السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب میری زوجہ محترمہ کی والدہ کی طرف سے وراثت میں حصہ بنتا ہے، میری ساس بھی فوت ہوگئی ہے میری زوجہ محترمہ کے 4 ماموں ہیں ان کی 3 بہنیں ہیں، انہوں نے ایک بہن کا نام ہی وراثت سے کٹوا دیا ہے، ایک بہن جو بیوہ ہےاور اس کے اولاد بھی نہیں ہےاس کو تھوڑے سے پیسے دے کر بیان اپنے حق میں دلوا لیا ہے، باقی تیسری بہن جس کے 2 بچے ہیں، ایک میری بیوی اور ایک اس کا بھائی ، ان کو وہ کچھ بھی نہیں دے رہے، حالانکہ وراثت وغیرہ سب میں نام ہے، زمین سے جو اناج وغیرہ آتا ہے وہ چاروں خود ہی کھا جاتے ہیں، قبضہ بھی ان کا ہی ہے، میں ان کے خلاف قانونی کارروائی بھی نہیں کر سکتا، کیونکہ ان میں سے ایک کا بیٹا وکیل ہے، اور مہنگائی کے دور میں میں قانونی کارروائی افورڈ نہیں کر سکتا ، سوال یہ ہے کہ میری زوجہ محترمہ کے ماموں 5 ٹائم کے پکے نمازی ہیں تلاوت بھی کثرت سے کرتے ہیں، روزے اور تروایح کے بھی پابند ہیں، کیا ان کے نماز اور روزے وغیرہ ان کے کام آئینگے، کیا اسلام معاملات سے پھیلا ہے یا نماز روزے سے؟
سائل نے سوال میں اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ سائل کی ساس مرحومہ کا انتقال اپنے والدین کی زندگی میں ہوا ہے یا انکی وفات کے بعد وہ انتقال کر چکی ہے تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا ، تاہم اگر سائل کی ساس مرحومہ کا انتقال اپنے والدین کی وفات کے بعد ہوا ہو تو ایسی صورت میں وہ شرعاًاپنے والدین مرحومین کے ترکہ میں اپنے شرعی حصہ کے بقدر حقدار تھی، چنانچہ اب سائل کی ساس مرحومہ کا حصہ ان کے ورثاء میں تقسیم ہوگا ،لہذا اگر سائل کی ساس مرحومہ کا انتقال والدین کے بعد ہوا ہو تو مرحومہ کے بھائیوں پر لازم ہے کہ مرحومہ کا حصہ مرحومہ کے ورثاءکو حوالے کرکے مؤاخذہ دنیوی و اخروی سے سبکدوشی حاصل کریں۔
کما فی سنن ابن ماجہ:عن انس رض: قال : قال رسول اللہ ﷺ من قطع میراث وارثہ قطع اللہ میراثہ من الجنۃ یوم القیامۃ الحدیث(رقم،2703)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1