السلام علیکم !میرے والد جناب عبدالرحمن صاحب کا بمؤرخہ2023/11/19 کو رضائے الہی سے انتقال ہو گیا ہے اور آپ مفتیان صاحبان سے تقسیمِ ترکہ کے لیے فتوی درکار ہے ،فتوے کے لیے تفصیل در ج ذیل ہے ،عبدالرحمن مرحوم( والد)وحیدہ مرحومہ (والدہ )ثریا شمس( بیٹی زندہ )محمد سلیم (بیٹا زندہ )محمد اسلم( بیٹا مرحوم)شاہین (بیٹی زندہ )محمد نعیم الرحمن (بیٹا زندہ )شمع عامر( بیٹی زندہ)ندیم الرحمن (بیٹا زندہ )ہما رحمان (بیٹی زندہ)مجیب الرحمن (بیٹا زندہ )حمیرہ شاکر( بیٹی زندہ) معین الرحمن (بیٹا زندہ )،ان سب میں سے بیٹا نمبر تین محمد اسلم اپنے والد عبدالرحمن سے پہلے انتقال فرما چکے تھے اور شادی شدہ تھے،ان کی پانچ بیٹیاں ہیں اور بیوہ بھی حیات ہے،ان کے بارے میں شریعت میں کیا حکم ہے؟رہنمائی فرمائیں اور باقی زندہ بہن بھائیوں میں بھی ترکہ کس طرح تقسیم کیا جائے ؟برائے مہربانی تفصیل سے ترکہ کی تقسیم کے لیے رہنمائی فرمائی جائے؟ ہم آپ کے بے حد ممنون و مشکور ہوں گے ۔
نوٹ: پہلے بیوہ کا انتقال ہوا پھر بیٹے کا اور پھر والد کا۔
واضح ہوکہ جس بیٹے کا انتقال والد کی زندگی میں ہوجائے،تودیگر قریبی ورثاء کی موجودگی میں مرحوم بیٹے کی اولاد ،دادا مرحوم کے ترکے میں حصہ دار نہیں ہوتی ،لہذا سائل کے والد مرحوم کی زندگی میں جس بیٹے کا انتقال ہوچکاہے،اس کی اولاد شرعاً دادا مرحوم کے ترکے میں حصہ دار نہیں البتہ اگر سائل اور اس کے دیگر بہن بھائی ترکے میں سے یا کوئی وارث اپنے ذاتی حصے سے مرحوم بھائی کی بیوہ اور اس کے اولاد کو کچھ دینا چاہے تو شرعاً ایسا کرنا جائز بلکہ باعثِ اجر وثواب ہوگا،تاہم ایسا کرنا ان کے ذمہ لازم اور ضروری نہیں۔
اس کے بعد واضح ہو کہ سائل کے والد مرحوم کا ترکہ اس کے موجود تمام ورثاء میں اصولِ میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا ، چاندی ، زیورات، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو سازوسامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، اس میں سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض واجب الاداء ہو تو وہ ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (3/1 ) حصے کی حد تک اس پر عمل کریں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل پندرہ (15) حصے بنائےجائیں ، جن میں سے مرحوم کے ہر بیٹے کودو (2) حصے اور ہر بیٹی کوایک(1)حصہ دیا جائے۔
کمافی الدر المختار: وهل إرث الحي من الحي أم من الميت؟ المعتمد: الثاني شرح وهبانيةاھ(ج6 ص758 کتاب الفرائض ط: سعید)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1