السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ میرے والدین کا انتقال ہوگیا ہے ، جن سے ہم تین بھائی اور تین بہنیں ہیں،لیکن والدہ کا انتقال پہلے ہواتھا،اور والد صاحب کا بعد میں جبکہ والد نے ہماری والدہ کی وفات کے بعد دوسری شادی کرلی تھی جبکہ ہماری سوتیلی ماں سے ہمارا کوئی بہن بھائی نہیں ہے ،برائے مہربانی شریعت کی رو سے میراث تقسیم کرنے کا طریقہ کا بتادیجیے ؟
نوٹ : اب والد کی جائیداد تقسیم کرنی ہے ،تو کس طرح تقسیم ہوگی ؟
واضح ہو کہ سائل کےوالد مرحوم کا ترکہ اس کے موجود تمام ورثاء میں اصولِ میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا ، چاندی ، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، اس میں سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض یا بیوہ کا حقِ مہر واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) حصہ کی حد تک اس پر عمل کریں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل (6) حصے بنائےجائیں ، جن میں سے مرحوم کی بیوہ کو (9) حصے ، ہر بیٹے کو(14 ) حصے ، جبکہ ہر بیٹی کو (7) حصے دیے جائیں -
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2