مجھے اپنی پھوپھی کے مال کی تقسیم کے بارے میں ایک فتوی حاصل کرنا ضروری ہے: میری پھوپھی کا انتقال ہوگیا،اسکی کوئی اولاد نہیں ہے،وفات کے وقت انکے دو بھائی، پانچ بہنیں،اور شوہر حیات تھے، میری پھو پھی کی وفات کے صرف دو دن بعدانکے شوہر کا بھی انتقال ہوگیا، میری پھوپھی کی کوئی اولاد نہیں تھی،میری پھوپھی سے شادی سے پہلے انکے شوہر کی دو بیویا ں تھی،میری پھوپھی سے شادی سے پہلےانکے شوہر نے کبھی اس بارے میں معلومات شیئر نہیں کیں، میری پھوپھی اپنے شوہر کی دوسری بیوی تھی، وہ دونو ں بیرون ملک سعودیہ میں مقیم تھے، لیکن اس کے بعد وہ 15 سال سے کراچی میں مقیم تھے، میرا پھوپھا یہاں کام نہیں کر رہا تھا، وہ کراچی میں آباد ہونے کے بعد بیمار تھا،اور انکے پاس کوئی بینک بیلنس بھی نہیں تھا،اپنی موت سے ٹھیک پہلے اس نے بتایا کہ اس کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں دوسری بیویوں سے، لیکن وہ ان سے کبھی نہیں ملا اور نہ ہی اس کی کوئی اطلاع ہے، اس نے اپنی دونوں بیویوں کو بہت ابتدائی مراحل میں چھوڑ دیا تھا جب بچے ایک یا دو سال کے تھے، اس کے بعد اس نے نہ کبھی پوچھا اور نہ اسے بیوی بچوں کے بارے میں کبھی اطلاع ملی، انکی مصری بیوی سے دو بیٹے اور پہلی پاکستانی بیوی سے دو بیٹیاں تھیں،لیکن اسے کوئی اطلاع نہیں تھی کہ وہ اب کہاں ہیں،آیا وہ زندہ ہیں یا مرچکے ہیں، میرے پھوپھا کی موت کے بعد ہم نے ان کے بچوں اور سابقہ بیویوں کے بارے میں بہت تفتیش کی لیکن کوئی اطلاع نہیں ملی، ہم ان کے ساتھ مرحوم کی موت کی معلومات شیئر کرنا چاہتے ہیں، لیکن کو ئی رابطہ نہیں ہوا، تمام کوششوں کے باوجود ہم انکے بارے میں نہیں جانتے، کیونکہ مصر میں انکا پتہ لگانا مشکل ہےکہ مرحوم نے ان کے بارے میں کبھی معلومات شیئر نہیں کیں، میری پھوپھی کے انتقال کے بعد ، اب دارالافتاء سے درخواست ہےکہ میری پھوپھی کے بقیہ اثاثوں کی انکے قانونی ورثاء میں تقسیم کے بارے میں فتوی دیں۔ جزاک اللہ خیرا، بہت بہت شکریہ
اضافی معلومات: میری پھوپھی کے چار بھائی اور پانچ بہنیں تھیں، وفات کے وقت دو بھائی اور پانچ بہنیں زندہ تھیں،انکی موت سے پہلے مرحومہ کے دو بھائی وفات پاچکے تھے۔
صورت مسئولہ میں چونکہ سائل کے پھوپھا کی اولاد کی حیات یقینی اور موت مشکوک ہے،لہذا جب تک حاکم کی طرف سے اسکی کوئی مدت مقرر نہ کر دی جائےاور وہ مدت گزر نہ جائےاس وقت تک وہ حیات شمار ہونگے،اور انکی مملوکہ کوئی بھی چیز انکی ملکیت سے نہیں نکلے گی، البتہ جو اشیاء ان کی مملوکہ نہیں، ان میں انہیں مردہ تصور کیا جائےگا،اس بناء پر وہ اس وقت تک کسی کے وارث نہ ہونگے، جب تک کہ ان کی حیات کی کوئی قطعی دلیل قائم نہ ہوجائے، لہذا صورت مسئولہ میں سائل کے پھوپھا کے انتقال کے بعد انکی گم شدہ اولاد کا میراث میں کوئی حصہ نہیں،بلکہ مرحوم کی اولاد کے علاوہ دیگر ورثاء (بھائی، بہنوں وغیرہ) کو ملے گا، چنانچہ مرحوم پھوپھا کو ملنے والا حصہ ان کے بھائی بہنوں کے حوالے کردیا جائیگا۔
اس کے بعد واضح ہوکہ سائل کی پھوپھی مرحومہ کاترکہ اصول میراث کے مطابق ان کے موجود ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحومہ نے بوقت انتقال جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال وجائیداد، سونا، چاندی، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو سازو سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے، وہ سب مرحومہ کاترکہ شمار ہوگا، مرحومہ کے کفن دفن کے مصارف شوہر کے ذمہ لازم ہوتے ہیں،چنانچہ یہ مصارف اگر شوہر نے یا کسی اور نے بطور تبرع ادا کئے ہوں تو اب یہ ترکہ سے منہانہ ہونگے، جبکہ مرحومہ کے شوہر نے اگر مرحومہ کی زندگی میں اس کا حق مہر ادا نہ کیا ہوتو اب طے شدہ حق مہر مرحومہ کے ترکہ میں شامل ہوگا، جوکہ مرحومہ کے شوہر سمیت تمام ورثاء میں حسب حصص شرعی تقسیم ہوگا ،اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومہ کے ذمہ کچھ قرض واجب الاداء ہوتو وہ ادا کریں،اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہوتو بقیہ مال کے ایک تہائی (3 / 1)حصے کی حد تک اس پر عمل کریں،اس کے بعد جوکچھ بچ جائے اس کے کل اٹھارہ (18) حصے بنائے جائیں،جن میں سے مرحومہ کے شوہر کو نو(9) حصے، ہر بھائی کو دو (2) حصے، اور ہر بہن کو ایک (1) حصہ دیدیا جائے،جیساکہ ذیل کے نقشہ سے واضح ہورہا ہے، مزید سہولت کے لئے فیصدی حصے بھی لکھ دیئے گئے ہیں۔
مسئلہ: 2/18 (پھوپھی مرحومہ) المضروب:9
میتــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
شوہر بھائی بھائی بہن بہن بہن بہن بہن
1 1
9 2 2 1 1 1 1 1
50% 11.111% 11.111% 5.555% 5.555% 5.555% 5.555% 5.555%
واللہ خیر الوارثین
عبدالحنان عفی عنہ
دارالافتاء جامعہ بنوریہ عالمیہ
25/01/1446ھ
کما فی بدائع الصنائع: (أما) الأول: فالمفقود اسم لشخص غاب عن بلده ولا يعرف خبره أنه حي أم ميت (فصل): وأما حال المفقود: فعبارة مشايخنا – رحمهم الله – عن حاله أنه حي في حق نفسه ميت في حق غيره، والشخص الواحد لا يكون حيا وميتا حقيقة لما فيه من الاستحالة ولكن معنى هذه العبارة أنه (تجري) عليه أحكام (الأحياء) فيما كان له فلا يورث ماله ولا تبين امرأته كأنه حي حقيقة (وتجري) عليه أحكام الأموات فيما لم يكن له فلا يرث أحدا كأنه ميت حقيقة؛ لأن الثابت باستصحاب الحال يصلح لإبقاء ما كان على ما كان ولا يصلح لإثبات ما لم يكن وملكه في أحكام أمواله ونسائه أمر قد كان واستصحبنا حال الحياة لإبقائه وأما ملكه في مال غيره: فأمر لم يكن فتقع الحاجة إلى الإثبات واستصحاب الحال لا يصلح حجة لإثبات ما لم يكن، وتحقيق العبارة عن حاله أن غير معلوم، يحتمل أنه حي ويحتمل أنه ميت، وهذا يمنع التوارث والبينونة؛ لأنه إن كان حيا يرث أقاربه ولا يرثونه ولا تبين امرأته، وإن كان ميتا لا يرث أقاربه ويرثونه والإرث من الجانبين أمر لم يكن ثابتا بيقين فوقع الشك في ثبوته فلا يثبت بالشك والاحتمال الخ (ج6 صـ196 [كتاب المفقود] [بيان حال المفقود] ط: سعید)۔
وفی الدر المختار: إنما يحكم بموته بقضاء لأنه أمر محتمل، فما لم ينضم إليه القضاء لا يكون حجة الخ (ج4 صـ197 کتاب المفقود ط: سعید)۔
وفی رد المحتار: ثم رأيت عبارة الواقعات عن القنية أن هذا أي ما روي عن أبي حنيفة من تفويض موته إلى رأي القاضي نص على أنه إنما يحكم بموته بقضاء إلخ (قوله: فإن ظهر قبله) هذه القبلية لا مفهوم لها وإن ذكرها الكثيرون سائحاني، ولذا قال في البحر: وإن علم حياته في وقت من الأوقات يرث من مات قبل ذلك الوقت من أقاربه اهـ لكن لو عاد حيا بعد الحكم بموت أقرانه قال ط: الظاهر أنه كالميت إذا أحيي الخ (ج4 صـ197 کتاب المفقود ط: سعید)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1