میرے والد صاحب کا انتقال 64 سال پہلے ہوا تھا، تب میری عمر 4 سال تھی، تب ہم 5 بھائی اور 2 بہنیں تھیں، امی بھی حیات تھیں، والد صاحب بندر روڈ پر ایک چلتی ہوئی گارمنٹس کی دکان جس میں وافر تعداد میں مال موجود تھا، ایک 600 گز کا پلاٹ اور 55-60 ہزار روپے نقد چھوڑ گئےتھے، بھائیوں نے اسی کام کو آگے بڑھایا اور خوب ترقی کی، میں جب 22 سال کی ہوئی تو بس مناسب طریقہ سے میری شادی کردی، 1998 میں میری اماں کا انتقال ہوگیا، 2015 میں ایک بھائی کا انتقال ہوگیا اور 2019 میں بہن کا انتقال ہوگیا، اب ہم 5 بھائی اور ایک بہن (جو کہ میں ہوں حیات ہیں)، میں مالی طور سے کافی پریشان ہوں اور کئی بار بھائیوں سے اپنے حصہ کا تقاضہ کر چکی ہوں، لیکن وہ کہتے ہیں کہ تمہارا کوئی حصہ نہیں ہے۔ براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں میری رہنمائی کریں کہ بھائیوں کہ پاس جو کچھ ہے، اس میں میرا حصہ ہے یا ابا جو چھوڑ کر گئے تھے اس میں آج کے لحاظ (present value)سے میرا حصہ ہے اور جس بھائی کا انتقال ہوگیا ہے انکے بچے بھی میرا حصہ دینے کے پابند ہیں؟ میری رہنمائی فرمائیے۔
سائلہ کے والد مرحوم نے بوقتِ انتقال اپنی ملکیت میں جو کچھ چھوڑا تھا، وہ تو مرحوم کا ترکہ ہے، جس میں دیگر ورثاء کی طرح سائلہ بھی حسبِ حصصِ شرعیہ حصہ دار تھی، چنانچہ سائلہ کے موجود بھائیوں اور فوت شدہ بھائی کے ورثاء کے ذمہ سائلہ کو اس کا شرعی حصہ دینا لازم اور ضروری ہے، تاہم تقسیم کا طریقہ کار، ترکہ کی موجودہ یا سابقہ مالیت کا تعین اور اس کی تفصیل ، سوال کی مکمل وضاحت اور بھائیوں کا مؤقف واضح ہونے کے بعد بتایا جاسکتا ہے۔
کما فی مشکاۃ المصابیح : عن سعيد بن زيد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من أخذ شبراً من الأرض ظلماً ، فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين۔ (1/254)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1