کیا طوافِ زیارت اور حج کی سعی قربانی سے پہلے کرنا جائز ہے؟ رش اور طبیعت کو دیکھتے ہوئے یا ہر حال میں قربانی کے بعد ہی کریں؟
واضح ہو کہ رمی جمار، قربانی اور حلق کے بعد طوافِ زیارت اور (اگر پہلے سعی نہ کی ہو تو ) اُس کے بعد سعی کرنا سنت ہے، اور بلا عذر طوافِ زیارت کو ان افعال (قربانی وغیرہ) پر مقدم کرنا مکروہ ہے، لہٰذا اگر کوئی عذر نہ ہو تو قربانی کے بعد ہی طوافِ زیارت ادا کرنے کا اہتمام کرنا چاہیئے، البتہ اگر کوئی عذر ہو تو ایسی صورت میں قربانی سے قبل بھی طوافِ زیارت اور سعی ادا کی جاسکتی ہے۔
کما فی الدر المختار: فيجب في يوم النحر أربعة أشياء: الرمي، ثم الذبح لغير المفرد، ثم الحلق ثم الطواف، لكن لا شيء على من طاف قبل الرمي والحلق؛ نعم يكره , لباب و قد تقدم اھ (ج2،صـــ555،ط:سعید)۔
وفی غنیۃ الناسک: ولو طاف قبل الرمي والحلق لا شيء علیه ویکره اھ (صـــ280،ط:ادارۃ القرآن)۔
وفیھا أیضاً: والترتیب بین الثلاثۃ الرمی ثم الذبح ثم الحلق علی ترتیب حروف قولک رذح للقارن والمتمتع اما الطواف فلایجب ترتیبہ علی شئ من الثلاثۃ إلا أن السنۃ أن یکون بعد الحلق فلو طاف قبل الکل أو البعض لا شئ علیہ ویکرہ اھ (صـــ22،ط:ادارۃ القرآن)۔