وضو

پیشاب کے قطروں کے مریض کی طہارت کا حکم

فتوی نمبر :
71047
| تاریخ :
2024-02-19
طہارت و نجاست / طہارت / وضو

پیشاب کے قطروں کے مریض کی طہارت کا حکم

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ! گزارش ہے کہ کافی عرصے سے پیشاب کے قطروں کا مسئلہ ہے. کافی علاج کروایا مگر افاقہ نہیں ہوا. پہلے تو میں شلوار کے اس حصے کو گیلا کر لیتا تھا مگر اس کے باوجود میرا دل مطمئن نہیں ہوتا تھا. اب میں چھوٹے پیشاب والی جگہ پر شاپر باندھ لیتا ہوں اور اسی حالت میں نماز پڑھ لیتا ہوں اور اسی حالت میں ذکر بھی کرتا رہتا ہوں. کیا اس طرح شاپر باندھ کر نماز اور ذکر پڑھنے سے میں گناہ گار تو نہیں ہوں. کیا میری نماز اور عبادات قبول ہوسکتی ہیں ، برائے مہربانی رہنمائی فرما دیں جزاکم اللہ خیرا

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

عضو خاص پر شاپر باندھ کر نماز پڑھنے اور ذکر کرنے سے اگر چہ سائل گناہ گار تو نہ ہوگا ، تاہم سائل کو اگر پیشاب کے قطرے اس قدر تسلسل کے ساتھ نہ آتے ہوں کہ جسکی وجہ سے نماز کے پورے وقت میں اسے پاکی کیساتھ فقط فرض نماز پڑھنے کا وقت بھی میسر نہ ہو ، بلکہ قضاءِ حاجت کے بعد کچھ وقت کےلئے قطرے آتے ہوں، تو ایسی صورت میں سائل شرعاً معذور شمار نہ ہو گا، بلکہ سائل کو چاہیئے کہ نماز سے کچھ وقت پہلے قضاءِ حاجت سے فارغ ہو کر انتظار کرے اور جب قطرے آنا بند ہو جائیں، تو اسکے بعد وضو کر کے نماز پڑھے ، البتہ اگر سائل کو پیشاب کے قطرے اس قدر تسلسل کیساتھ آتے ہوں کہ اس بیماری کے دوران کسی بھی نماز کے پورے وقت میں عذر کے تسلسل کیوجہ سے اسے اتنا وقت بھی نہ ملےجس میں وہ کامل طہارت کے ساتھ وقتیہ فرض نماز ادا کر سکے ، تو اس صورت میں سائل شرعاً معذور کے حکم میں داخل ہو جائیگا، اور تفصیل اس حکم کی یہ ہے کہ مثلاً ادائیگئِ ظہر کیلئے وہ ظہر کے شروع وقت سے اخیر وقت تک انتظار کرے ، اگر اسے اس دوران اتنا وقت نہ ملے کہ وہ کامل طہارت کے ساتھ نمازِ ظہر ادا کر سکے تو عصر کا وقت داخل ہونے سے قبل ظہر کے اخیر وقت میں وضو کر کے فقط فرض نمازِ ظہر ادا کرے، اسکے بعد نمازِ عصر کی ادائیگی کیلئے پورا وقت انتظار کرنے کی ضرورت نہیں، بلکہ جماعت سے پہلے وضو کر کے نماز عصر باجماعت ادا کر لے اس دوران اگر پیشاب کے قطرے نکلتے بھی رہیں، تو اس سے وضو نہیں ٹوٹے گا، اسی طرح مغرب و عشاء میں بھی وہ ایسا ہی کرے ، کہ ہر نماز کے لئے الگ الگ وضو کر لیا کرے، اس پورے وقت میں اگر اسکے علاوہ کوئی دوسرا ناقضِ وضو نہ پایا گیا، تو مذکور عذر کے بار بار صادر ہونے سے اس کا وضو نہیں ٹوٹے گا۔البتہ اس دوران اگر پورا وقت نماز کوئی ایسا گزر جائے کہ اس پورے وقت میں یہ عذر اسے ایک مرتبہ بھی لاحق نہ ہوا ہو تو شرعاً وہ معذور نہیں رہے گا، اس مسئلہ کو اچھی طرح سمجھ کر اسکے موافق عمل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار: (وصاحب عذر من به سلس) بول لا يمكنه إمساكه (أو استطلاق بطن أو انفلات ريح أو استحاضة) أو بعينه رمد أو عمش أو غرب، وكذا كل ما يخرج بوجع ولو من أذن وثدي وسرة (إن استوعب عذره تمام وقت صلاة مفروضة)بأن لا يجد في جميع وقتها زمنا يتوضأ ويصلي فيه خاليا عن الحدث (ولو حكما) لأن الانقطاع اليسير ملحق بالعدم (وهذا شرط) العذر (في حق الابتداء، وفي) حق (البقاء كفى وجوده في جزء من الوقت) ولو مرة (وفي) حق الزوال يشترط (استيعاب الانقطاع) تمام الوقت (حقيقة) لأنه الانقطاع الكامل.(وحكمه الوضوء) لا غسل ثوبه الخ (ج 1 ص 305 ط:سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد حذیفہ حسن عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 71047کی تصدیق کریں
0     813
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات