السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
محترم جناب مفتی صاحب
سوال: سید سرفراز حسین اپریل 2023میں فوت ہوئے، وہ کنوارے تھے، ورثاء میں صرف دو بھائی ( شمیم حسین، مسعود پرویز ) حیات ہیں، ایک بھائی جاوید حسین 2016 میں فوت ہوئے، ایک بہن نوشاد بانو 2008 میں فوت ہوئی، ان کی اولاد موجود ہے، سرفراز حسین کے ترکہ میں ایک مکان ، سونے کے زیورات، قومی بچت سرٹیفیکیٹس اور بینک اکاؤنٹ میں رقم ہے، سرفراز حسین 80 سال سے زائد عمر کے تھے، چلنا پھرنا مشکل تھا، آسانی کے لئے اکاؤنٹ اور سرٹیفیکٹ مسعود پرویز کے ساتھ جوائنٹ کردیے تھے، سرفراز حسین کے ترکہ کی تقسیم کس طرح ہوگی؟
صورتِ مسئولہ میں مرحوم سرفراز حسین کی زندگی میں جس بھائی اور بہن کاانتقال ہوگیا ، تو ان کا یا ان کی اولاد کا مرحوم سید سرفراز حسین کی میراث میں شرعاً کوئی حصہ نہیں ، اور نہ ہی وہ اس کا مطالبہ کرسکتے ہیں ،البتہ اگر مرحوم کے دیگر ورثاء اپنی مرضی سے اپنے بھتیجے، بھتیجیوں اور بھانجے، بھانجیوں کو کچھ دینا چاہیں تو اس کا انہیں اختیار ہے ، مگر ایسا کرنا شرعاً ان پر لازم نہیں ، جبکہ مرحوم سرفراز حسین کے قومی بچت سرٹیفیکیٹس اور اکاؤنٹ میں موجود رقم اگر مرحوم کے بھائی ( مسعود شمیم ) کے پاس بطورِ امانت ہوں تو مذکور رقم اور سرٹیفیکیٹس مرحوم سرفراز حسین کی ملکیت میں شمار ہوکر مرحوم کے انتقال کے بعد ان کے موجودہ ورثاء میں حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہوں گی، جس کی تفصیل ذیل میں آرہی ہے۔
اس کے بعد واضح ہو کہ مرحوم سرفراز حسین کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق اس کے مذکور ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد، سونا ، چاندی ، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض باقی ہو تو وہ ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3 ) کی حد تک اس پر عمل کر کے اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل دو ( 2 ) حصے بنائے جائیں ، جن میں سے مرحوم کے دونوں بھائیوں کو ایک ایک ( 1 ) حصہ دیا جائے -
ففی التفسیر الکبیر تحت قولہ تعالیٰ : ( للرجال نصیب مما ترک الوالدان و الاقربون الآیۃ ) انہ تعالیٰ قال فی آخر الآیۃ ( نصیبا مفروضا ) ای نصیباً مقدراً ، و بالاجماع لیس لذوی الارحام نصیب مقدر ، فثبت انھم لیسوا داخلین فی ھذہ الایۃ الخ ( سورۃ النساء الایۃ : 7 ج صــــ 158 ط : دار الکتب ) ۔
وفیہ ایضا : ( واذا حضر القسمۃ اولو القربیٰ الآیۃ) ان الذین لا یرثون (الی قولہ ) إنما قدم اليتامى على المساكين لأن ضعف اليتامى أكثر، وحاجتهم أشد، فكان وضع الصدقات فيهم أفضل وأعظم في الأجر. الخ ( سورۃ نساء : آیۃ : 8 ج 5 صـــ 159 ط : دار الکتب ) ۔
وفی رد المحتار تحت ( قولہ : ھی علم باصول الخ ) وشروطہ : ثلاثۃ : موت مورث حقیقۃ ، او حکما کمفقود او تقدیرا کجنین فیہ غرۃ ووجود وارثہ عند موتہ حیا حقیقۃ او تقدیرا کالحمل الخ ( کتاب الفرائض ج 6 صــــ 758 ط : سعید ) ۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2