السلام علیکم!
میں نے سنا ہے کہ کسی ایسے شخص کو جو قیدِ نکاح سے پیدا نہ ہوا ہو، وہ اپنے باپ کی جائیداد، کفالت اور ولدیت سے محروم رہے گا، اور یہ سمجھا جائے گا کہ وہ محض اپنی ماں کی اولاد ہے، اور کنیز سے پیدا ہونے والا بچہ یا شخص محض اپنے والد کی اولاد مانا جائے گا اور اسے مادری حقوق نہیں ملیں گے، کیا یہ صحیح ہے؟ اور کیا مجھے اس مسئلہ پر حوالہ جات مل سکتے ہیں؟ جزاک اللہ
واضح ہوکہ ولد الزنا (زنا سے پیدا ہونے والا بچہ) کا نسب زانی سے ثابت نہیں ہوتا، اور نہ ہی وہ زانی کی کفالت اور جائیداد کا مستحق ہوتا ہے، اس کا نسب محض اپنی ماں سے ثابت ہوتا ہے، اور وہ اپنی ماں کی ہی کفالت میں پرورش پاتا ہے، البتہ اگر زانی زنا کے بعد اسی عورت سے نکاح کرلے، اورنکاح کے کم از کم چھ ماہ بعد بچہ پیدا ہوتو اس بچہ کا نسب اسی شوہر سے ثابت ہوگا، اوروہ اس کا شرعاً وارث بھی ہوگا، تاہم اگر زانیہ شادی شدہ ہو تو اس بچے کا نسب زانیہ کے شوہر سے ہی ثابت ہوگا، جب تک کہ شوہر اس بچے کے نسب کا انکار نہ کردے، چنانچہ اگر زانیہ کا شوہر اس بچے کے نسب کا انکارکر دیتا ہےاور لعان کرلیتا ہے، تو اس بچہ کا نسب زانیہ کے شوہر کے بجائے زانیہ سے ہی ثابت شمار ہوگا۔
جبکہ کنیز(لونڈی) سے جب اس کا آقا جماع کرلے، جس کے نتیجہ میں بچہ پیدا ہو، تو اس کا نسب اپنے والد سے ثابت ہوکر وہ آزاد شمار ہوتاہے، اور اپنے والدکی جائیداد میں حقدار بھی ٹہرے گا، جبکہ اسے مادری حقوق نہ ملنے سے سائل کی مراد واضح نہیں ہوپا رہی، اس کی تفصیل لکھ کر سوال دوبارہ ارسال کردے، تو ان شاء اللہ حکم شرعی سے بھی آگاہ کردیا جائیگا۔
کما فی الدرالمختار: الإقرار بالولد الذي ليس منه حرام كالسكوت لاستلحاق نسب من ليس منه بحر. وفيه متى سقط اللعان بوجه ما، أو ثبت النسب بالإقرار أو بطريق الحكم لم ينتف نسبه أبدا، فلو نفاه ولم يلاعن حتى قذفها أجنبي بالولد فحد فقد ثبت نسب الولد، ولا ينتفي بعد ذلك الخ (ج3 صـ493 باب اللعان ط: سعید)۔
وفیہ ایضاً: لو نكحها الزاني حل له وطؤها اتفاقا والولد له ولزمه النفقة، ولو زوج أمته أو أم ولده الحامل بعد علمه قبل إقراره به جاز وكان نفيا دلالة نهر عن التوشيح (و) صح نكاح (الموطوءة بملك) يمين ولا يستبرئها زوجها بل سيدها وجوبا على الصحيح ذخيرة (أو) الموطوءة (بزنى) أي جاز نكاح من رآها تزني، وله وطؤها بلا استبراء، وأما قوله تعالى {والزانية لا ينكحها إلا زان} [النور: 3]- فمنسوخ بآية - {فانكحوا ما طاب لكم من النساء} [النساء: 3] وفي آخر حظر المجتبى لا يجب على الزوج تطليق الفاجرة ولا عليها تسريح الفاجر إلا إذا خافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس أن يتفرقا، فما في الوهبانية ضعيف كما بسطه المصنف الخ (ج3 صـ50 کتاب النکاح ط: سعید)۔
وفیہ ایضاً: (ولد الأمة من زوجها ملك لسيدها) تبعا لها (وولدها من مولاها حر) الخ (ج3 صـ657 کتاب النکاح ط: سعید)۔
وفی ردالمحتار: تحت (قوله: والولد له) أي إن جاءت بعد النكاح لستة أشهر مختارات النوازل، فلو لأقل من ستة أشهر من وقت النكاح، لا يثبت النسب، ولا يرث منه إلا أن يقول هذا الولد مني، ولا يقول من الزنى خانية. والظاهر أن هذا من حيث القضاء، أما من حيث الديانة فلا يجوز له أن يدعيه؛ لأن الشرع قطع نسبه منه، فلا يحل له استلحاقه به ولذا لو صرح بأنه من الزنى لا يثبت قضاء أيضا، وإنما يثبت لو لم يصرح لاحتمال كونه بعقد سابق أو بشبهة حملا لحال المسلم على الصلاح، وكذا ثبوته مطلقا إذا جاءت به لستة أشهر من النكاح لاحتمال علوقه بعد العقد، وأن ما قبل العقد كان انتفاخا لا حملا ويحتاط في إثبات النسب ما أمكن. مطلب فيما لو زوج المولى أمته الخ (ج3 صـ49 کتاب النکاح ط: سعید)۔
وفیہ ایضاً: وقد ذكر في الصيرفية جاءت بولد من الزنى يثبت النسب من الزوج لا من الزاني في الصحيح، فلو دفع صاحب الفراش زكاته إلى هذا الولد يجوز ولو دفع الزاني لا يجوز عندنا الخ (ج2 صـ354 کتاب العتق ط: سعید)۔
وفیہ ایضاً: وإذا كان ظن الحل غير معتبر في ثبوت النسب وتمحض الفعل معه زنا لا تثبت أمومية الولد إذا ملك الأم وإن كان أقر بالولد لأن الزنا لا يثبت فيه النسب وأمومية الولد فرع ثبوته الخ (ج3 صـ700 باب الاستیلاد ط: سعید)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1