السلام و علیکم !مفتی صاحب میرے شوہر کے والد کا انتقال ہو گیا ہے جو ڈاکٹر تھے اور میرے شوہر بھی ڈاکٹر ہیں، اب میرے سسر کا کلینک میرے شوہر کو چلانا ہےلیکن انکے بارے بھائی نے شرط رکھ دی ہے کہ جو بھی پیسے آیینگے اسکا پانچ حصّہ ہوگا جو سب بھائی بہنوں میں تقسیم ہوگا، کیا یہ صحیح فتویٰ ہے کہ محنت ایک بندا کرے اور اس کے حصّہ دار پانچ افراد ہوں ؟ میرے سسر نے ایسی کوئی بھی وصیت نہیں کی انہوں نے میرے شوہر کو صرف اتنا کہا پانچ سو اپنی ماں کو دیتے رہنا ، مفتی صاحب آپ کی رہنمائی چاہئے،شکریہ ۔
صورتِ مسئولہ میں اگر سائلہ کے مرحوم سسر نے اپنی زندگی میں کلینک اپنے بیٹے (یعنی سائلہ کے شوہر) کو بطورِ ہبہ نہیں دیا تھا بلکہ وہ کلینک ان کی ملکیت میں ہی رہا ، توان کے انتقال کے بعد اب وہ کلینک ان کےترکہ میں شمار ہوگا اور ایسی صورت میں کلینک کی زمین و تعمیر جائیداد اور مرحوم سسر کا بوقت انتقال اس میں موجود سامان میں تمام ورثاء حسب حصص شرعیہ شریک ہوں گے، البتہ اگر اب سائل کے شوہر مذکور کلینک میں اپنی محنت وقت مہارت اور علم کے ذریعہ کام کریں گے تو اس محنت کا معاوضہ صرف انہی کا حق ہے، دیگر بھائی بہن اس محنت کے معاوضہ میں شریک نہیں، لہذا شرعا وہ محنت کی کمائی میں حصے دار نہ ہوں گے اور نہ ہی وہ اس کا مطالبہ کر سکتے ہیں، البتہ اس کلینک کی زمین و تعمیر میں جو دیگر ورثاء کا حصہ ہے وہ باہمی رضامندی سے مذکور بیٹے کو اس کے استعمال کی اجازت دے کر، اس اجازت کے نتیجے میں بطور کرایہ کچھ معاوضہ مقرر کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں، اور ایسی صورت میں مذکور بیٹا وہ معاوضہ و کرایہ دینے کا پابند ہوگا، جبکہ سائلہ کے سسر نے میں جو صرف "ماں کو پانچ سو دیتے رہنا" کہا تھا، وہ ایک اخلاقی نصیحت کی بات ہے، اگر مذکور بیٹا باپ کے احترام میں اس پر عمل کرے، تو اس کا اسے اختیار ہے اور باعث اجر و ثواب ہونے کے علاوہ اس کی اخلاقی اور شرعی ذمہ داری بھی بنتی ہے کہ بوقت ضرورت والدہ کے ساتھ تعاون کرے، تا ہم اس وصیت پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے وہ گنہگار نہ ہوں گے۔
کما في مشکاۃالمصابیح: (قال رسول الله صلی الله عليه وسلم:ألا لاتظلموا ألا لايحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه)۔ (باب الغصب والعاریة،ج:1،ص:241،ط: رحمانیہ)۔
و في الدر المختار: (بنى أحدهما) أي أحد الشريكين (بغير إذن الآخر) في عقار مشترك بينهما (فطلب شريكه رفع بنائه قسم) العقار (فإن وقع) البناء (في نصيب الباني فبها) ونعمت (وإلا هدم) البناء، وحكم الغرس كذلك بزازية.(قوله بغير إذن الآخر) وكذا لو بإذنه لنفسه لأنه مستعير لحصة الآخر، وللمعير الرجوع متى شاء. أما لو بإذنه للشركة يرجع بحصته عليه بلا شبهة رملي على الأشباه (قوله وإلا هدم البناء) أو أرضاه بدفع قيمته ط عن الهندية.أقول: وفي فتاوى قارئ الهداية: وإن وقع البناء في نصيب الشريك قلع وضمن ما نقصت الأرض بذلك اهـ وقد تقدم في كتاب الغصب متنا أن من بنى أو غرس في أرض غيره أمر بالقلع وللمالك أن يضمن له قيمة بناء أو غرس أمر بقلعه إن نقصت الأرض به، والظاهر جريان التفصيل هنا كذلك الخ۔ (کتاب القسمة، مطلب لکل من الشرکاء السکنی في بعض الدار بقدر حصته، ج:6،ص:268،ط:سعید)۔
و فی الدر المختار: (وكل) من شركاء الملك (أجنبي) في الامتناع عن تصرف مضر (في مال صاحبه) لعدم تضمنها الوكالة (فصح له بيع حصته ولو من غير شريكه بلا إذن، إلا في صورة الخلط) الخ۔ (ج:1 ،ص:362،ط: دار الكتب العلمية)-
وفی بدائع الصنائع :الشركة في الأصل نوعان: شركة الأملاك، وشركة العقود وشركة الأملاك نوعان: نوع يثبت بفعل الشريكين، ونوع يثبت بغير فعلهما (أما) الذي يثبت بفعلهما فنحو أن يشتريا شيئا، أو يوهب لهما، أو يوصى لهما، أو يتصدق عليهما، فيقبلا فيصير المشترى والموهوب والموصى به والمتصدق به مشتركا بينهما شركة ملك (و أما) الذي يثبت بغير فعلهما فالميراث بأن ورثا شيئا فيكون الموروث مشتركا بينهما شركة ملك الخ۔ (کتاب الشرکۃ ،ج:6،ص:56،ط:سعید)۔
وفی الدرالمختار: ( و تتم الھبۃ بالقبض ) الکامل ( و لو وھب شاغلا لملک الواھب لا مشغولا بہ) الخ۔ (کتاب الھبۃ، ج: 5، ص: ،690 ط: سعید)۔
وفی شرح المجلۃ: المادة ( 1090 ) - ( إذا أخذ الورثة مقدارا من النقود من التركة قبل القسمة بدون إذن الآخرين وعمل فيه فخساره يعود عليه , كما أنه لو ربح لا يأخذ الورثة حصة فيه ) إذا تصرف أحد بلا إذن في مال الغير وربح يكون الربح له , ويتفرع عن ذلك مسائل عديدة : المسألة الأولى - إذا أخذ أحد الورثة مقدارا من النقود من التركة قبل القسمة بدون إذن الآخرين أو إذن الوصي إذا كان الورثة صغارا فكما أن الضرر يعود عليه ويأخذ الورثة حصتهم في رأس المال فقط كذلك لو ربح فلا يأخذ الورثة حصة من الربح إلا أنه في هذه الصورة لا يكون الربح الحاصل من حصة الورثة الآخرين طيبا للآخذ والعامل في ذلك ( الفتاوى الجديدة ) . إيضاح القيود : 1 - أحد إن هذا التعبير احترازي لأنه إذا توفي أحد أو تعدد المتوفون ولم يقسم الورثة التركة وعملوا فيها وكثروا أموالهم ولم يتميز كسب أحد عن كسب الآخر فتقسم الأكساب بالسوية بين الورثة ولا يأخذ أحدهم حصة أزيد من الآخر أما أصل التركة فيكون مشتركا بينهم حسب الفروض ولا تكون هذه المعاملة شركة مفاوضة حيث يلزم وجود شروط عديدة في شركة المفاوضة ومنها لفظ المفاوضة ( الحامدية بزيادة ) . 2 - بدون إذن , أما إذا أعمل المال بإذن فإذا أعمل بشرط أن يكون الربح له خاصة فتكون حصة الورثة الآخرين قرضا وإذا أعمل على أن يكون الربح مشتركا فتكون المعاملة شركة مضاربة في حصة الورثة . انظر المادة ( 1371 ) وإذا شرط الربح أن يكون للورثة الآخرين يكون بضاعة في حصة الورثة . انظر المادتين ( 4 1 4 1 , 559 1 ) وشرحهما . 3 - مقدارا . هذا التعبير ليس احترازيا فإذا تصرف أحد الورثة في التركة المشتركة وربح فالربح يكون للعامل خاصة ( الهندية ) . 4 - الأعمال , معناه شراء مال بتلك النقود والربح ببيعها , مثلا لو أخذ أحد الورثة من تركة مورثه بدون إذنهم مائة دينار وباع واشترى بها فربح خمسين دينارا فتكون الخمسون دينارا له وليس للورثة الآخرين الاشتراك في هذا الربح ويكون ذلك الوارث ضامنا للورثة حصصهم في رأس المال كما أنه لو خسر في البيع والشراء تلك المائة الدينار كلا أو بعضا فيعود الخسار المذكور عليه ويضمن حصص الورثة الآخرين . المسألة الثانية - لو أجر مال الآخر فضولا وأخذ الأجرة ولم يجز صاحب المال تلك الخ۔ (کتاب الشرکۃ،ج 3،ص 51،ط؛دار الکتب العلمیۃ)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1