کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ !
ہم بھائیوں کا مشترکہ کاروبار ہے، اور اب تک کمپنی کے مشترکہ کاروبار سے چار بھائیوں کے مکانات خرید لیے گئے ۔ اور کمپنی پالیسی میں یہ بات طے ہے کہ اس مشترکہ کاروبار سے ہی مکانات خریدنے کی ترتیب بنائینگے، اب ہم دو بھائیوں مقصود احمد اور ظہور احمد کا مکان خریدنے کا ارادہ ہے، لیکن دیگر بھائیوں کے جس گلی میں مکانات خریدے گئے ہیں ہم اس گلی کی بجائے دوسری جگہ مکانات خریدنا چاہتے ہیں توکیا ہم کمپنی سے دیگر بھائیوں کے موجودہ مکانات کے مارکیٹ ویلیو کے مطابق رقم وصول کرکے کسی دوسری جگہ مکان خرید سکتے ہیں، جبکہ اس میں رقم کی کمی بیشی کو پورا کرنے کی ذمہ داری ہماری ہوگی، ہم کمپنی سے موجودہ مکانات کے مارکیٹ ویلیو کے مطابق ہی رقم وصول کرینگے، تو کیا شرعا اسکی گنجائش ہے؟ شریعت کی روشنی میں وضاحت کرکے عنداللہ ماجور ہوں ۔
نوٹ: سائل سے فون پر معلوم ہوا کہ کمپنی میں چھ بھائیوں نے مشترکہ انویسٹمنٹ کی تھی اور سب نے برابر نفع کے ساتھ برابر انویسٹمنٹ کی ہے، اور مذکور بالا پالیسی تمام بھائیوں کے درمیان زبانی کلامی طے ہوئی ہے، باقاعدہ لکھی ہوئی نہیں ہے۔
سوال میں مذکور صورت (کمپنی کے مشترکہ منافع سے باری باری ایک شریک کو مکان دلانا) کی فقہی تکییف اورحیثیت باہمی قرض کی ہے، اس طور پر کہ شرعا کمپنی کے منافع کی ملکیت تمام شرکاء کے درمیان برابر ہے، اور انکا باری باری کسی ایک کو اجتماعی منافع میں سے مکان دلاناچونکہ اپنے منافع بطور قرض دینا ہے، اور جس شریک کو سب سے پہلے مکان دلایا گیا وہ اس مکان کی قیمت کے اعتبار سے باقی تمام شرکاء کا مقروض ہوا، اسی طریقہ سے ہر شریک اپنی باری کے اعتبار مقروض اور قرض دہندہ بنتا گیا ۔جبکہ قرض کے معاملہ میں شرعا یہ ضروری ہے کہ مقروض کو جتنا قرض دیا گیا اس سے اتنا ہی واپس لیا جائے، اس سے ذیادہ لینا یا مستقبل میں ملکی کرنسی اور زر کی قدر کم ہونے کی وجہ سے ذیادہ کا مطالبہ کرنا شرعا جائز نہیں ۔ البتہ اگر مقروض بخوشی و رضامندی اصل رقم سے ذیادہ دیتا ہے تو یہ اسکی طرف سے ہبہ اور گفٹ سمجھا جائیگا لیکن اس کیلیے بھی ضروری ہے کہ قرض دیتے ہوئے اضافی رقم لینے کا تذکرہ اور معاہدہ نہ کیا جائے تاکہ ایک ہی عقد کے اندر دو عقد جمع نا ہو ۔
لہذا صورت مسئولہ میں سائل اور اسکے بھائیوں نے جو معاہدہ کیا ہے کہ مشترکہ کاروبار کے نفع سے وقتا فوقتا مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے ہر بھائی کومکان دلایا جائیگا اصولا جائز نہیں تھا ، اس لیے کہ مکانات کی مارکیٹ ویلیو میں وقتا فوقتا کمی بیشی واقع ہوتی ہے، اور کمی بیشی کے ساتھ قرض لوٹا نے کا معاہدہ ناجائز ہے، جس سے انکو اجتناب کرنا چاہیے تھا ۔
تاہم جب پہلے بھائی کو مکان دلانے کے بعد باقی بھائیوں کو مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے مکانات دلوائے گیے تو اس دوران جو رقم کی کمی بیشی آئی ہے اس پر اگر تمام شرکاء رضامند تھے تو یہ باقی بھائیوں کی طرف سے اسکے ساتھ تبرع اور احسان ہوا ، اور وہ اس گھر کا مالک بھی بن گیا ، اور اب سائل اور اسکے بھائی کو مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے مکان دلانے پر جو باقی بھائیوں نے رضامندی کا اظہار کیا ہے جیسا کہ سوال سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے تو اس میں جو اضافی رقم انکے حصہ میں آرہی ہے یہ بھی باقی بھائیوں کا ان کے ساتھ تبرع اور احسان ہے ،جبکہ کمپنی کے مشترکہ منافع میں سے مکان کیلیے رقم ملنے کے بعد سائل اور اسکا بھائی جہاں بھی چاہیں اپنے لیے رہائشی مکان خرید سکتے ہیں ، ان پر اسی محلہ میں جہاں انکے دیگر بھائیوں کی رہائش ہے مکان خریدنا کوئی لازم اور ضروری نہیں ۔
في مسند أحمد ط : الرسالة : عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ،، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَفْقَتَيْنِ فِي صَفْقَةٍ وَاحِدَةٍ اه (6/324)
فی الهداية في شرح بداية المبتدي : "والضرب الثاني: شركة العقود، وركنها الإيجاب والقبول، وهو أن يقول أحدهما شاركتك في كذا وكذا ويقول الآخر قبلت" وشرطه: أن يكون التصرف المعقود عليه عقد الشركة قابلا للوكالة ليكون ما يستفاد بالتصرف مشتركا بينهما فيتحقق حكمه المطلوب منه (إلى قوله) قال: "وأما شركة العنان فتنعقد على الوكالة دون الكفالة(إلى قوله) قال: "ثم يرجع على شريكه بحصته منه" معناه إذا أدى من مال نفسه؛ لأنه وكيل من جهته في حصته فإذا نقد من مال نفسه رجع عليه اه (3/10)
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1