السلام علیکم! میں اپنی تنخواہ میں سے ہر مہینے صدقہ کی نیت سے پیسے رکھتا ہوں، اب میرے پاس کچھ پیسے جمع ہو چکے ہیں تو میں پوچھنا یہ چاہتا ہوں کہ کیا یہ پیسے میں قبرستان کی چار دیواری اور جنازہ گاہ وغیرہ پر خرچ کرسکتا ہوں یا نہیں؟ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں ! شکریہ۔
سائل نے اگر مذکور رقم سے متعلق نذر نہ مانی ہو ، بلکہ ویسے ہی نفلی صدقہ کی نیت سے یہ رقم الگ کرکے رکھی ہو،تو یہ نفلی صدقہ شمار ہوگا،لہٰذا سائل سوال میں مذکور امور (قبرستان کی چار دیواری اور جنازہ گاہ وغیرہ) سمیت کسی بھی کارِ خیر میں یہ رقم خرچ کرنا چاہے تو کرسکتاہے، شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں۔
کما فی فتاوی اللجنۃ الدائمۃ: وأما صدقات التطوع فبابها واسع، فيجوز صرفها للفقراء وفي المشاريع الخيرية؛ كالمدارس والمساجد والجمعيات الخيرية. لكن إن عين صاحبها مصرفا معينا التزم به اھ (ج8،صـــ330)۔