السلام علیکم! میرے سسر کے انتقال کو 17 سال ہو چکے ہیں، ان کے پانچ پانچ منزل کے دو گھر ہیں میں ان کی سب سے بڑی بہوں ہوں میرے شوہر کے انتقال کو سات سال ہو گئے ہیں میرے شوہر کے پانچ بھائی اور تین بہنیں ہیں ان دونوں گھروں میں سب بھائی ایک ایک پورشن میں رہتے ہیں جبکہ چار کا کرایہ اتا ہے ان دونوں گھروں میں تین دکانیں بھی ہیں سب نے فیصلہ کیا کہ ان کا کرایہ سب میں تقسیم ہو جائے ایک پورشن کا کرایہ تین بہنوں کو دیا جائے ایک بہن نے منع کر دیا اپنی خوشی سے کہ میرا حصہ دوسری دو بہنوں کو دے دیں، اب سوال یہ ہے کہ پانچ بھائی اس مکان کا کرایہ لیتے رہے اور بہنوں کو کرایہ نہ دیا دراصل مکان کے پیپر نا مکمل ہونے کی وجہ سے ان کو بیچنے میں وقت لگ رہا تھا اب 17 سال کے بعد یہ دونوں گھر بیچ دئیے گئے ہیں ،کیا جو کرایہ میں نے وصول کیا اس میں بہنوں کا حصہ ہے ؟براہ مہربانی قران و حدیث کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں شکریہ۔
واضح ہو کہ اگر کوئی وارث اپنا حصہ وصول کرنے سے قبل کسی کو معاف کر دے یا اپنے حصہ سے دستبردار ہو جائے تو اس کا شرعا کوئی اعتبار نہیں، بلکہ اس کے باوجود وہ اپنا حصہ لینے کا حقدار ہوگا، چنانچہ صورت مسئولہ میں جب تک جائیداد تقسیم نہیں ہوئی تب تک اس جائیداد سے حاصل ہونے والا کرایہ بھی ترکہ شمار ہو کر تمام ورثاء میں حسب حصص شرعی تقسیم کرنا لازم ہے لہذا کسی ایک بہن یا بھائی کے معاف کر دینے سے اس کا شرعی حصہ ختم نہیں ہوگا، چنانچہ مذکور مکانات کو بیچنے اور کرایہ پر دینے سے جو رقم حاصل ہو چکی ہے وہ پوری رقم تمام ورثا میں حسب حصص شرعی تقسیم ہوگی ،جبکہ بوقت ضرورت ورثاء کی مکمل تفصیل لکھ کر شرعی تقسیم کا طریقہ کار معلوم کیا جا سکتا ہے۔
کما فی الاشباہ والنظائر: ما يقبل الإسقاط من الحقوق وما لا يقبله، وبيان أن الساقط لا يعود: 1 - لو قال الوارث: تركت حقي لم يبطل حقه؛ إذ الملك لا يبطل بالترك، والحق يبطل به حتى لو أن أحدا من الغانمين قال قبل القسمة: تركت حقي بطل حقه، وكذا لو قال المرتهن: تركت حقي في حبس الرهن بطل الخ(ج3 ص354 ط:علمیہ)۔
وفی تنقیح الحامدیۃ: (سئل) في أحد الورثة إذا أشهد عليه قبل قسمة التركة المشتملة على أعيان معلومة أنه ترك حقه من الإرث وأسقطه وأبرأ ذمة بقية الورثة منها ويريد الآن مطالبة حقه من الإرث فهل له ذلك؟ (الجواب) : الإرث جبري لا يسقط بالإسقاط وقد أفتى به العلامة الرملي كما هو محرر في فتاواه من الإقرار نقلا عن الفصولين وغيره الخ(ج 2 ص 27)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1