بھائی کی بیوی کا انتقال ہو گیا ہے ، اولاد کوئی نہیں ، مرحومہ کے تین بھائی ، دو بہنیں اور والدہ ہے ، تقسیم کس طرح ہوگی؟
نوٹ : بذریعہ فون معلوم ہوا کہ مرحومہ کا شوہر حیات ہے ،والد صاحب زندہ نہیں ۔
واضح ہو کہ سائل کی مرحومہ بھابھی کا ترکہ اس کے موجود ورثاء میں اصول میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحومہ نے بوقت انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا ، چاندی ، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑاگھریلو ساز وسامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، وہ سب مرحومہ کا ترکہ ہے ، مرحومہ کے کفن دفن کے مصارف شوہر کے ذمہ لازم ہیں ، چنانچہ یہ مصارف اگر شوہر نے یا کسی اور نے بطور تبرع ادا کئے ہوں تو اب یہ ترکے سے منہا نہ ہوں گے، اس کے بعددیکھیں کہ اگر مرحومہ کے ذمہ کچھ قرض واجب الاداء ہو تو وہ ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3)کی حد تک اس پر عمل کریں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل چوبیس (24) حصے بنائے جائیں ، جن میں سے مرحومہ کے شوہر کو بارہ ( 12) حصے ، والدہ کوچار (4) حصے ، ہر بھائی کو دو (2) حصے اور ہر بہن کو (1) حصہ دیا جائے ۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1