السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
میں ایک بیوہ ہوں، میری کوئی اولاد نہیں ہے، میرے شوہر نے پارٹنر شپ میں اپنے دوست کے ساتھ ذاتی کاروبار کیا تھا ، مجھے جہیز میں ایک دکان ملی تھی، وہ دکان اور کچھ زیور بیچ کر وہ پیسے اپنے شوہر کو دیے ، جس کی مالیت تقریباً 12 لاکھ تھی اور پاک قطر تکافل سے انشورنس بھی کروایا تھا، میرے شوہر کے سات بھائی ہیں، تمام شادی شدہ ہیں اور تین بہنیں ہیں، چار بھائی اور تین بہنیں اپنا حصہ نہیں لینا چاہتے ہیں، باقی تین بھائی حصہ مانگ رہے ہیں، میرا سوال یہ ہے کہ ان تین بھائیوں کا کچھ حصہ بنتا ہے شریعت میں یا نہیں؟
نیز میرے شوہر نے یہ کہا تھا کہ میرے بعد نہ تم کو اپنے بھائیوں کے آگے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت پڑے گی ، نہ میرے بھائیوں کے اور میرے سسرال میں مجھے رہنے بھی نہیں دیا جارہا ہے ، حالانکہ میرا سیپریٹ کمرہ ہے، وہ کہتے ہیں کہ نا محرم ہونے کی وجہ سے مجھے نکالنا چاہتے ہیں اور میرے ماں باپ زندہ نہیں ہیں، میرے پانچ بھائی ہیں اور ان میں سے ایک ذہنی مریض ہے اور مالی لحاظ سے میر ے بھائی مضبوط نہیں ہیں، اب اس صورت میں میں کہاں جاؤں؟ میرے جیٹھ نکاح کرنا چاہتے ہیں اور میں کسی سے بھی شادی کرنا نہیں چاہتی۔
نوٹ! جہیز کا سامان اور دکان بیوہ کی ذاتی ملکیت تھی اور 12 لاکھ روپے دیتے وقت کاروبار میں شریک ہونے یا قرض وغیرہ کی صراحت نہیں کی تھی اور پاک قطر تکافل میں پالیسی کے پیسے بھی شوہر کی طرف سے جمع کروائے جاتے تھے، شوہر کے ورثاء میں بیوہ ، سات بھائی اور تین بہنیں ہیں، جبکہ والدین کا انتقال شوہر سے پہلے ہی ہوگیا تھا۔
واضح ہو کہ جب تک میراث کا مال تمام ورثا کے مابین حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم کر کے ہر وارث کو اس کا حصۂ شرعیہ حوالہ نہ کردیا جائے، اس وقت تک کسی وارث کا اپنا حقِ وراثت معاف کرنے یا چھوڑنے کا کوئی اعتبار نہیں، بلکہ معاف کرنے کے باوجود اس کا حصۂ شرعیہ ترکہ میں بدستور برقرار رہتا ہے ، لہٰذا سوال میں مذکور مرحوم کے بھائی بہنوں کا تقسیمِ ترکہ سے قبل اپنا حصہ معاف کرنے سے ان کا حصہ ساقط نہیں ہوا، بلکہ وہ اب بھی اپنا حصہ لینے کے حقدار ہیں، جبکہ سائلہ کو عدت کے ایام شوہر کے گھر گزارنا شرعاً واجب ہے، لہٰذا سسرال والوں کا بیوہ کودورانِ عدت زبردستی اسکے گھر سے نکالنا شرعاً درست نہیں، جس سے انہیں احتراز لازم ہے، البتہ عدت کے بعد وہ اپنی مرضی سے جہاں چاہے، رہ سکتی ہے، جہاں تک مرحوم شوہر کو دی گئی رقم کا تعلق ہے، تو چونکہ سائلہ نے مذکور رقم بطورِ پارٹنر یا بطورِ قرض نہیں دی تھی، تو یہ اس کی طرف سے تبرع و احسان شمار ہوگا، لہٰذا سائلہ اب مذکور رقم کا مطالبہ نہیں کرسکتی ہے، جبکہ پاک قطر تکافل کے انویسٹمنٹ فنڈ میں جتنی رقم جمع ہے، وہ مرحوم کا ترکہ شمار ہو کر تمام ورثاء میں حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہوگی، البتہ وقف فنڈ سے ملنے والی رقم چونکہ بطورِ تبرع و احسان ہوگی، لہٰذا ادارہ جس کے نام جاری کردے، وہ اس رقم کا حقدار ہوگا۔
اس کے بعد واضح ہو کہ صورتِ مسئولہ میں سائلہ کے مرحوم شوہر نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد، سونا ، چاندی ، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہو یا بیوہ کا حق مہر ادا نہ کیا ہو، تو وہ ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (3/1 ) کی حد تک اس پر عمل کر یں، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل اڑسٹھ حصے بنائے جائیں ، جن میں سے مرحوم کی بیوہ کو سترہ ( 17 ) حصے، ہر بھائی کو چھ ( 6) حصے، ہر بہن کو تین (3) حصے دیے جائیں -
کما فی مشکاۃ المصابیح: عن سعید بن زید رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ ﷺ، من اخذ شبراً من الارض ظلماً فانہ یطوقہ یوم القیامۃ من سبع ارضین اھ ( باب الغصب ، رقم الحدیث : 2937 ج 2 صـــ 424 ط : بشری ) ۔
و فی شرح الاشباہ و النظائر: ما یقبل الاسقاط من الحقوق وما لا یقبلہ و بیان ان الساقط لا یعود لو قال الوارث: ترکت حقی لم یبطلہ حقہ اذ الملک لا یبطل بالترک، و الحق یبطل بہ حتی لو ان احداً من الغانمین قال قبل القسمۃ: ترکت حقی بطل حقہ الخ(الفن الثالث ج 3 صـــ 53ط: ادارۃ القرآن) ۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1