السلام علیکم!
محترم جناب مفتی صاحب! میرا سوال یہ ہے کہ ہمارا گھر میری والدہ محترمہ کے نام پر تھا، اور بقول میرے والد صاحب کے , گھر خریدتے وقت پیمنٹ میرے والد صاحب نے کی تھی، پھر گھر میری والدہ کے نام پر کروایا تھا، اب میری والدہ کا انتقال ہوچکا ہے،اور میرے والد نے انکے انتقال کے بعد دوسری شادی کرلی تھی، تو سوال یہ ہے کہ کیا شریعت کے حساب سے میری سوتیلی والدہ کا اس گھر میں کوئی حصہ بنتا ہے یا نہیں؟
ملحوظہ : والد محترم صاحبِ حیات ہیں۔
اگر سائل کے والدنے گھر خرید کر اپنی بیوی (سائل کی والدہ )کے نام صرف کاغذوں میں رجسٹرڈ کرایا ہو، اور اسے باقاعدہ مالکانہ حقوق کے ساتھ قبضہ وتصرف کا اختیار نہ دیا ہو،تو وہ مکان بدستور سائل کے والد کی ملکیت ہے، اسلئے اس مکان کو سائل کی والدہ مرحومہ کا ترکہ قرار دیکر سائل اوردیگر بہن بھائیوں کے درمیان تقسیم کرنا جائز نہیں اور نہ ہی سائل کی سوتیلی والدہ کا اس میں حصہ داری کا دعویٰ درست ہے -
البتہ سائل کے والد اگر اپنی مرضی سے سائل اور دیگر بہن بھائیوں میں سے کسی کو دینا چاہے تو اسے اختیار ہے،تاہم یہ تقسیمِ ترکہ نہ ہوگا بلکہ ہبہ (گفٹ) کہلائیگا۔
کما فی الدر المختار : ( وتتم ) الھبۃ ( بالقبض ) الکامل ( ولو الموھوب شاغلا لملک الواھب لامشغولا بہ ) والاصل ان الموھوب ان مشغولا بملک الواھب منع تمامھا و ان شاغلا لا الخ ( ج 5 صـ 690 – 691 کتاب الھبۃ ط : ایچ ایم سعید )۔
و فی الھندیۃ : وفیھا ان یکون الموھوب مقبوضا حتی لا یثبت الملک للمو ھوب لہ قبل القبض الخ ( ج 4 صـ 374 کتاب الھبۃ باب الاول فی تفسیر الھبۃ ط : ماجدیۃ )۔
و فیھا ایضاً: و لو وھب رجل شیئاً لاولادہ فی الصحۃ و اراد تفضیل البعض علی البعض ( الی قولہ ) لاباس بہ اذا لم یقصد بہ الاضرار , سوی بینھم , یعطی الابنۃ مثل ما یعطی للابن و علیہ الفتوٰی الخ (کتاب الھبۃ ، ج 4 ، ص 391 ، ط : ماجدیہ )۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1