احکام وراثت

مشترکہ کاروبار سے ہر بھائی کیلئے مکان خریدنے کی ایک صورت کا حکم

فتوی نمبر :
73537
| تاریخ :
2024-05-30
معاملات / ترکات / احکام وراثت

مشترکہ کاروبار سے ہر بھائی کیلئے مکان خریدنے کی ایک صورت کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ !
ہم بھائیوں کا مشترکہ کاروبار ہے، اور اب تک کمپنی کے مشترکہ کاروبار سے چار بھائیوں کے مکانات خرید لیے گئے ۔ اور کمپنی پالیسی میں یہ بات طے ہے کہ اس مشترکہ کاروبار سے ہی مکانات خریدنے کی ترتیب بنائینگے، اب ہم دو بھائیوں مقصود احمد اور ظہور احمد کا مکان خریدنے کا ارادہ ہے، لیکن دیگر بھائیوں کے جس گلی میں مکانات خریدے گئے ہیں ہم اس گلی کی بجائے دوسری جگہ مکانات خریدنا چاہتے ہیں توکیا ہم کمپنی سے دیگر بھائیوں کے موجودہ مکانات کے مارکیٹ ویلیو کے مطابق رقم وصول کرکے کسی دوسری جگہ مکان خرید سکتے ہیں، جبکہ اس میں رقم کی کمی بیشی کو پورا کرنے کی ذمہ داری ہماری ہوگی، ہم کمپنی سے موجودہ مکانات کے مارکیٹ ویلیو کے مطابق ہی رقم وصول کرینگے، تو کیا شرعا اسکی گنجائش ہے؟ شریعت کی روشنی میں وضاحت کرکے عنداللہ ماجور ہوں ۔
نوٹ: سائل سے فون پر معلوم ہوا کہ کمپنی میں چھ بھائیوں نے مشترکہ انویسٹمنٹ کی تھی اور سب نے برابر نفع کے ساتھ برابر انویسٹمنٹ کی ہے، اور مذکور بالا پالیسی تمام بھائیوں کے درمیان زبانی کلامی طے ہوئی ہے، باقاعدہ لکھی ہوئی نہیں ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال میں مذکور صورت (کمپنی کے مشترکہ منافع سے باری باری ایک شریک کو مکان دلانا) کی فقہی تکییف اورحیثیت باہمی قرض کی ہے، اس طور پر کہ شرعا کمپنی کے منافع کی ملکیت تمام شرکاء کے درمیان برابر ہے، اور انکا باری باری کسی ایک کو اجتماعی منافع میں سے مکان دلاناچونکہ اپنے منافع بطور قرض دینا ہے، اور جس شریک کو سب سے پہلے مکان دلایا گیا وہ اس مکان کی قیمت کے اعتبار سے باقی تمام شرکاء کا مقروض ہوا، اسی طریقہ سے ہر شریک اپنی باری کے اعتبار مقروض اور قرض دہندہ بنتا گیا ۔جبکہ قرض کے معاملہ میں شرعا یہ ضروری ہے کہ مقروض کو جتنا قرض دیا گیا اس سے اتنا ہی واپس لیا جائے، اس سے ذیادہ لینا یا مستقبل میں ملکی کرنسی اور زر کی قدر کم ہونے کی وجہ سے ذیادہ کا مطالبہ کرنا شرعا جائز نہیں ۔ البتہ اگر مقروض بخوشی و رضامندی اصل رقم سے ذیادہ دیتا ہے تو یہ اسکی طرف سے ہبہ اور گفٹ سمجھا جائیگا لیکن اس کیلیے بھی ضروری ہے کہ قرض دیتے ہوئے اضافی رقم لینے کا تذکرہ اور معاہدہ نہ کیا جائے تاکہ ایک ہی عقد کے اندر دو عقد جمع نا ہو ۔
لہذا صورت مسئولہ میں سائل اور اسکے بھائیوں نے جو معاہدہ کیا ہے کہ مشترکہ کاروبار کے نفع سے وقتا فوقتا مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے ہر بھائی کومکان دلایا جائیگا اصولا جائز نہیں تھا ، اس لیے کہ مکانات کی مارکیٹ ویلیو میں وقتا فوقتا کمی بیشی واقع ہوتی ہے، اور کمی بیشی کے ساتھ قرض لوٹا نے کا معاہدہ ناجائز ہے، جس سے انکو اجتناب کرنا چاہیے تھا ۔
تاہم جب پہلے بھائی کو مکان دلانے کے بعد باقی بھائیوں کو مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے مکانات دلوائے گیے تو اس دوران جو رقم کی کمی بیشی آئی ہے اس پر اگر تمام شرکاء رضامند تھے تو یہ باقی بھائیوں کی طرف سے اسکے ساتھ تبرع اور احسان ہوا ، اور وہ اس گھر کا مالک بھی بن گیا ، اور اب سائل اور اسکے بھائی کو مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے مکان دلانے پر جو باقی بھائیوں نے رضامندی کا اظہار کیا ہے جیسا کہ سوال سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے تو اس میں جو اضافی رقم انکے حصہ میں آرہی ہے یہ بھی باقی بھائیوں کا ان کے ساتھ تبرع اور احسان ہے ،جبکہ کمپنی کے مشترکہ منافع میں سے مکان کیلیے رقم ملنے کے بعد سائل اور اسکا بھائی جہاں بھی چاہیں اپنے لیے رہائشی مکان خرید سکتے ہیں ، ان پر اسی محلہ میں جہاں انکے دیگر بھائیوں کی رہائش ہے مکان خریدنا کوئی لازم اور ضروری نہیں ۔

مأخَذُ الفَتوی

في مسند أحمد ط : الرسالة : عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ،، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَفْقَتَيْنِ فِي صَفْقَةٍ وَاحِدَةٍ اه (6/324)
فی الهداية في شرح بداية المبتدي : "والضرب الثاني: شركة العقود، وركنها الإيجاب والقبول، وهو أن يقول أحدهما شاركتك في كذا وكذا ويقول الآخر قبلت" وشرطه: أن يكون التصرف المعقود عليه عقد الشركة قابلا للوكالة ليكون ما يستفاد بالتصرف مشتركا بينهما فيتحقق حكمه المطلوب منه (إلى قوله) قال: "وأما شركة العنان فتنعقد على الوكالة دون الكفالة(إلى قوله) قال: "ثم يرجع على شريكه بحصته منه" معناه إذا أدى من مال نفسه؛ لأنه وكيل من جهته في حصته فإذا نقد من مال نفسه رجع عليه اه (3/10)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمدابراہیم خلیل عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 73537کی تصدیق کریں
0     388
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • وراثت کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 6
  • باپ کی جائیداد میں اولاد کا حصہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 4
  • کسی وارث کا اپنا حصہ میراث معاف کرنے کا طریقہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 3
  • بھائیوں کا مرحوم والد کے ترکہ میں سے بہن کو حصہ نہ دینا

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 1
  • وفات کے بعد ملنے والی پینشن اورگریجویٹی کاحکم

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • ورثے میں انشورنس کمپنی سے پیسے ملیں تو ان کا کیا حکم ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • یتیم پوتوں کو دادا کی جائیدا میں حصہ کیوں نہیں ملتا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • وراثت کی تقیسم میں بلا وجہ تاخیر کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • بیٹوں کو ہبہ کردہ حصے میں بیٹیوں کا بعد از وفات حصہ مانگنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • نافرمان بیٹے کو جائیداد سے محروم کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بیٹوں کے نام کی گئی زمین میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بیوہ ،سات بیٹوں اور تین بیٹیوں میں ترکے کی تقسیم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکے کے مکان سے کرایہ کی مد میں حاصل شدہ رقم میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بہنوں کا میراث میں حصہ اور اپنا حصہ معاف کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بڑے بیٹے کی کمائی میں , باپ کے انتقال کے بعد وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء=بیوہ,والد,والدہ,ایک بیٹا ایک بیٹی)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = 3 بیٹے 1 بیٹی 1 بہو 1 پوتا)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = ایک بیوہ ,دو بیٹے, ایک بیٹی, پانچ بھائی, پانچ بہنیں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بیٹے کی ذاتی کمائی میں وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بھائی کی موجودگی میں مرحومہ بہن کے ترکے میں بہن حصہ دار ہوگی یا نہیں ؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
Related Topics متعلقه موضوعات