محترم جناب مفتی صاحب السلام علیکم! گزارش یہ ہے کہ ہمارے والد صاحب کا انتقال 2014 میں ہوگیا تھا انہوں نے ترکہ میں ایک مکان چھوڑا تھا جوکہ ہم نے فروخت کردیا ہے، اور والدہ صاحبہ کے حصے میں 825000 لاکھ روپے آرہے ہیں، والدہ صاحبہ پیرالائز ہیں، بڑا بیٹا ہونے کے ناطے ان پیسوں کے معاملات میں ہی دیکھتا ہوں، جائیداد میں حصے کی رقم کے حوالے سے کچھ بہن بھائیوں کا ارادہ ہے کہ 4 لاکھ روپے آپس میں تقسیم کرلئے جائیں اور 425000 لاکھ روپے والدہ صاحبہ کے لئے رکھ دیئے جائیں، والدہ صاحبہ ذہنی طور پر صحیح فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں، والدہ صاحبہ کو 17000 روپے پینشن بھی ملتی ہے جوکہ ان کی ضروریات پر ہی خرچ ہوتی ہے، ہم پانچ بھائی اور تین بہنیں ہیں، بھائی مالی طور پر کمزور ہیں، براہ مہربانی تحریری طور پر شریعت میں والدہ صاحبہ کے حصہ کی رقم کا صحیح تصرف عنایت فرمائیں۔
واضح ہوکہ ہر شخص اپنی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلاء ہونے سے قبل اپنے مال و جائیداد کا تنہا مالک ہوتا ہے، اس کی اجازت و رضامندی کے بغیر کسی دوسرے شخص کے لئے اس کے مال و جائیداد میں تصرف کا اختیار نہیں ہوتا، لہذا سائل کی والدہ اگرچہ ذہنی طور پر کمزوری کی وجہ سے صحیح فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہ ہو تب بھی سائل اور اس کے بہن بھائیوں کے لئے اپنی والدہ کے مال و جائیداد کوآپس میں تقسیم کرنے کا اختیار نہیں، بلکہ یہ اس کی امانت ہے، اس لئے سائل کو چاہیئے کہ جب تک والدہ بقید حیات ہے تو اس رقم سے اس کا علاج معالجہ اور دیگر اخراجات کا انتظام کرتا رہے، اور ان کی حیات میں ان کی منشاء اور رضامندی کے بغیر اس کے مال و جائیداد میں اس طرح تصرفات کرنے سے اجتناب کرے۔
کما فی رد المحتار تحت:(قوله إنما يكون بعد الموت) لأن كونهم ورثة لا يتحقق إلا بعد موت المورث الخ(باب الوصیۃ للاقارب وغیرھم، ج6، ص687، ط: سعید)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1