بخدمتِ جناب، مہتم اعلیٰ صاحب " جامعہ بنوریہ عالمیہ ، کراچی !
نفس ِمضمون : تقسیم ترکہ وراثتی امور ۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبراکاتہ !
میں ایک فالج اور دیگر متعدد بیماریوں سے نبرد آزما تقریباً 74 سالہ بیوہ ہوں ، میرے شوہر رحیم بخش 2023 میں رضائے الہی سے وفات پاگئے ہیں ، میرے پانچ "5"بچے ہیں (3) بیٹے اور 2 بیٹیاں ) جن میں سے ایک 47 سالہ کنواری بیٹی اور باقی سب شادی شدہ بال بچے دار ہیں ، میرے شوہر کی کچھ جائیداد مجھے اُن کی دوسری ملکیتی امور انجام پاچکے ہیں ، اس کے علاوہ جس گھر میں ہماری فیملی رہائش پذیر ہے ، وہ میرے شوہر نے میرے نام پھر لیا تھا ، آپ سے گزارش ہے کہ اس ضمن میں میری رہنمائی فرمائیں کہ اسے مجھے اپنے بچوں میں کس شرح سے تقسیم کرنا ہوگا ؟
1- کیا میں اسے اپنی مرضی سے تقسیم کر سکتی ہوں ؟
2- کیا میں اس میں سے کچھ حصہ اپنے شوہر کے صدقہ جاریہ کےلئےمختص کر سکتی ہوں ؟
جیسا کہ یہ گھر میرے نام ہے ، تومجھے شرعی طریقہ جس سے میں اپنے خاوند اور اپنے اللہ اور روز ِآخرت میں اس معاملے میں سر خرو رہوں ، آپ سے التماس ہے کہ ان تمام سوالوں کے الگ الگ وضاحت سے جواب دے کر میری رہنمائی فرمائیں اور اگر اس ضمن میں میرے سوالات کے علاوہ بھی کوئی صورت ہو تو براہ کرم وہ بھی واضح کر دیں ۔
واضح ہو کہ کوئی چیز محض کاغذات میں کسی کے نام کر دینے سے شرعاً اس شخص کی ملکیت نہیں بنتی ، جب تک اسے اس چیز کے مالکانہ حقوق کے ساتھ قبضہ نہ دیا جائے ، لہذا صورتِ مسئولہ میں سائلہ کے شوہر نے مذکور گھر اگر فقط سائلہ کے نام کیا تھا ، اسے اپنی زندگی میں باقاعدہ مالکانہ حقوق کے ساتھ سائلہ کے قبضہ میں نہیں دیا تھا ، تو شرعاً یہ سائلہ کی ملکیت نہیں بنا ، بلکہ مرحوم کی وفات تک مرحوم شوہر کی ملکیت رہا ، جوکہ اب مرحوم کی وفات کے بعد اس کے تمام ورثاء میں حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہوگا ، اور اس صورت میں سائلہ کا دیگر ورثاء کی اجازت و رضامندی کے بغیر اپنے حصے کے علاوہ باقی مکان کے کچھ حصے کو اپنے مرحوم شوہر کے ایصالِ ثواب کے لئے مختص کرنے، اسے اپنی مرضی سے تقسیم کرنے یا اس کے علاوہ اس میں کسی قسم کے تصرف کا اختیار حاصل نہ ہوگا ، البتہ اگر مرحوم نے اپنی زندگی میں سائلہ کو اس مکان پر باضابطہ مالکانہ قبضہ بھی دے دیا تھا ، تو سائلہ شرعاً بھی اس گھر کی مالکہ بن چکی تھی ، چنانچہ اب وہ اس میں اپنی مرضی سے جس طرح چاہے تصرف کر سکتی ہے ، لہذا اس صورت میں اسے تقسیم کرنا یا اپنے مرحوم شوہر کے لئے بطورِ صدقہ جاریہ وقف کرنا یا اس کے علاوہ اس کے لئے اس میں ہر قسم کا تصرف کرنا جائز اور درست ہوگا ۔
و في الدر المختار : ( وتتم ) الهبة ) بالقبض ) الكامل الخ. (كتاب الهبة ، ج 5، ص 690، ط : سعید)-
و في رد المحتار : تحت ( قوله هي علم بأصول الخ ) وشروطه ثلاثة : موت مورت حقيقة أو حكما ( إلى قولة) و وجود وارثه عند موته حيا حقيقة أو تقديرا کا لحمل الخ ( کتاب الفرائض ، ج 6 ، ص 758 : سعید)-
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1