السلام وعلیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ گزارش یہ ہے کہ ہمارے والد نے اپنے رہنےکےلیے تقریباً 20 سال پہلےپگڑی پر ایک مکان لیا تھا ، جس کی پگڑی آج کل کے حساب سے ایڈ وانس 1200000دیا تھا اور کرایہ 2000 طے ہوا تھا ، اب والد کا انتقال ہو گیا ہے ہم نے وہ مکان اس کے مالک کو واپس کر دیا ہے، اس نے ہم کو 2000000 کی رقم دی ہے ، اب اس کا ترکا کس طرح سے کیا جائے ؟ میری والدہ حیات ہیں اور ہم دو بھائی اور پانچ بہنیں ہیں، مہربانی فرما کر رہنمائی فرمائیں، عین نوازش ہوگی۔
واضح ہوکہ مروجہ پگڑی کا معاملہ بہت سارے مفاسد پر مشتمل ہونے کی وجہ سے شرعاً درست نہیں، اور نہ ہی اس عمل کے ذریعہ پگڑی لینے والا اس مکان کا مالک ہوتا ہے، لہذا صورت مسئولہ میں سائل کے والد مرحوم یا اس کے بھائیوں نے مذکور مکان میں اضافی تعمیر یا کوئی اور کام وغیرہ کرایا ہو تو ورثاء کا یہ مکان مالک کو لوٹا تے وقت اس سے اضافی رقم لینا درست ہوا ہے، اور اب یہ مجموعی رقم والد مرحوم کا ترکہ شمار ہو کر تمام ورثاء میں حسب حصص شرعی (جیساکہ ذیل میں آرہا ہے) تقسیم ہوگی، البتہ اگر اس مکان میں کوئی اضافی کام یا تعمیر نہ کرائی گئی ہو تو پھر مالک سے ورثاء کا یہ اضافی رقم لینا جائز نہیں ، جبکہ ادا کردہ رقم لینے کی اجازت ہوگی۔
کما فی بحوث فی قضایا فقہیۃ معاصرۃ: وأصل الحكم في هذا الخلو عدم الجواز، لكونه رشوة أو عوضا عن حق مجرد. . (ج1،ص 103، ط: مکتبۃ معارف القرآن)۔
وفیہ ایضاً: تحقق مما ذكرنا أن بدل الخلو المتعارف الذي يأخذه المؤجر من مستأجره لا يجوز، ولا ينطبق هذا المبلغ المأخوذ على قاعدة من القواعد الشرعية، وليس ذلك إلا رشوة حراما. (ج1،ص 108، ط: مکتبۃ معارف القرآن)۔
وفی رد المحتار: والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه(مطلب فيمن ورث مالا حراما، ج5،ص 99،ط؛ سعید)۔
اس کے بعد واضح ہوکہ سائل کے مرحوم والد کا ترکہ اس کے موجود ورثاء میں اصول میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقت انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا ، چاندی ، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑاگھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے ، جس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعددیکھیں کہ اگر اس کے ذمہ کچھ قرض واجب الاداء ہو یا بیوہ کا حق مہر ادا نہ کیا ہوتو وہ ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (3/1)کی حد تک اس پر عمل کریں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل بہتر (72) حصے بنائے جائیں ، جن میں سے مرحوم کی بیوہ کو نو(9) حصے، ہر ایک بیٹے کو چودہ (14)حصے، جبکہ ہر ایک بیٹی کو سات (7) حصے دیئے جائیں، جیسا کہ ذیل کے نقشہ سے بھی واضح ہو رہا ہے ، مزید سہولت کے لئے فیصدی حصے بھی لکھ دیئے گئے ہیں ، ملاحظہ ہو !
مسئلہ:72/8 مرحوم المضروب: 9
میتـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بیوہ بیٹا بیٹا بیٹی بیٹی بیٹی بیٹی بیٹی
1 7/63
9 14 14 7 7 7 7 7
12.5% 19.444% 19.444% 9.722% 9.722% 9.722% 9.722% 9.722%
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1