بخدمت جناب مفتی صاحب ! گزارش عرض یہ ہے کہ میں عبد العزیز و لد محمد اسماعیل فلیٹ نمبر C283 یوسف پلازہ فیڈرل بھی ایریا 16نمبر پر رہائش پذیر ہوں ، میری ایک بیٹی اور دو بیٹے تھے بڑا بیٹا دانیال جو کورٹ میں جو نیئر کلرک تھا ، اس کا انتقال 2024-04-14 کو ہارٹ اٹیک سے ہوا ، اس کی بیوی گھر کا سامان اور میرے فلیٹ کی فائل اپنے ساتھ لے کر چلی گئی ہے ، فلیٹ میرے نام پر ہے ، منع کرنے پر اس نے گالی گلوچ دینا شروع کر دی ، زبر دستی لے گئی ، اپنے ساتھ اپنے کزن بھی لائی تھی ، دانیال کے دو چھوٹے بچے بھی ہیں ، وہ کہتی ہے اس فلیٹ میں میرا حصہ ہے یہ فائل نہیں دوں گی ، آپ سے گزارش ہے کہ شرعی طریقے سے بتائیں کہ وہ فائل ، اس میں اس کا یا بچوں کا حصہ ہے ؟ اپنے سامان کے ساتھ فائل لے گئی۔ شکریہ
نوٹ : سائل سے رابطہ کرنے پر معلوم ہوا کہ یہ فلیٹ سائل ہی کی ذاتی ملکیت ہے ، جبکہ بیوہ بہو کا یہ کہنا ہے کہ چونکہ سائل کا بیٹا بھی سائل کا وارث تھا جس کا اب انتقال ہوا ہے ، تو اس کے توسط سے بیوہ بہو کا بھی اس ملکیت میں حصہ بنتا ہے ، جس کی وجہ سے وہ فائل پر قبضہ کرکے اسے واپس نہیں لوٹا رہی فقط۔
ہر شخص زندگی میں اپنی جائیداد کا تنہا مالک ہوتا ہے ، جبکہ اس کی جائیداد میں وراثت کے احکام اس کے وفات کے بعد جاری ہوتے ہیں ، اس لئے کسی بیٹے ، بیٹی یا ان کی اولاد کے لئے اصل مالک کی زندگی میں اس جائیداد میں کوئی حصہ نہیں ہوتا، اور نہ ہی اسے اس میں حصہ داری کے مطالبہ کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے ، لہذا سائل کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس میں کسی قسم کی غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو اس طور پر کہ یہ فلیٹ سائل مسمی " عبد العزیز" کی ملکیت ہو ، تو شرعاً ان کی زندگی میں فوت ہونے والے بیٹے مسمی " دانیال " یا ان کی اولاد اور بیوہ کا اس جائیداد میں کوئی حصہ نہیں ، چنانچہ مرحوم کے توسط سے سائل کی بیوہ بہو کا مذکور جائیداد میں حصہ داری کا دعوی کرتے ہوئے جائیداد کی فائل اپنے قبضہ میں لینا غصب کے زمرے میں آنے کی وجہ سے شرعاً ناجائز اور حرام ہے ، جس پر احادیثِ مبارکہ میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں ، اس لئے اسے چاہیئے کہ وہ اپنے اس فعل پر بصدقِ دل توبہ و استغفار کرتے ہوئے فلیٹ کی فائل اس کے مالک ( سائل ) کو لوٹا کر مؤاخذۂ دنیوی و اخروی سے سبکدوشی حاصل کرے ، بصورتِ دیگر سائل کو اپنے حق کی وصولی کے لئے قانونی چارہ جوئی کا بھی حق حاصل ہوگا ۔
كما في صحيح البخاري : عن سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل : أنه خاصمته أروى في حق زعمت أنه انتقصه لها إلى مروان فقال سعيد: أنا أنتقص من حقها شيئا أشهد لسمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: من أخذ شبرا من الأرض ظلما فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين ( باب ما جاء في سبع أرضين، ج 4، ص 107، رقم : 3198، ط : السلطانية)-
و في رد المحتار تحت ( قوله إلا أن يصطلحا ) إن شرط الإرث وجود الوارث حيا عند موت المورث الخ (كتاب الفرائض ، ج 6 ، ص ۷6۹ ، : سعید)-
و فيه أيضا : تحت ( قوله هي علم بأصول الخ ) وشروطه ثلاثة : موت مورت حقيقة أو حكما ( إلى قولة) و وجود وارثه عند موته حيا حقيقة أو تقديرا کا لحمل الخ ( کتاب الفرائض ، ج 6 ، ص ۷۵ : سعید)-
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1