زید کا انتقال ہو گیا ہے، اس کے ورثہ میں تین بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے ، زید کے ماں باپ اور اس کی بیوی کا پہلے ہی انتقال ہو چکا تھا، کیا یہ سب ورثاء(تین بیٹیاں اور ایک بیٹا) آپس میں صلح کے ذریعے ترکہ تقسیم کر سکتے ہیں؟ زید کے ترکہ میں کچھ مکان، کچھ دکانیں، کچھ زمین اور کچھ کیش ہے، نیز کیا بہنیں اپنی مرضی سے ان کے آنے والے حصے میں سے کچھ حصہ رکھ کر باقی کچھ حصہ چھوڑ سکتی ہیں ؟
زید نے بوقت انتقال اپنی ملکیت میں جو کچھ چھوڑا ہے وہ سارا کا سارا زید کا ترکہ ہے، جس میں حقوق متقدمہ علی المیراث کی ادائیگی کے بعد زید کی تمام اولاد (بیٹے بیٹیاں) اپنے اپنے حصوں کے, شرعی اصول کے بقدر حقدار ہے، چنانچہ مرحوم کا ترکہ شرعی حصص کے مطابق بیٹے اور بیٹیوں کے درمیان تقسیم کرنا لازم ہے، البتہ اگر تمام ورثاء عاقل بالغ ہوں اور دلی خوشی و رضامندی سے ترکہ آپس میں تقسیم کریں یا بہنیں برضاء و خوشی بلا کسی جبر و اکراہ ترکہ میں سے کچھ لیکر اپنے باقی حصے سے بھائی کے حق میں دستبردار ہوجائیں، تو شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں، بشرطیکہ صلح و تخارج کے شرائط کا لحاظ رکھا جائے۔
کما قال اللہ تعالی: يُوصِيكُمُ ٱللَّهُ فِيٓ أَوۡلَٰدِكُمۡۖ لِلذَّكَرِ مِثۡلُ حَظِّ ٱلۡأُنثَيَيۡنِۚ فَإِن كُنَّ نِسَآءٗ فَوۡقَ ٱثۡنَتَيۡنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَۖ وَإِن كَانَتۡ وَٰحِدَةٗ فَلَهَا ٱلنِّصۡفُۚ وَلِأَبَوَيۡهِ لِكُلِّ وَٰحِدٖ مِّنۡهُمَا ٱلسُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِن كَانَ لَهُۥ وَلَدٞۚ فَإِن لَّمۡ يَكُن لَّهُۥ وَلَدٞ وَوَرِثَهُۥٓ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ ٱلثُّلُثُۚ فَإِن كَانَ لَهُۥٓ إِخۡوَةٞ فَلِأُمِّهِ ٱلسُّدُسُۚ مِنۢ بَعۡدِ وَصِيَّةٖ يُوصِي بِهَآ أَوۡ دَيۡنٍۗ ءَابَآؤُكُمۡ وَأَبۡنَآؤُكُمۡ لَا تَدۡرُونَ أَيُّهُمۡ أَقۡرَبُ لَكُمۡ نَفۡعٗاۚ فَرِيضَةٗ مِّنَ ٱللَّهِۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمٗا (النساء: 11)۔
وفی مشکاۃ المصابیح: وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة» . رواه ابن ماجه (ج2،ص 926، رقم:3087)۔
وفی البحر الرائق: لو قال وارث تركت حقي لا يبطل حقه إذ الملك لا يبطل بالترك الخ (ج5،ص243)۔
وفی الفقہ الاسلامی و ادلتہ: ليس المرء حراً بالتصرف في ماله بعد وفاته حسبما يشاء كما هو مقرر في النظام الرأسمالي، وإنما هو مقيد بنظام الإرث الذي يعتبر في الإسلام من قواعد النظام الإلهي العام التي لا يجوز للأفراد الاتفاق على خلافها، فالإرث حق جبري الخ (ج7،ص4948، ط: دار الفکر)۔
وفی الہندیۃ: إذا كانت التركة بين ورثة فأخرجوا أحدهما منها بمال أعطوه إياه والتركة عقار أو عروض صح قليلا كان ما أعطوه أو كثيرا وإن كانت التركة ذهبا فأعطوه فضة أو كانت فضة فأعطوه ذهبا فهو كذلك لأنه بيع الجنس بخلاف الجنس فلا يشترط التساوي الخ (الباب الخامس عشر في صلح الورثة والوصي في الميراث والوصية، ج4، ص 268، ط: ماجدیہ)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2