السلام علیکم، مجھے امید ہے کہ آپ کو یہ پیغام آپ کی بہترین صحت کی حالت میں ملے گا ، میرا ایک سوال یہ ہے کہ ہماری والدہ کا انتقال 25 مارچ 2018 کو ہوا، 8 ماہ بعد میری بہن کی شادی 25 نومبر 2018 کو ہوئی، 1 سال 4 ماہ اور 21 دن کے بعد وہ 15 اپریل 2020 کو ایک ہسپتال میں قلبی بندش کی وجہ سے انتقال کر گئی،اس کی موت کے وقت، میری بہن کے پہلے حمل کے 8 ماہ ہوئے تھے اور اس کا اکلوتا بچہ پیٹ میں ہی اس کے ساتھ فوت ہو گیا ،اب ہمارے سابق بھابہنوئی ماں کی وراثت میں سے بہن کا حصہ مانگ رہے ہیں،کیا ہم اپنی والدہ کی جائیدادوں میں اس کے ذمہ دار ہیں؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب دیں۔
سائل کی والدہ مرحومہ کے انتقال کے وقت چونکہ سائل کی مذکورہ بہن حیات تھی، لہذا دیگر ورثاء کی طرح سائل کی مرحومہ بہن بھی اپنے شرعی حصہ کی حقدار ہوگی، چنانچہ مرحومہ بہن کو ملنے والا حصہ شوہر سمیت دیگر بہن بھائیوں میں حسب حصص شرعی شرعی تقسیم ہوگا۔
کما فی السراجی: واما للزوج فحالتان النصف عند عدم الولد وولد الابن وان سفل والربع مع الولد اھ(ص7،ط:قدیمی کتب خانہ)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1