کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرا ایک بندہ کے ساتھ جھگڑا ہوا، جس میں اس نے مجھ سے جھگڑے کے دوران کہا کہ تم نے سنتِ رسول چہرے پر رکھی ہے، میں نے غصہ میں اس کو کہا کہ سنت کی ماں کی آنکھ، لہٰذا اس بارے میں مجھے علماء سے رہنمائی کی درخواست ہے ، میں نے توبہ و استغفار بھی کیا اور اللہ تعالیٰ سے معافی بھی مانگی ہے۔
نوٹ! سائل سے مزید وضاحت کرنے پر معلوم ہوا کہ یہ جملہ عام طور پر ایسے مواقع میں استعمال کیا جاتا ہے، جہاں کسی چیز کو ویلیو اور اہمیت نہ دینا مقصود ہو اور سوال میں بھی جب مذکور شخص نے سائل کو سنت داڑھی رکھنے کا طعنہ دیا تو اس پر سائل نے یہ جملہ کہا۔
سوال میں مذکور الفاظ " ماں کی آنکھ الخ " اگر عام طور پر براہِ راست کسی چیز کی توہین اور تحقیر کے لئے استعمال نہ ہوتے ہوں، بلکہ قول و فعل کو اہمیت نہ دینے کے لئے بولے جاتے ہوں، جیسا کہ سوال کے ساتھ درج نوٹ میں اس کی وضاحت موجود ہے، اور جھگڑے کے دوران مذکور الفاظ کے استعمال سے سائل کی مراد بھی داڑھی اور سنتِ رسول کی توہین نہ ہو، بلکہ سامنے والے کو خاموش کرانا مقصود ہو ،تو اگرچہ یہ الفاظ کفریہ شمار نہیں ہوں گے، لیکن سنت سے متعلق اس طرح کے الفاظ کا استعمال کرنا بے ادبی ضرور ہے، اس لئے سائل کو اپنے اس عمل پر توبہ و استغفار اور آئندہ اس طرزِ عمل سے مکمل اجتناب لازم ہے۔
ففی الفتاوى الهندية: وبعض المتأخرين قالوا: إذا قال ذلك على وجه الإهانة كان كفرا، وبدونه لا يكون كفرا. (إلی قوله) ولو قال: أين جه رسم است سبلت بست كردن ودستار بزير كلو آوردن فإن قال ذلك على سبيل الطعن في سنة رسول الله - صلى الله عليه وسلم - فقد كفر كذا في المحيط الخ ( ج 2 ص 265 ط: ماجدیہ)
و فی رد المحتار تحت ( قولہ والتوبۃ) : وما كان خطأ من الألفاظ ولا يوجب الكفر فقائله يقر على حاله، ولا يؤمر بتجديد النكاح ولكن يؤمر بالاستغفار والرجوع عن ذلك الخ (ج 4 ص 247 ط: سعید) ۔
بدحواسی میں خدا تعالیٰ کو بُرا بَھلا کہنے اور قرآن کریم کو شہید کرنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1اللہ کی قسم ’’میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا اب کسی چیز کو‘‘ کہنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 0اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری کے حق میں نازیبا الفاظ کہنے والے سے متعلق مختلف سوالات
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1