میرےتایا وفات پاگئے ،ان کی بہت زیادہ پراپرٹی ہےاور میرے سارے چچا بہت مالدار ہیں،میرےوالدصاحب کا انتقال پہلے ہوگیاتھا،اب تایا کی پراپرٹی میں ہمارا حصہ بنتا ہے یا نہیں؟
نوٹ: سائل نے فون پر بتایا کہ میرےوالد کا انتقال 2016 میں ہوگیا تھا اور تایا کا انتقال ابھی 2024 میں ہوگیاہے،جبکہ اس کے تین بھائی اور دو بہنیں ابھی زندہ ہیں اور یہ غیر شادی شدہ تھے،اور والدین کا انتقال بھی ان دونوں سے پہلے ہوگیا تھا۔
سائل کے والد مرحوم کا انتقال چونکہ سائل کے تایا مرحوم کی زندگی میں ہوا ہے،اس لئے مرحوم تایا کے بہن بھائیوں کی موجودگی میں سائل اور اس کے دیگر بہن بھائی مرحوم تایا کے ترکے میں شرعاً حصہ دار نہ ہونگے البتہ اگر مرحوم کے ورثاء عاقل وبالغ ہوں اور اپنی مرضی سے سائل اور اس کے دیگر بہن بھائیوں کو کچھ دینا چاہیں تو اس کا انہیں اختیار ہے جبکہ سائل کے والد مرحوم کا انتقال چونکہ والدین مرحومین (سائل کے داد،دادی) کے بعد ہوا ہے،اس لئے سائل،سائل کی والدہ اور بہن بھائی والد مرحوم کے توسط سے دادا ،دادی مرحومین کے ترکے میں شرعاً حصہ دار ہونگے جس کا طریقہ کار بوقتِ ضرورت ورثاء کی تفصیل ذکر کرکے معلوم کیا جاسکتا ہے۔
کمافی تفسير البغوي: قوله تعالى: {وإذا حضر القسمة} يعني: قسمة المواريث، {أولو القربى} الذين لا يرثون، {واليتامى والمساكين فارزقوهم منه} أي: فارضخوا لهم من المال قبل القسمة، {وقولوا لهم قولا معروفا} الخ(ج2 ص170 سورۃ النساء دارالطیبۃ للنشر والتوزیع)۔
وفی الفتاوى الهندیۃ: إذا اجتمعت العصبات بعضها عصبة بنفسها وبعضها عصبة بغيرها وبعضها عصبة مع غيرها فالترجيح منها بالقرب إلى الميت لا بكونها عصبة بنفسها، حتى أن العصبة مع غيرها إذا كانت أقرب إلى الميت من العصبة بنفسها كانت العصبة مع غيرها أولى الخ(ج6 ص452 کتاب الفرائض ط: ماجدیۃ)۔
وفی الدر المختار: ثم العصبات بأنفسهم أربعة أصناف جزء الميت ثم أصله ثم جزء أبيه ثم جزء جده (ويقدم الأقرب فالأقرب منهم) بهذا الترتيب فيقدم جزء الميت (كالابن ثم ابنه وإن سفل ثم أصله الأب ويكون مع البنت) بأكثر (عصبة وذا سهم) كما مر (ثم الجد الصحيح) وهو أبو الأب (وإن علا) وأما أبو الأم ففاسد من ذوي الأرحام (ثم جزء أبيه الأخ) لأبوين (ثم) لأب ثم (ابنه) لأبوين ثم لأب (وإن سفل) تأخير الإخوة عن الجد وإن علا قول أبي حنيفة وهو المختار للفتوى خلافا لهما وللشافعي الخ(ج6 ص774 کتاب الفرائض ط: سعید)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1