احکام وراثت

پگڑی والے مکان میں ترکہ کی تقسیم کا حکم

فتوی نمبر :
73036
| تاریخ :
2024-05-09
معاملات / ترکات / احکام وراثت

پگڑی والے مکان میں ترکہ کی تقسیم کا حکم

السلام وعلیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ گزارش یہ ہے کہ ہمارے والد نے اپنے رہنےکےلیے تقریباً 20 سال پہلےپگڑی پر ایک مکان لیا تھا ، جس کی پگڑی آج کل کے حساب سے ایڈ وانس 1200000دیا تھا اور کرایہ 2000 طے ہوا تھا ، اب والد کا انتقال ہو گیا ہے ہم نے وہ مکان اس کے مالک کو واپس کر دیا ہے، اس نے ہم کو 2000000 کی رقم دی ہے ، اب اس کا ترکا کس طرح سے کیا جائے ؟ میری والدہ حیات ہیں اور ہم دو بھائی اور پانچ بہنیں ہیں، مہربانی فرما کر رہنمائی فرمائیں، عین نوازش ہوگی۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ مروجہ پگڑی کا معاملہ بہت سارے مفاسد پر مشتمل ہونے کی وجہ سے شرعاً درست نہیں، اور نہ ہی اس عمل کے ذریعہ پگڑی لینے والا اس مکان کا مالک ہوتا ہے، لہذا صورت مسئولہ میں سائل کے والد مرحوم یا اس کے بھائیوں نے مذکور مکان میں اضافی تعمیر یا کوئی اور کام وغیرہ کرایا ہو تو ورثاء کا یہ مکان مالک کو لوٹا تے وقت اس سے اضافی رقم لینا درست ہوا ہے، اور اب یہ مجموعی رقم والد مرحوم کا ترکہ شمار ہو کر تمام ورثاء میں حسب حصص شرعی (جیساکہ ذیل میں آرہا ہے) تقسیم ہوگی، البتہ اگر اس مکان میں کوئی اضافی کام یا تعمیر نہ کرائی گئی ہو تو پھر مالک سے ورثاء کا یہ اضافی رقم لینا جائز نہیں ، جبکہ ادا کردہ رقم لینے کی اجازت ہوگی۔
کما فی بحوث فی قضایا فقہیۃ معاصرۃ: وأصل الحكم في هذا الخلو عدم الجواز، لكونه رشوة أو عوضا عن حق مجرد. . (ج1،ص 103، ط: مکتبۃ معارف القرآن)۔
وفیہ ایضاً: تحقق مما ذكرنا أن بدل الخلو المتعارف الذي يأخذه المؤجر من مستأجره لا يجوز، ولا ينطبق هذا المبلغ المأخوذ على قاعدة من القواعد الشرعية، وليس ذلك إلا رشوة حراما. (ج1،ص 108، ط: مکتبۃ معارف القرآن)۔
وفی رد المحتار: والحاصل ‌أنه ‌إن ‌علم ‌أرباب ‌الأموال ‌وجب ‌رده ‌عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه(مطلب فيمن ورث مالا حراما، ج5،ص 99،ط؛ سعید)۔
اس کے بعد واضح ہوکہ سائل کے مرحوم والد کا ترکہ اس کے موجود ورثاء میں اصول میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقت انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا ، چاندی ، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑاگھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے ، جس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعددیکھیں کہ اگر اس کے ذمہ کچھ قرض واجب الاداء ہو یا بیوہ کا حق مہر ادا نہ کیا ہوتو وہ ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (3/1)کی حد تک اس پر عمل کریں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل بہتر (72) حصے بنائے جائیں ، جن میں سے مرحوم کی بیوہ کو نو(9) حصے، ہر ایک بیٹے کو چودہ (14)حصے، جبکہ ہر ایک بیٹی کو سات (7) حصے دیئے جائیں، جیسا کہ ذیل کے نقشہ سے بھی واضح ہو رہا ہے ، مزید سہولت کے لئے فیصدی حصے بھی لکھ دیئے گئے ہیں ، ملاحظہ ہو !
مسئلہ:72/8 مرحوم المضروب: 9
میتـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بیوہ بیٹا بیٹا بیٹی بیٹی بیٹی بیٹی بیٹی
1 7/63
9 14 14 7 7 7 7 7
12.5% 19.444% 19.444% 9.722% 9.722% 9.722% 9.722% 9.722%

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عبدالرب لحاظ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 73036کی تصدیق کریں
0     975
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • وراثت کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 6
  • باپ کی جائیداد میں اولاد کا حصہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 4
  • کسی وارث کا اپنا حصہ میراث معاف کرنے کا طریقہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 3
  • بھائیوں کا مرحوم والد کے ترکہ میں سے بہن کو حصہ نہ دینا

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 1
  • وفات کے بعد ملنے والی پینشن اورگریجویٹی کاحکم

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • ورثے میں انشورنس کمپنی سے پیسے ملیں تو ان کا کیا حکم ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • یتیم پوتوں کو دادا کی جائیدا میں حصہ کیوں نہیں ملتا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • وراثت کی تقیسم میں بلا وجہ تاخیر کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • بیٹوں کو ہبہ کردہ حصے میں بیٹیوں کا بعد از وفات حصہ مانگنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • نافرمان بیٹے کو جائیداد سے محروم کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بیٹوں کے نام کی گئی زمین میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بیوہ ،سات بیٹوں اور تین بیٹیوں میں ترکے کی تقسیم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکے کے مکان سے کرایہ کی مد میں حاصل شدہ رقم میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بہنوں کا میراث میں حصہ اور اپنا حصہ معاف کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بڑے بیٹے کی کمائی میں , باپ کے انتقال کے بعد وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء=بیوہ,والد,والدہ,ایک بیٹا ایک بیٹی)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = 3 بیٹے 1 بیٹی 1 بہو 1 پوتا)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = ایک بیوہ ,دو بیٹے, ایک بیٹی, پانچ بھائی, پانچ بہنیں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بیٹے کی ذاتی کمائی میں وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بھائی کی موجودگی میں مرحومہ بہن کے ترکے میں بہن حصہ دار ہوگی یا نہیں ؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
Related Topics متعلقه موضوعات