سائل بشیر احمد ولد نور محمد !
سائل کے والد نور محمد مرحوم نے پہلے مسماۃ پنہ صاحبہ سے شادی کی جن سے بشیر احمد اورخدیجہ مرحومہ پیدا ہوئے ، نورمحمد مرحوم نے اپنی پہلی بیوی مسماۃ پنہ مرحومہ کو طلاق دے دی ، نور محمد مرحوم نے دوسری شادی مسماۃ اللہ رکھی (بیوہ ) سے کی ، (بیوہ الله رکھی کی پہلے شوہر سے کوئی اولاد نہیں ہے) نور محمد مرحوم سے شادی ہونے کے بعد اللہ رکھی سے ایک لڑکی پیدا ہوئی جس کا نام ہاجرہ بی بی ہے ، نور محمد مرحوم کی وفات غالباً 97 19یا 1998ء میں ہوئی ، جب نور محمد کا انتقال ہوا ، اس وقت ان کے والدین حیات نہیں تھے ، ان کی پہلی سابقہ مطلقہ بیوی مسماۃپنہ حیات تھی ، بیٹی مسماۃ خدیجہ کا نور محمد مرحوم سے پہلے انتقال ہو گیا تھا ، بیٹا بشیر احمد حیات ہے ، دوسری بیوی مسماۃ اللہ رکھی مرحومہ حیات تھی ، دوسری بیوی مسماۃ اللہ رکھی سے جو بیٹی پیدا ہوئی، مسماۃ ہاجرہ بی بی وہ ابھی بھی حیات ہے ، سائل بشیر احمد نے اپنی دوسری سوتیلی والدہ مسماۃ اللہ رکھی کی تقریباً 25 سال اللہ تعالٰی کی رضاء کے لئے جانی و مالی خدمت کی ، مسماۃ اللہ رکھی نے انتقال کی رات اپنی بیٹی مسماۃ ہاجرہ بی بی کو بلوایا اور اپنی بیٹی ہاجرہ بی بی سے کہا بشیر احمد نے میرے سگے بیٹے کی طرح میری بہت خدمت کی ہے ، لہذا تم میرا وہ حصہ جو تمہارے والد نور محمد مرحوم سے بنتا ہے ، وہ اور یہ سونے کی چار عدد بالیاں ان سب کا بشیر احمد سے مطالبہ نہیں کرنا ، یہ میں نے بشیر احمد کو دے دی ہیں ، ہاں جو حصہ تمہارا نور محمد مرحوم سے بنتا ہے ، وہ لے لینا ، پھر اسی رات مسماۃ اللہ رکھی کا انتقال ہو گیا ( 2018 میں) ، بشیر احمد نے اپنی سوتیلی والدہ مسماۃ اللہ رکھی کے انتقال کے بعد سونے کی چاروں بالیاں فروخت کرکے 90 ہزار اپنی سوتیلی والدہ مسماة اللہ رکھی کی تجہیز و تکفین میں لگا دیے ، باقی 10 ہزار روپے اپنی سوتیلی بہن مسماۃ ہاجرہ بی بی کو دیے اور کہا یہ تیری بیٹی مسماۃ شائی کے لئے ہیں ، مسماۃ ہاجرہ بی بی غالباً تین سال ( اپنی والدہ مسماۃ اللہ رکھی کے انتقال کے بعد) تک کہتی رہی ، میں بشیر احمد سے کچھ نہیں لوں گی ، جو میرا حصہ میری والدہ مسماۃ اللہ رکھی سے بنتا ہے -
اب مسماۃ ہاجرہ بی بی کہتی ہیں کہ میرا شوہر اور میرے چھ بیٹے مطالبہ کر رہے ہیں کہ تم بشیر احمد سے ہماری نانی مسماۃ اللہ رکھی کے ترکہ سے جو آپ کا حصہ بنتا ہے ، وہ لیں ۔ اب آپ حضرات فرمائیں بشیر احمد کو کیا کرنا چاہیئے ؟ بشیر احمد کے والد نور محمد نے تقریباًچار ایکڑ زمین چھوڑی ہے، اس زمین کو بشیر احمدفروخت کرنا چاہتا ہے ۔
نوٹ : (1) تجہیز و تکفین کے اخراجات کی ترتیب یہ تھی کہ کفن و غیره خریداری کے علاوہ باقی رقم موقع پر آنے والے مہمانوں کو کھانے وغیرہ کھلانے کے اخراجات میں نوے ہزار خرچ ہوئے، اور دس ہزا ر میں نے اپنی بہن کو دیدیے کہ بھانجی کو دیدیں۔
(2) والدہ مرحومہ کے والدین کا اس کی زندگی میں انتقال ہو چکا تھا ، بھائی کوئی بھی نہیں ، ان کے علاوہ دو بہنیں اور تھی
جو ان سے پہلے انتقال کر چکی ہیں ، البتہ ان کی اولادیں ایک بہن کےدو بیٹے دوسری بہن کے چار بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں، والدہ مرحومہ کے ایک چچا ، لیکن ان کا انتقال بھی بہت پہلے ہو چکا ہے ، اسی طرح ان کی بھی دو بیٹیاں تھیں ، لیکن ان کا بھی بہت پہلے انتقال ہو چکا ہے۔ اور ان کی مزید تفصیلات معلوم بھی نہیں ۔
(3) سائل بشیر احمد سے بذریعہ فون معلوم ہوا کہ سائل کی سوتیلی والدہ مرحومہ نے اپنی زندگی میں صحت یابی میں مذکور چار عدد بالیاں مالکانہ قبضہ کی ساتھ حوالہ بھی کی تھی۔
واضح ہو کہ نور محمد کی زندگی میں جس بیٹی کا انتقال ہوا ہے، اس کا اپنے مرحوم والد کے ترکہ میں شرعاً کوئی حصہ نہیں ، اسی طرح جس بیوی (مسماۃ پنہ) کو اپنی زندگی میں ہی طلاق دیکر اپنے نکاح سے الگ کر دیا تھا ، تو اس کا بھی مرحوم کے ترکہ میں شرعاً کوئی حصہ نہیں، اور نہ ہی وہ اس کا مطالبہ کر سکتی ہے ۔ جبکہ سوال میں ذکر کردہ وضاحت کے مطابق چونکہ سائل کی سوتیلی والدہ مرحومہ نے مرحوم شوہر کے ترکہ میں سے ملنے و الا حصہ فقط ز بانی طور پرسائل کو دیا تھا تو سائل مذکو ر حصہ کا مالک نہیں بنا ، لہذا اب مرحومہ کے انتقال کے بعد سائل اس حصہ کا مطالبہ نہیں کر سکتا، البتہ سونے کی بالیاں اگر انہوں نے مرض الوفات میں مبتلا ہونے سے قبل صحت اور تندرستی کی حالت میں باقاعدہ مالکانہ قبضہ کے ساتھ سائل کو دیدی تھیں تو سائل اس کا مالک بن چکا تھا ، لہذا مذ کور بالیاں فروخت کرکے جو رقم حاصل کی اور اپنی سوتیلی والدہ کے کفن دفن وغیرہ کے اخراجات میں وہ رقم قرض کی صراحت کے بغیر صرف کی تو یہ سائل کی طرف سے تبرع شمار ہوگا، لہذا سائل کے لئے مذکور قم کا مطالبہ کرنا درست نہیں۔
اس کے بعد واضح ہو کہ سائل کے مرحوم والد کی میراث اس کے موجود ورثاء میں اصولِ میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگی کہ مرحوم نے بوقت انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا ، چاندی ، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑاگھریلو ساز سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے ، جس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعددیکھیں کہ اگر اس کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3)کی حد تک اس پر عمل کریں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل چوبیس (24) حصے بنائے جائیں ، جن میں سے مرحوم کے بیٹے کو چودہ ( 14) حصے، بیٹی کودس (10) حصے دیئے جائیں -
كما في الدر المختار: وشرائط صحتها ( في الموهوب أن يكون مقبوضا غیر مشاع مميزا غير مشغول الخ ) كتاب الهبة ، ج ۵،ص، 16 ، ط : سعید)-
وفي رد المحتار تحت قولہ ھی علم بأصول الخ ) و شروطه ثلاثة : موت مورث حقيقة أو حكما ( إلى قوله) ووجود وارثه عند موته حيا حقيقة أو تقديرا کالحمل الخ (كتاب الفرائض ، 6 ، ص ۷۵ ، : سعید)-
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2