السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے دادا کے 2بیٹے تھے جن میں سے ایک دادا کی موجودگی میں ہی گم ہو گئے ،دادا نے 13/12سال انکا انتظار کیا ،مگر وہ بیٹا واپس نہیں آیا ،یعنی 1970 کے بعد آج تک واپس نہیں آئےاور جانے سے پہلے اپنی بیوی کو طلاق دے دی تھی،انکی ایک بیٹی بھی ہے جو شادی شدہ ہے ، دادا نے اپنی تمام وراثت اپنے دوسرے بیٹے یعنی ہمارے والد کے نام ہبہ کر دی اور اس کے کافی عرصہ بعد دادا کا بھی انتقال ہو گیا،اب پوچھنا یہ تھا کیا گم ہونے والے بیٹے یعنی ہمارے تایا کی بیٹی وراثت میں حق رکھتی ہے؟شریعت میں کیا حکم ہے کیا ہمارے والدین اس معاملے میں گناہگار تو نہیں ہوں گے؟تفصیل سے جواب چاہئیے، شکریہ!
صورتِ مسئولہ میں چونکہ سائل کے تایا کی حیات یقینی اور موت مشکوک ہے ، لہذا جب تک حاکمِ کی طرف سے اس کی کوئی مدت مقرر نہ کردی جائے اور وہ مدت گزر نہ جائے، اس وقت تک وہ حیات شمار ہوں گے، اور ان کی مملوکہ تمام اشیاء ان کی ملکیت سے نہیں نکلیں گی، البتہ جو اشیاء ان کی مملوکہ نہیں ، ان میں انہیں مردہ تصور کیا جائیگا اور اس بناء پر وہ اس وقت تک کسی کے وارث نہ ہوں گے جب تک کہ ان کی حیات کی کوئی قطعی دلیل قائم نہ ہوجائے، لہذا مسئولہ صورت میں سائل کے دادا کے انتقال کے بعد سائل کے گم شدہ تایا یاان کے توسط سے ان کی بیٹی کا میراث میں کوئی حصہ نہیں، تاہم اگر سائل کے والد اپنی بھتیجی کو میراث یا پھر ہبہ شدہ مال میں سے کچھ دینا چاہے تو اس کا انہیں اختیار ہے، جوکہ ان کی طرف سے تبرع اور احسان شمار ہوگا۔
کما فی بدائع الصنائع: فالمفقود اسم لشخص غاب عن بلده ولا يعرف خبره أنه حي أم ميت، وأما حال المفقود: فعبارة مشايخنا - رحمهم الله - عن حاله أنه حي في حق نفسه ميت في حق غيره، والشخص الواحد لا يكون حيا وميتا حقيقة لما فيه من الاستحالة ولكن معنى هذه العبارة أنه (تجري) عليه أحكام (الأحياء) فيما كان له فلا يورث ماله ولا تبين امرأته كأنه حي حقيقة (وتجري) عليه أحكام الأموات فيما لم يكن له فلا يرث أحدا كأنه ميت حقيقة الخ (کتاب المفقود ج 6 صـ 196 ط: سعید)
وفی الدر المختار: (وتتم) الھبۃ (بالقبض) الکامل (ولو الموھوب شاغلا لملک الواھب لا مشغولا بہ) والاصل ان الموھوب ان مشغولا بملک الواھب منع تمامھا وان شاغلا لا الخ(کتاب الھبۃ ج6 691-690 ط: سعید)
وفیہ ایضاً: وھو المیراث وسمی فرائض لأن اللہ تعالی قسمہ بنفسہ وأوضحہ (إلی قولہ) وقیل لتعلقہ بالموت الخ (کتاب الفرائض ج6 صـ 757 ط: سعید)
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1