السلام علیکم! بعد سلام عرض ہے کہ ایک مسئلہ در پیش ہے آپ حضرات کی خدمت میں ، آپ حضرات نظرِ ثانی کریں۔
مسئلہ! ایک بندہ جس کا نام محمد ابراہیم ولد جہانزیب ہے، اپنی مرضی سے آج سے 14 سال پہلے گھر سے الگ ہوا اپنی بیوی بچوں سمیت، اور 14 سال بعد پھر سے والد صاحب کے گھر آیا، لیکن چند مہینے رہا اور گھر پر والد صاحب کے ساتھ تنازعہ کرنے کے بعد پھر سے چلا گیا اور اب پھر 4 سال بعد واپس آیا ہے، پہلی بار جب حضرت گھر سے گیا تھا 14 سال پہلے، اسی دوران انہی چند سالوں میں اس کے ایک بھائی کی شادی تھی، جس میں ان کے والد نے ان پر کچھ رقم مقرر کی تھی، جو انہوں نے ادا نہیں کی، اسی طرح اسی بھائی کی فوتگی پر اس نے کوئی رقم ادا نہیں کی اور اس کی بہن کی شادی تھی، اس میں بھی اس نے کوئی رقم ادا نہیں کی، یہاں تک کہ ان کے والد مرحوم کے مرنے پر بھی اس نے کوئی رقم ادا نہیں کی، جبکہ ان کے والد محترم نے ان کو اطلاع بھی کی تھی کہ ان کے ساتھ شرکت کرے، اسی طرح جب وہ پہلی بار گھر چھوڑ کر گئے تھے یعنی 14 سال پہلے تو جس گھر میں ابھی یہ حصہ لینا چاہتا ہے یہی گھر ویران تھا، کھنڈر تھا، اس کے جانے کے بعد اُس گھر کو والد صاحب اور دو بھائیوں نے تعمیر کیا ہے، اس کی صورت یہ تھی کہ ان دونوں بھائیوں کی شادیاں نہیں ہوئی تھیں تو یہ جو کچھ کماتے تھے ، لاکر والد کو دیتے تھے، کیونکہ والد کے ساتھ مشترکہ رہائش تھی اور اس وقت اس رقم کی واپسی یا قرضہ کی کوئی صراحت نہیں کی گئی تھی، کیونکہ والد کے ساتھ ہی مشترکہ سسٹم میں رہائش پذیر تھے، موجودہ گھر میں جن حضرات کا حصہ ہے ، جو حیات ہیں :بیوہ، والدہ محترمہ، محمد ابراہیم، بلال زیب ،بہن، بہن،بہن
نوٹ! جس بھائی کا انتقال والد صاحب کی حیات میں ہوا تھا، ان کی بیوہ کا بھی اس جائیداد میں کوئی حق ہے کہ نہیں؟ جبکہ اس بھائی کی کوئی ذاتی جائیداد نہیں تھی ، البتہ ایک موٹر سائیکل تھی، جو اب بھی موجود ہے، باقی بیوہ کا مہر وغیرہ ادا کر کے وہ اپنے گھر چلی گئی ہے۔
نوٹ! ابراہیم سے والد صاحب کے مطالبہ پر شادی غمی کے موقع پر تعاون نہ کرنے کی وجوہات معلوم کی تو انکا کہنا ہے کہ میں کرایہ کے گھر میں رہتا تھا، مشکل سے اپنی بیوی بچوں کا ہی خرچ پورا ہوتا تھا، اس لئے نہیں دے سکا تھا۔
نوٹ! محمد ابراہیم اور والد صاحب جہانزیب کے درمیان فیصلہ ہوا، محمد ابراہیم اکیلا رہنے پر بیس ہزار روپے ماہانہ ادا کرے گا،کیونکہ والد صاحب کے اوپر تین لاکھ اسی ہزار روپے قرض تھا،اور یہ اپنی مرضی سے جدا ہورہا ہے اور جب چاہے، واپس آسکتا ہے، ان کے گواہوں کے سامنے۔
والد صاحب جہانزیب اور محمد ابراہیم کے مابین یہ فیصلہ ہوا کہ جہانزیب کے اوپر تین لاکھ اسی ہزار کا قرض ہے، وہ تین حصوں میں تقسیم ہوگا، ایک حصہ جہانزیب ادا کرے گا، ایک حصہ محمد ابراہیم اور ایک حصہ جہانگیر ادا کرے گا،فی حصہ محمد ابراہیم ایک لاکھ پچیس ہزارروپے ہے، وہ ابراہیم ادا کرے گا۔
سوال میں ذکر کردہ وضاحت کے مطابق جب مذکور دونوں بیٹے اپنے والد مرحوم کے ساتھ جوائنٹ فیملی سسٹم میں رہتے رہے اور اپنی آمدنی لا کر والد صاحب کو دیدیا کرتے تھے تو والد صاحب اس رقم کے مالک بن جاتے تھے، چنانچہ جب مرحوم والد نے مذکور مکان پر تعمیر کی تو یہ تعمیر والد مرحوم کی ملکیت شمار ہو کر ان کے انتقال کی صورت میں مذکور پورا گھر تمام ورثا میں حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہوگا، جبکہ جس بیٹے کا انتقال والد کی زندگی میں ہوگیا تھا تو اس کا اور اس کی بیوہ کا مرحوم والد کے ترکہ میں شرعاً کوئی حصہ نہیں، البتہ مرحوم بیٹے کی جو ذاتی جائیداد ہے، وہ بیوہ سمیت دیگر ورثاء ( والدین ) میں تقسیم ہوگی، جہاں تک والدِ مرحوم اور محمد ابراہیم کے درمیان قرض کی ادائیگی کے معاہدہ کی بات ہوئی ہے ، تو اگر محمد ابراہیم نے ایک لاکھ پچیس ہزار روپے کی ذمہ داری قبول کرلی تھی ، تو محمد ابراہیم پر اپنے معاہدہ کی پاسداری کرتے ہوئے والدِ مرحوم کا قرضہ ادا کرنا لازم ہے۔
کما فی ردالمحتار تحت( قولہ: وما حصلاہ الخ ) مطلب: اجتمعا في دار واحدة واكتسبا ولا يعلم التفاوت فهو بينهما بالسوية ( الی قولہ ) ثم هذا في غير الابن مع أبيه؛ لما في القنية الأب وابنه يكتسبان في صنعة واحدة ولم يكن لهما شيء فالكسب كله للأب إن كان الابن في عياله لكونه معينا له الخ ( ج4 ص 325 ط: سعید )۔
اس کے بعد واضح ہو کہ صورتِ مسئولہ میں مرحوم والد نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد، سونا ، چاندی ، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض واجب الاداء ہو ، تو وہ ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (3/1 ) کی حد تک اس پر عمل کر یں، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل آٹھ حصے بنائے جائیں ، جن میں سے مرحوم کی بیوہ کو ایک (1) ، دو بیٹوں میں سے ہر ایک کو دو (2) اور ہر بیٹی کو ایک (1) حصہ دیا جائے -