میں اپنی آمدن میں سے ہر مہینے 2.5% اللہ کی راہ میں دیتا ہوں، میرے والدین بھی بعض اوقات مجھ سے رقم کا مطالبہ کرتے ہیں،کیا میں اس رقم میں سے والدین کو کچھ رقم دے سکتا ہوں؟ کیا ایسا کرنا جائز ہے؟
واضح ہوکہ والدین کے ساتھ مالی تعاون کرنا دوہرے اجر کا باعث ہے، چنانچہ اگر سائل ہر ماہ اپنی آمدن میں سے ڈھائی فیصد بطور نفلی صدقہ کے دیتا ہو، تو اس نفلی صدقہ کا بہترین مصرف والدین اور عزیز و اقارب ہیں، لہذا سائل مذکور رقم سے ان کے ساتھ بلاشبہ تعاون کرسکتا ہے، بلکہ یہ دوہرے اجر کا باعث ہے۔
کما فی الفقہ الاسلامی و ادلتہ: أما صدقات التطوع : فيجوز دفعها للأصول والفروع والزوجات والأزواج، والدفع إليهم أولى: لأن فيه أجرين: أجر الصدقة وأجر الصلة.وتجوز صدقة التطوع للأغنياء والكفار، ولهم أخذها، وفيه أجر، لقوله تعالى: ويطعمون الطعام على حبه مسكيناً ويتيماً وأسيراً الخ(ج3،ص1970،ط: دار الفكر)۔