جناب اعلیٰ ! ہم زیرِ دستخط 1 -غلام واحد ولد غلام محمد 2-عمر واحد ۳-فضل واحد ۴- نور محمد 5- عمر محمد6-محمد واحد مستانہ (مرحوم ) 7-محمد شاہین خان جن میں سے ہمارے بڑے بھائی غلام واحد جو کہ والدین کی حیات میں ہم سے علیحدہ ہو گیا تھا، اسکے بعد مورخہ 19-12-2015 کو ہمارے بڑے بھائی غلام واحد کا انتقال ہو گیا، جس کے بعد مورخہ 2020-01-07 کو ہماری والدہ صاحبہ اور مورخہ 2022-08-24 کو ہمارے والد صاحب کا بھی انتقال ہو گیا، جبکہ ہمارے مرحوم والد نے اپنی زندگی میں ہمارے بڑے بھائی کی زندگی میں اس کی وصیت بھی لکھوادی تھی جس کی کاپی ساتھ منسلک ہے۔،اب اس مرحوم بیٹے کی اولاد کا دعوی ہے کہ ہمیں جائیداد میں سے اپنا پورا حصہ چاہیئے ، جبکہ اپنے آبائی گاؤں میں جو زمینیں فروخت کی گئیں اس میں سے مرحوم غلام واحد کے وارثین کو دیدیا گیا تھا، ہم سب وارثین اپنے والد صاحب کی وصیت کے مطابق دولاکھ روپے مرحوم کے بچوں کو دینے کو تیار ہیں، آپ سے اس مسئلہ پر شرعی اور اسلامی فتوی درکار ہے کہ اگر والدین کی حیات میں اگر ان کی اولاد کا انتقال ہو جائے تو کیا مرحوم کے بچوں کا بھی کوئی حصہ بنتا ہے؟ اگر بنتا ہے تو کس تناسب سے مرحوم کے بچوں کو حصہ ملنا چاہیئے ؟ گزارش ہے کہ فتوی جاری کر دیجئے۔
واضح ہو کہ جس بیٹے یا بیٹی کا انتقال اپنے والدین کی زندگی میں ہو جائے ، تو اس کا یا اس کی اولاد کا اس کے والدین مرحومین کی میراث میں شرعاً کوئی حصہ نہیں ہوتا اور نہ ہی انہیں ترکہ میں حصہ داری کے مطالبہ کا حق حاصل ہوتا ہے ، لہذا صورتِ مسئولہ میں غلام واحد مرحوم یا اس کی اولاد کا سائل کے والدین مرحومین کے ترکہ میں شرعاً کوئی حصہ نہیں، اور چونکہ سائل کے بڑے بھائی کا والد کی زندگی میں ہی انتقال ہوگیا تھا اور وصیت بھی بیٹے کے حق میں تھی، لہذا وصیت کالعدم شمار ہوگی، البتہ اگر تمام ورثاء عاقل بالغ ہوں اور سب ملکر والد مرحوم کی وصیت پورا کرتے ہوئے اپنے بھتیجے بھتجیوں کو وصیت کے مطابق کچھ دینا چاہیں، تو انہیں اس بات کا مکمل اختیار حاصل ہے، لیکن ایسا کرنا شرعاً ان پر لازم نہیں۔
کما قال الله تعالى : لِلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ نَصِيبًا مَفْرُوضًا، وَإِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ أُولُو الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينُ فَارْزُقُوهُمْ مِنْهُ وَقُولُوا لَهُمْ قَوْلًا مَعْرُوفًا اھ (النساء آیۃ: 8،7)۔
و فی التفسیر الکبیر تحت قولہ تعالیٰ : ( للرجال نصیب مما ترک الوالدان و الاقربون الآیۃ ) انہ تعالیٰ قال فی آخر الآیۃ ( نصیبا مفروضا ) ای نصیباً مقدراً ، و بالاجماع لیس لذوی الارحام نصیب مقدر ، فثبت انھم لیسوا داخلین فی ھذہ الایۃ الخ ( سورۃ النساء الایۃ : ج 7صــــ 158 ط : دار الکتب ) ۔
و فیہ ایضا : ( و اذا حضر القسمۃ اولو القربیٰ الآیۃ) ان الذین لا یرثون (الی قولہ ) انما قدم الیتامی علی المساکین لان الضعف الیتامی اکثر، وحاجتھم اشد، فکان وضع الصدقات فیھم افضل و اعظم فی الاجر الخ ( سورۃ نساء : آیۃ : 8 ج 5 صـــ 160 ط : دار الکتب) ۔
وفی مشکاۃ المصابیح: لا وصیۃ لوارث الا ان یشاء الورثۃ اھ (ج 2، ص 925)۔
وفي رد المحتار : تحت ( قوله : هي علم بأصول الغ) واركانه : ثلاثة وارث ومورث و موروث، وشروطه : ثلاثه مورث موروث حقيقة أو حكماً لمفقود أو تقديراً لجنين فيه غرة وجود وارثه عند موته حيا حقيقة أو تقديراً کالحمل والعلم بجہۃ ارثه الخ (كتاب الفرائض ، ج:6 ص:758 ط: سعید)۔
وفي الهداية: ولا تجوز لوارثه لقوله عليه السلام ان الله تعالى اعطى كل ذي حق حقه الا لا وصية لوارث ولانه يتاذي البعض بايثار البعض ففى تجويزه قطعية الرحم (الى قوله) الا ان تجيزها الورثة الخ (ج 4: ص:639-640،ط؛رحمانیۃ)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1