السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
مجھے ایک مسئلہ وراثت کے حوالے سے معلوم کرنا تھا، ورثہ میں (دو بیٹے، دو بیٹیاں اور والدہ)میرے والد صاحب کا مکان ہے ان کی موجودگی میں ہم دونوں بھائیوں نے اوپر کی منزل پر ایک ایک کمرہ بنایا تھا اور شادی کی تھی ان کی وفات کے بعد میرے بھائی نے اس کمرے میں اضافہ کر کے آدھی چھت پردو کمرے اور باورچی خانہ بنایا تھا، اس کے کچھ عرصے بعد نیچے کی جو پوری منزل ہے وہ میں نے لے لی اور اس کے اوپر کی دو منزلیں بھائی نے بنا کر اس میں رہائش کی،مسئلہ یہ معلوم کرنا تھا کہ اس میں تقسیم کس طرح سے ہوگی، دو بہنوں ،دو بھائیوں میں اور والدہ ،کس کو کتنا کتنا حصہ جائے گا ؟
اچھا میرے بھائی کا یہ کہنا ہے کہ انہوں نے اوپر دو منزلیں بنائی ہیں اس کے حصہ نہیں ہونگے، صرف نیچے والی منزل میں سے سب کو حصے ملیں گے یا پھر اوپر کی دو منزلیں ہیں تو اس کی جو لاگت لگی ہے بنانے میں وہ وصول کر کے پھر اس میں سے حصے کریں گے؟براہِ مہربانی اس کے بارے میں بتائیے۔جزاک اللہ خیراً
سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق سائل اور اسکے بھائی نے والدِ مرحوم کے مکان پر جو کمرے تعمیر کیے ہیں، یہ تعمیر اگر انہوں نے اپنی ذاتی رقم سے اپنے لئے کی ہو تو ایسی صورت میں یہ تعمیر شرعاً مذکور بھائیوں کی ملکیت شمار ہوگی ، چنانچہ اب تقسیم ِترکہ کے وقت اگر دیگر ورثاء مکان فروخت کرنے یا اوپر کی منزلوں کے بجائے فقط نچلی منزلوں کی تقسیم پر رضامند ہوں تو ایسی صورت میں شرعاً ایسا کرنا جائز اور درست ہوگا ، لیکن اگر اس پر دیگر ورثاء رضامند نہ ہوں تو سوال مکمل تفصیل کے ساتھ دوبارہ ارسال کر کے حکمِ شرعی معلوم کیا جاسکتا ہے۔
کما فی قرۃ عین الأخیار: التركة في الاصطلاح ما تركه الميت من الأموال صافيا عن تعلق حق الغير بعين من الأموال كما في شروح السراجية اھ ( کتاب الفرائض ج 7 صـ 350 ط: سعید)-
و فی الدر المختار: (عمر دار زوجته بماله بإذنها فالعمارة لها والنفقة دين عليها) لصحة أمرها (ولو) عمر (لنفسه بلا إذنها العمارة له) ويكون غاصبا للعرصة فيؤمر بالتفريغ بطلبها ذلك (ولها بلا إذنها فالعمارة لها وهو متطوع) في البناء فلا رجوع له ولو اختلفا في الإذن وعدمه، ولا بينة فالقول لمنكره بيمينه، وفي أن العمارة لها أو له الخ
وفی رد المحتار: تحت (قوله عمر دار زوجته إلخ) على هذا التفصيل عمارة كرمها وسائر أملاكها جامع الفصولين، وفيه عن العدة كل من بنى في دار غيره بأمره فالبناء لآمره ولو لنفسه بلا أمره فهو له، وله رفعه إلا أن يضر بالبناء، فيمنع ولو بنى لرب الأرض، بلا أمره ينبغي أن يكون متبرعا كما مر اهـ وفيه بنى المتولي في عرصة الوقف إن من مال الوقف فللوقف، وكذا لو من مال نفسه، لكن للوقف ولو لنفسه من ماله، فإن أشهد فله وإلا فللوقف بخلاف أجنبي بنى في ملك غيره (قوله والنفقة دين عليها) لأنه غير مقطوع في الإنفاق فيرجع عليها لصحة أمرها، فصار كالمأمور بقضاء الدين زيلعي، وظاهره وإن لم يشترط الرجوع وفي المسألة اختلاف وتمامه في حاشية الرملي على جامع الفصولين (قوله فالعمارة له) هذا لو الآلة كلها له فلو بعضها له وبعضها لها فهي بينهما ط عن المقدسي (قوله بلا إذنها) فلو بإذنها تكون عارية الخ (کتاب الخنثی ج 6 صـ 747 ط: سعید)-
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1