ اذ الفاسدۃ مضمونۃ علی مامر فاذا کانت مضمونۃ بالقیمۃ بعد الھلاک کانت مستحقۃ الرد قبل الھلاک اھ وکما یکون للواھب الرجوع فیھا یکون لوارثہ بعد موتہ لکونھا مستحقۃ الرد الخ (ج5 ص692 کتاب الھبۃ ط: ایچ ایم سعید)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2