ایک شخص کلالہ وفات پا گیا ، اس شخص کا ایک بھائی ان کی حیات میں انتقال کرگیا تھا ، اس وفات پانے والے بھائی کے دو بیٹے ہیں، ایک کلالہ کا بھائی جوکہ زندہ ہے ۔ اب آیا جو بھائی اس کی زندگی میں وفات پاگیا تھا، اسکے بیٹوں کووراثت ملے گی یا نہیں ؟ یا یہ ساری وراثت اس بھائی کو ملے گی جو کہ زندہ ہے ؟
صورت مسئولہ میں مذکور مرحوم شخص کے جس بھائی کا اس کی زندگی ہی میں انتقال ہو چکا تھا، اس بھائی کی اولاد کا انکے چچا کی موجودگی میں مرحوم کے ترکہ میں شرعاً کوئی حصہ نہیں، اور نہ ہی انہیں اس ترکہ میں کسی بھی قسم کی حصہ داری کے مطالبہ کا حق حاصل ہے، بلکہ اس کے تمام ترکہ کا حقدار مرحوم کا موجود سگا بھائی ہی ہوگا، البتہ مرحوم کا سگا بھائی ( چچا) اپنے بھتیجوں کو اپنی مرضی و خوشی سے اس میں سے کچھ دینا چاہے، تو اس کااسے اختیار ہے اور باعث اجر و ثواب بھی ہے،مگرایسا کرنا اس پر لازم نہیں۔
کما فی التفسیر الکبیر تحت قولہ تعالی: ( و اذا حضر القسمۃ اولو القربیٰ الآیۃ) ان الذین لا یرثون (الی قولہ ) انما قدم الیتامی علی المساکین لان الضعف الیتامی اکثر، وحاجتھم اشد، فکان وضع الصدقات فیھم افضل و اعظم فی الاجر الخ ( سورۃ نساء : آیۃ : 8 ج 5 صـــ 160 ط : دار الکتب) ۔
وفی الہندیۃ: (الباب الثالث في العصبات) وهم كل من ليس له سهم مقدر ويأخذ ما بقي من سهام ذوي الفروض وإذا انفرد أخذ جميع المال، كذا في الاختيار شرح المختار (باب العصبات، ج6،ص451، ط: ماجدیۃ)۔
وفی الدر المختار: ثم العصبات بأنفسهم أربعة أصناف جزء الميت ثم أصله ثم جزء أبيه ثم جزء جده (ويقدم الأقرب فالأقرب منهم) بهذا الترتيب فيقدم جزء الميت (كالابن ثم ابنه وإن سفل ثم أصله الأب ويكون مع البنت) (الی قولہ)(ثم جزء أبيه الأخ) لأبوين (ثم) لأب ثم (ابنه) لأبوين ثم لأب (وإن سفل) الخ (باب العصبات، ج6،ص774، ط: سعید)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1