میں مسماۃ ”سمیہ رانی ندیم “دختر مرزا محمد سعید مرحوم اور دختر نگہت پروین ، جن کا انتقال بالترتیب 17.2.2017 اور 15.6.2019 ہوگیا تھا ، (وفات سرٹیفکیٹ منسلک ہے ) ،
میں مسماۃ ”سمیہ رانی ندیم “ شناختی کارڈ نمبر 42101-2212381-6 اپنے مرحوم والدین کی اکلوتی اولاد ہوں ، نہ میرا کوئی بھائی ہے اور نہ ہی کوئی بہن ہے ، ثبوت کے طور پر FRC فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ منسلک ہے ،
میرے والدین کے نام پر تین اکاؤنٹ ہیں MEB,UBL اور پوسٹ آفس اکاؤنٹ ہیں ، ٹوٹل 438,104.80 روپے ہیں جنکی میں اکلوتی وارث ہوں ،
مہربانی فرماکر میری شرعی رہنمائی فرمائیں کہ میں کس طرح اپنی جائز وراثت شرعی اور قانونی طور پر حاصل کروں؟
میری شادی 24.7.1999 کو کراچی میں ”شاہد ندیم “ سے ہوئی تھی ، میرے والدین سکھر میں رہائش پذیر تھے ، میں عرصہ 25 سال سے اپنے شوہر کے ساتھ رہائش پذیر ہوں ،
(نوٹ) والدِ مرحوم کے ورثاء میں بیوہ ، ایک بیٹی سمیہ ایک بھتیجا اور بھتیجی موجود تھے ، پھر والدہ کا انتقال ہوا ، جن کے ورثاء میں بیٹی اور دو بھائی ( شاہد پرویز ، شاہد جاوید ) حیات تھے ، بھر بھائی پرویز کا انتقال ہوا ، جس کے ورثاء میں بیوہ (نصرت) ، دو بیٹے ( شاہد رضوان ، شاہد نوید ) ، پھر دوسرے بھائی شاہد جاوید کا انتقال ہوا ، اور ان کے ورثاء میں بیوہ ( بانو پروین )، دو بیٹے (شاہد جنید ، شاہد عبید) ہیں ۔
واضح ہو کہ سائلہ کے والدِ مرحوم کا ترکہ ا س کے موجود تمام ورثاء میں اصولِ میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا ، چاندی ، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، اس میں سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) حصہ کی حد تک اس پر عمل کریں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل (512) حصے بنائے جائیں ، جن میں سے مرحوم (مرزا محمد سعید ) کی بیٹی (سمیہ رانی ندیم ) کو (288) حصے ، بھتیجے کو (192) حصے ، مرحوم ( مرزا محمد سعید ) کے برادرِ نسبتی ” مسمٰی شاہد پرویز “ کی بیوہ ( نصرت ) کو (2 ) حصے ، اور ان کے ہر ایک بیٹے (شاہد رضوان ، شاہد نوید ) کو سات سات (7) حصے ، اور مرحوم (مرزا محمد سعید ) کے برادرِ نسبتی ”مسمٰی شاہد جاوید “ کی بیوہ (بانو پروین ) کو (2) حصے ، جبکہ ان کے بیٹوں میں سے ہر ایک بیٹے ( شاہد جنید ، شاہد عبید ) کو سات سات (7) حصے دیے جائیں -
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2