احکام وراثت

ترکہ کی تقسیم بصورت مناسخہ

فتوی نمبر :
76752
| تاریخ :
2024-07-21
معاملات / ترکات / احکام وراثت

ترکہ کی تقسیم بصورت مناسخہ

السلام علیکم !
ایک شخص نور محمد صابر کا انتقال ہو گیا ہے ، جس کے ورثاء میں ایک بیوہ اور چار بیٹے ( محمد سہیل صابر ، محمد شعیب صابر ، محمد روحیل صابر اور محمد زبیر صابر) ہیں اور دو بیٹیاں ی(عنی شئینہ اور شبانہ ) ہیں ، اس کے بعد مرحوم کی بیوہ انتقال کر گئی ہیں ، جس کے ورثاء میں مذکورہ چار بیٹے اور دو بیٹاں شامل ہیں ، پھر اس کے بعد مرحوم کی بیٹی شئینہ کا انتقال ہو گیا ، جس کے ورثاء میں شوہر اور دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے ، اس کے بعد بیٹی شبانہ کا انتقال ہو گیا جس کے ورثاء میں شوہر اور ایک بیٹا شامل ہیں ، جائیداد میں دو پلاٹ ہیں , ایک پلاٹ نور محمد مرحوم کے نام پر ہیں جو 400 گز پر مشتمل ہے اور پلاٹ کی صورت میں ہے اور دو سر ا پلاٹ جس میں چار بیٹے رہائش پذیر ہیں ، یہ پلاٹ چاروں بیٹوں اور مرحوم کی بیوہ کے نام پر ہے ، جو کہ نورمحمد صابر کے بعد ان پانچوں نے مل کر خریدی ہے ، جو کہ 371 گز پر مشتمل ہے ، چار بیٹو ں میں پھر بڑے بیٹے محمد سہیل صابر کا نتقال ہو گیا ہے ، جس کے ورثاء میں ایک بیوہ اور ایک بیٹا ہے ، یہاں پر یہ ذکر کر نا ضروری ہے کہ محمد سہیل صابر کی اپنی کوئی اولاد نہیں تھی ، تو والد نور محمد صابر نے اپنے چھوٹے بیٹے شعیب صابر سے کہا کے اب جب آپ کی اولاد ہو گی ، یعنی جو بھی بچہ پیدا ہو گا لڑکا یا لڑ کی وہ اپنے بھائی محمد سہیل صابر کو دے گا ، جس پر محمد شعیب صابر ، اس کی بیوی، ماں، چاروں بھائی اور دونوں بہنوں نے رضامندی ظاہر کی ، محمد شعیب صابر کے بچہ پیدا ہوا تو نور محمد صابر نے اپنے ہاتھوں سے محمد سہیل صابر کو دے دیا ، بچہ دیتے وقت چار بھائی اور دونوں بہنیں بھی موجود تھیں ، اب جبکہ اس بچہ کی عمر 30 سال ہو گئی ہے ، بچہ کی ساری پرورش محمد سہیل صابر اور اس کی بیوی نے کی ، اب جبکہ محمد سہیل صابر کا انتقال ہو گیا ہے اور محمد شعیب صابر کا بھی انتقال ہو گیا ہے ، اور دونوں بہنوں کا بھی انتقال ہو گیا ، اب جو لوگ باقی بچے ہیں دو بھائی محمد روحیل صابر اورمحمد زبیر صابر ہیں ان کا کہنا ہے کہ یہ بچہ محمدسہیل صابر کا نہیں ہے ، جبکہ پیدائش کے دن سے لیکر اب تک برتھ سرٹیفیکٹ ، بے فارم، ایف آر سی ، CNIC اور تمام تعلیمی دستاویزات پر مرحوم محمد سہیل صابر کا نام ہے ، محمد شعیب صابر کے ورثاء میں ایک بیوہ ، تین بیٹے اور ایک بیٹی ہے ، جودوبھائی موجود ہیں ، ان کا کہنا یہ ہے کہ ان کی نیت خراب ہے کہ بڑے بھائی کا حصہ بھی کھانا چاہتے ہیں ، آپ سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ ہماری رہنمائی کیجئے اور فتوی جاری کیا جائے۔
نوٹ : دوسرا پلاٹ نور محمد صابر کی بیوہ اور چار بیٹوں نےملکر اپنے ذاتی رقم سے خریدا ہے ، محمد سہیل صابر کے بعد محمد شعیب کا انتقال ہوا ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ لے پالک (منہ بولا بیٹا ) چونکہ شرعاً پرورش کرنے والے مرد و عورت کی وراثت میں حق دار نہیں ہوتا، بلکہ وہ اپنے حقیقی والدین کا وارث ہوتا ہے ، اس لئے صورتِ مسئولہ میں مذکور لے پالک بیٹا محمد سہیل صابر کا وارث نہیں ہے ، بلکہ اپنے حقیقی والد محمد شعیب صابر کا وارث ہے ، اور محمد سہیل صابر کی جائیداد اس کے تمام شرعی ورثاء کے درمیان حسب ِحصصِ شرعیہ تقسیم کی جائےگی ، جبکہ بھائی ( محمد شعیب صابر ) سے لی ہوئی اولاد کے ’’ پیدائش کے دن سے لیکر اب تک برتھ سرٹیفیکٹ ، بے فارم، ایف آر سی ، CNIC اور تمام تعلیمی دستاویزات پر مرحوم محمد سہیل صابر کے بجائے اصل والد ( محمد شعیب صابر ) کا نام درج کرانا لازم تھا ‘‘ اور کاغذات میں ، اصل والد کے علاوہ تایا ( محمد سہیل صابر ) کا نام بطورِ ولدیت درج کرانا ازروئے قرآن و حدیث ناجائز وحرام عمل کا ارتکاب ہوا ہے ، جس پر بصدقِ دل توبہ و استغفار اور جلد از جلد ان کاغذات کو درست کرانا لازم ہے، تاہم پہلا پلاٹ جس کا مالک نور محمد صابر تھا ،اس کی دیگر جائیداد کے ساتھ ان کے شرعی ورثاء میں تقسیم ہوگا ، جبکہ دوسرا پلاٹ جوکہ نور محمد صابر کی بیوہ اور چار بیٹوں نے ملکر اپنے ذاتی رقم سے خریدا ہے یہ ان کی ذاتی ملکیت ہے ، اس لئے مرحوم نور محمد صابر کاترکہ تقسیم کرتے وقت یہ پلاٹ اس میں شامل نہ ہوگا ، البتہ ان شرکاء میں سے جن کا انتقال ہوا ہے ان کا حصہ ان کے شرعی ورثاء میں تقسیم کیا جائیگا ۔
اس کے بعد واضح ہو کہ سائل کے مرحومین والدین کا ترکہ اس کے موجود ورثاء میں اصول میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحومین نے بوقت انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا ، چاندی ، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑاگھریلو سازو سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، وہ سب مرحومین کا ترکہ ہے ، جس میں سے سب سے پہلے مرحومین کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعددیکھیں کہ اگر ان کے ذمہ کچھ قرض واجب الاداء ہو تو وہ ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومین نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3)کی حد تک اس پر عمل کریں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل سات ہزار دو سو (7200) حصے بنائے جائیں ، جن میں سے مرحومین کےہر بیٹے کو ایک ہزار آٹھ سو (1800) حصے ، ہرپوتے (شعیب کے بیٹے) کو تین سو پچاس (350) حصے ، پوتی ( شعیب کی بیٹی) کوایک سو پچتر (175 ) حصے ، بہو (سہیل صابر کی بیوہ) کوتین سو ساٹھ (360) حصے، دوسری بہو( شعیب صابر کی بیوہ ) کو دو سو پچیس (225) حصے ، ہر ایک داماد (شئینہ کے شوہر اور شبانہ کے شوہر ) کو ایک سو اسی (180) حصے ، نواسے ( شئینہ کے ہر بیٹے ) کودو سو سولہ (216) حصے ، نواسی ( شئینہ کی بیٹی ) کو ایک سو آٹھ (108) حصے ، جبکہ نواسہ ( شبانہ کے بیٹا ) کو پانچ سو چالیس (540) حصے دیے جائیں -

مأخَذُ الفَتوی

كما قال الله تعالى : ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيمَا أَخْطَأْتُمْ بِهِ وَلَكِنْ مَا تَعَمَّدَتْ قُلُوبُكُمْ وَكَانَ اللهُ غَفُورًا رَحِيمًا (سورة الأحزاب ، الآية : ۵)-
وفی التفسير المظهري: فلا يثبت بالتبني شىء من أحكام البنوة من الإرث و حرمة النكاح و غير ذلك اھ (ج 7، ص 284 ، مكتبة الرشدية، الباكستان)-
و في صحيح البخاري : عن سعد رضي الله عنه قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول : من ادعى إلى غير أبيه، وهو يعلم أنه غير أبيه، فالجنة عليه حرام (باب : من ادعى إلى غير أبيه ، ج ٦، ص ۲۳۸۵ ، رقم : ٦۳۸۵ ، ط: دار ابن كثير، دمشق)-
وفي البحر الرائق : وقد قالوا إن ‌الإقرار ‌بالولد ‌الذي ‌ليس ‌منه حرام كالسكوت لاستلحاق نسب من ليس منه الخ (باب العنين، ج 4 ، ص 132، ط : دار الكتاب الإسلامي)-
و في رد المحتار : تحت ( قوله هي علم بأصول الخ ) وشروطه ثلاثة : موت مورت حقيقة أو حكما ( إلى قولة) و وجود وارثه عند موته حيا حقيقة أو تقديرا کا لحمل الخ ( کتاب الفرائض ، ج 6 ، ص 758 : سعید)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عبدالمجید نور عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 76752کی تصدیق کریں
0     606
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • وراثت کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 6
  • باپ کی جائیداد میں اولاد کا حصہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 4
  • کسی وارث کا اپنا حصہ میراث معاف کرنے کا طریقہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 3
  • بھائیوں کا مرحوم والد کے ترکہ میں سے بہن کو حصہ نہ دینا

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 1
  • وفات کے بعد ملنے والی پینشن اورگریجویٹی کاحکم

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • ورثے میں انشورنس کمپنی سے پیسے ملیں تو ان کا کیا حکم ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • یتیم پوتوں کو دادا کی جائیدا میں حصہ کیوں نہیں ملتا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • وراثت کی تقیسم میں بلا وجہ تاخیر کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • بیٹوں کو ہبہ کردہ حصے میں بیٹیوں کا بعد از وفات حصہ مانگنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • نافرمان بیٹے کو جائیداد سے محروم کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بیٹوں کے نام کی گئی زمین میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بیوہ ،سات بیٹوں اور تین بیٹیوں میں ترکے کی تقسیم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکے کے مکان سے کرایہ کی مد میں حاصل شدہ رقم میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بہنوں کا میراث میں حصہ اور اپنا حصہ معاف کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بڑے بیٹے کی کمائی میں , باپ کے انتقال کے بعد وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء=بیوہ,والد,والدہ,ایک بیٹا ایک بیٹی)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = 3 بیٹے 1 بیٹی 1 بہو 1 پوتا)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = ایک بیوہ ,دو بیٹے, ایک بیٹی, پانچ بھائی, پانچ بہنیں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بیٹے کی ذاتی کمائی میں وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بھائی کی موجودگی میں مرحومہ بہن کے ترکے میں بہن حصہ دار ہوگی یا نہیں ؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
Related Topics متعلقه موضوعات