السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، مفتی صاحب! میرا سوال یہ ہے کہ میری والدہ ماجدہ کا انتقال 1980ء میں ہوا تھا ، میرے نانا اور نانی حیات تھے اور انہوں نے اپنی زندگی میں اپنی زمین وجائیداد کسی بھی اولاد کے نا م پر منتقل نہیں کی تھی، میرے نانا کا انتقال 2005ء میں ہوا تھا، جب کہ میری نانی ان سے پہلے وفات پا چکی تھی، 2007ء میں میرے معاملات میرے ماموں کے ساتھ ٹھیک نہیں تھے اور شاید دونوں طرف سے کچھ غلط فہمی تھی، میرے نانا نے اپنی زندگی میں میری خالہ اور ماموں کا بہت زیادہ مالی طور پر تعاون کیا تھا، جبکہ میری والدہ کی وفات کے بعد انہوں نے مجھ سے بہت دوری اختیار کر لی تھی، میں نے اپنے ماموں سے اپنی والدہ کا نانا کی جائیدادسے حصہ طلب کر لیا، جس پر میرے ماموں نے کچھ غلط الفاظ استعمال کیے جو قابل بیان نہیں، پھر میں نے پاکستان مسلم فیملی لاز کے مطابق سول کورٹ چونیا سے اپنے حصہ حاصل کر لیا ،جس پر میرےتقریبا ساڑھے چار لاکھ خرچ ہوئے 2007ء میں۔ شریعت کے اعتبار سے کیا یہ پراپرٹی میرے لئے جائز ہے کے نہیں؟ راہ نمائی فرمائیں۔ شکریہ ! جزاکم اللہ خیرا!
صورتِ مسئولہ میں چونکہ سائل کی والدہ ماجدہ اپنے والدین کی حیات میں ہی انتقال کر گئی تھیں ، اس لیے وہ اپنے والدین کے ترکہ میں شرعاً حقدار نہیں ہوں گی ، اسی طرح سائل بھی اپنے نانا ،نانی مرحومین کی جائیداد میں حقدار نہیں ، لہذا سائل کا اپنے ماموں سے جائداد میں حصہ کا مطالبہ کرنا بھی شرعاً درست نہیں تھا، تاہم اس کے باوجود سائل نے قانونی چارہ جوئی کے ذریعہ ظلماً جو حصہ حاصل کیا ہے وہ شرعاً حرام اور ناجائز ہے ، جس کی وجہ سے سائل سخت گناہ گار ہو رہا ہے ، لہذا سائل پر لازم ہے کہ وہ مذکورحصہ اس کے حقیقی ورثاء کو واپس لوٹاکر مواخذۂ اخروی سے سبکدوشی حاصل کرے۔
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0