احکام وراثت

ترکہ کا سامان فروخت کرنا-ورثاء میں یتیم بچوں کا حصہ کس کے حوالے کیا جائے گا ؟

فتوی نمبر :
77038
| تاریخ :
0000-00-00
معاملات / ترکات / احکام وراثت

ترکہ کا سامان فروخت کرنا-ورثاء میں یتیم بچوں کا حصہ کس کے حوالے کیا جائے گا ؟

محمد سعید صاحب کا انتقال 23 جون کو صبح 6:30 بجے ہوا، ورثاء میں1 بیوہ، 1بیٹی ( عمر 10 سال)، بیٹا( عمر 14 سال)، بیٹا عمر (17 سال) بیٹا (عمر 21 سال)، وراثت میں مکان، کیش اور اس میں استعمال ہونے والا سامان وغیرہ چھوڑگیا ، جس میں کچھ ضرورت سےزیادہ سامان ہے۔
1)ضرورت سے زیادہ سامان فریج،اے سی،چار پائیاں،پنکھے وغیرہ مارکیٹ ویلیو کے مطابق بیچ کر جو جمع شدہ رقم بینک میں تھی اس میں شامل کردی ہے، کیا یہ صحیح ہے ؟
2)شرعی حکم کیا ہے اس کیس میں جبکہ تمام بچے ابھی پڑھ رہے ہیں اور کمائی کا کوئی اور مستقل ذریعہ نہیں ؟
3) مرحوم کی ذاتی استعمال کی اشیاء مثلاً کپڑے، موبائل فون، لیپ ٹاپ، موٹر سائیکل اس کے بارے میں کیا حکم ہے ؟
4) محمد سعید کی بینک میں جو جمع شدہ رقم ہے اس کے لئے اہلیہ سے گاہے بہ گاہے اظہار کرتا رہتا تھا کہ یہ جمع شدہ رقم چھوٹی بیٹی کی شادی کے لئے ہے اس کا کوئی تحریری ثبوت نہیں۔
5)ان یتیموں کا مال کس عمر میں ان کے حوالے کیا جائے؟
6) کیا بیوہ اپنے بچوں کی کفالت خود کرسکتی ہے، مرحوم کی جمع شدہ رقم کے ملنے والے شرعی منافع سے۔
جب تک یتیم بچے سمجھدار ی کی عمر (شریعت کے مطابق) تک نہیں پہنچتے تو بچوں کا مال، والدہ بچوں پر خرچ کرسکتی ہے ؟ قرآن وحدیث کے مطابق رہنمائی کیجئے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مرحوم کے اگر تمام ورثاء عاقل وبالغ ہوں اور سب کی رضامندی سے ترکے کا سامان فروخت کیا گیا ہو، یا تمام ورثاء تو عاقل و بالغ نہ ہوں لیکن مرحوم نے اپنی زندگی میں کسی شخص(اپنے بڑے بیٹے) کو ان نابالغ بچوں کا نگران اور وصی منتخب کیا ہو اور اس وصی اور نگران کی اجازت سے دیگر ورثاء نے ترکے کاسامان فروخت کیا ہو تو ایسا کرنا شرعاً جائز اور درست تھا اور اس سامان سے حاصل شدہ رقم اب دیگر ترکے کی طرح تمام ورثاء کے درمیان حسب حصص شرعیہ تقسیم ہوگی۔
مذکور بچوں میں سے جو عاقل اور سمجھدار ہو اسے تو اس کا حصۂ میراث حوالے کیا جائے گا، تاکہ وہ اپنی مرضی سے اپنی ضروریات(تعلیم وغیرہ) پر خرچ کرسکے، البتہ جو بچے ناسمجھ ہوں ان کا حصۂ میراث فی الوقت ان کے حوالے نہ کیا جائے، بلکہ اگر والد نے ان کا کوئی وصی اور نگران مقرر کیا ہو تو ان کا حصہ اس کے پاس بطور ِامانت رکھا رہے گا جو کہ اس کے کھانے پینے وغیرہ دیگر ضروری اخراجات پر عرف کے مطابق خرچ کرتا رہے، اور جب وہ بچے سمجھدار ہوجائیں تو ان کا حصہ ان کے حوالے کیا جائے، لیکن اگر کوئی نگران مقرر نہ ہو تو بذریعہ عدالت یا خاندان کے لوگوں کی مشاورت سے بچوں کے سمجھدار ہونے تک ان کے حصۂ میراث کی حفاظت کے لئے کوئی دیانت دار شخص مقرر کیا جاسکتا ہے۔
3)مرحوم نے ذاتی نوعیت کی جوبھی اشیاء (مثلاً کپڑے، موبائل فون، لیپ ٹاپ، موٹر سائیکل وغیر)ہ چھوڑی ہیں وہ بھی مرحوم کا ترکہ ہے جو کہ دیگر ترکہ کی طرح اس کے تمام ورثاء میں حسب حصص شرعی تقسیم ہوں گی۔

4) والد مرحوم نے بینک میں جمع شدہ رقم کے متعلق اگرچہ اپنی اہلیہ سے یہ اظہار کرلیا تھا کہ یہ چھوٹی بیٹی کی شادی کے لئے ہے، لیکن شرعاً مرحوم کی اس بات کا اعتبار نہیں، چنانچہ یہ پوری رقم چھوٹی بیٹی کی شادی کے لئے مختص کرنا درست نہیں، بلکہ یہ رقم بھی تمام ورثاء کے درمیان حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہوگی، البتہ عاقل وبالغ ورثاء اپنی مرضی سے اپنے حصوں میں سے والد مرحوم کی منشاء کے مطابق چھوٹی بیٹی کی شادی کے لئے یہ رقم دیدیں تو ایسا کرنا بلاشبہ جائز بلکہ باعثِ اجروثواب ہوگا۔
6)اس کے متعلق حکم یہ ہے کہ ترکہ جلد از جلد تقسیم کرکے ہر عاقل وبالغ وارث کو اور نابالغ وارث کے وصی اور نگران کو اس کا حصہ حوالے کردیا جائے تاکہ وہ نابالغ بچوں کی ضروریات پر یہ رقم خرچ کرسکے، چنانچہ اگر مرحوم نے بچوں کے نگران اور وصی کے طور پر اپنی بیوہ کو منتخب کیا ہو تو اسے بھی نابالغ بچوں کے مال میں شرعی طور پر قابلِ قبول تصرف کرنے کا اختیار حاصل ہوگا، اور اس کے لئے نابالغ بچوں کے حصوں کو غیر سودی بینک میں رکھوا کر حاصل شدہ منافع میں سے اپنے نابالغ بچوں کی ضرویات اور کفالت پر عرف کے مطابق خرچ کرنے کا اختیار حاصل ہوگا، جبکہ بیوہ کا ترکہ میں سے جو حصہ ہے، اس کے لئے اپنے حصے کی رقم سے بچوں کی کفالت پر خرچ کرنا یا اس کے علاوہ اس میں کسی بھی قسم کا تصرف کرنا جائز اور درست ہوگا۔
اس کے بعد واضح ہو کہ مرحوم محمد سعید کا ترکہ اصول ِمیراث کے مطابق اس کے ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا ، چاندی ، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے،اس میں سب سے پہلے ، مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض یابیوہ کا حق مہرواجب الادا ہو تو وہ ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) کی حد تک اس پر عمل کر کے اس کے بعد جو کچھ بچ جائے ،اس کے آٹھ(8) حصے کیے جائیں، جن میں سے بیوہ کو ایک(1) حصہ، جبکہ ہر بیٹے کو دو(2)حصے،اور بیٹی کو ایک(1) حصہ دیا جائے -

مأخَذُ الفَتوی

قال اللہ تعالیٰ: وَابْتَلُوا الْيَتَامَى حَتَّى إِذَا بَلَغُوا النِّكَاحَ فَإِنْ آنَسْتُمْ مِنْهُمْ رُشْدًا فَادْفَعُوا إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ وَلَا تَأْكُلُوهَا إِسْرَافًا وَبِدَارًا أَنْ يَكْبَرُوا وَمَنْ كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ وَمَنْ كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ فَإِذَا دَفَعْتُمْ إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ فَأَشْهِدُوا عَلَيْهِمْ وَكَفَى بِاللَّهِ حَسِيبًا الآیہ(سورۃ النساء،رقم الایۃ6)
و فی احکام القرآن للجصاص: وأما قوله تعالى: {فإن آنستم منهم رشدا} فإن ابن عباس قال: "فإن علمتم منهم ذلك". وقيل: إن أصل الإيناس هو الإحساس, حكي عن الخليل. وقال الله تعالى: {إني آنست نارا} [طه: 10] يعني أحسستها وأبصرتها.وقد اختلف في معنى الرشد ههنا, فقال ابن عباس والسدي: "الصلاح في العقل" وحفظ المال". وقال الحسن وقتادة: "الصلاح في العقل والدين". وقال إبراهيم النخعي ومجاهد: "العقل". وروى سماك عن عكرمة عن ابن عباس في قوله تعالى: {فإن آنستم منهم رشدا} قال: "إذا أدرك بحلم وعقل ووقار".قال أبو بكر: إذا كان اسم الرشد يقع على العقل لتأويل من تأوله عليه, ومعلوم أن الله تعالى شرط رشدا منكورا ولم يشرط سائر ضروب الرشد, اقتضى ظاهر ذلك أن حصول هذه الصفة له بوجود العقل موجبا لدفع المال إليه ومانعا من الحجر عليه; فهذا يحتج به من هذا الوجه في إبطال الحجر على الحر العاقل البالغ, وهو مذهب إبراهيم ومحمد بن سيرين وأبي حنيفة; وقد بينا هذه المسألة في سورة البقرة.( مطلب في تفسير الرشد،ج2،ص358،ط: دار الكتب العلمية بيروت)۔
و فی الدرالمختار:(والولاية في مال الصغير) (إلى الأب ثم وصيه ثم وصي وصيه) إذ الوصي يملك الإيصاء (ثم إلى) الجد (أبي الأب ثم إلى وصيه) ثم وصي وصيه (ثم إلى القاضي ثم إلى من نصبه القاضي) ثم وصي وصيه (وليس لوصي الأم) ووصي الأخ (ولاية التصرف في تركة الأم مع حضرة الأب أو وصيه أو وصي وصيه أو الجد) أبي الأب (وإن لم يكن واحد مما ذكرنا فله) أي لوصي الأم (الحفظ) وله (بيع المنقول لا العقار) ولا يشتري إلا الطعام والكسوة؛ لأنهما من جملة حفظ الصغير خانية.(کتاب الوکالۃ،ج5،ص528،ط:سعید)۔
وفی الھندیۃ: وإن كان الأب قد مات وترك أموالا، وترك أولادا صغارا كانت نفقة الأولاد من أنصبائهم، وكذا كل ما يكون وارثا فنفقته في نصيبه، وكذلك امرأة الميت تكون نفقتها في حصتها من الميراث حاملا كانت أو حائلا بعد هذا ينظر إن كان الميت قد أوصى إلى رجل فالوصي ينفق على الصغار من أنصبائهم، وإن كان لم يوص إلى أحد فالقاضي يفرض لكل واحد من الصغار في نصيبه بقدر ما يحتاج إليه من النفقة على قدر سعة أموالهم وضيقها ويشتري للصغير خادما إن كان يحتاج إلى الخادم(فصل في نفقة الأولاد،ج1،ص564،ط:ماجدیہ)۔
و فی ردالمحتار تحت: (قوله الخالية إلخ) صفة كاشفة لأن تركه الميت من الأموال صافيا عن تعلق حق الغير بعين من الأموال كما في شروح السراجية.(کتاب الفرائض،ج6،ص759،ط:سعید)۔
وفی الھندیۃ : ولا تجوز الوصية للوارث عندنا إلا أن يجيزها الورثة، ولو أوصى لوارثه ولأجنبي صح في حصة الأجنبي ويتوقف في حصة الوارث على إجازة الورثة إن أجازوا جاز وإن لم يجيزوا بطل ولا تعتبر إجازتهم في حياة الموصي حتى كان لهم الرجوع بعد ذلك، كذا في فتاوى قاضي خان اھ(كتاب الوصايا ج6،ص90،ط:ماجدیہ)۔
کما فی الدر المختار: (وجاز) لو اتجر من مال اليتيم (لليتيم) وتمامه في الدرر(ج6،ص712،ط:سعید)۔
و فی الھندیۃ: إن كان الميت قد أوصى إلى رجل فالوصي ينفق على الصغار من أنصبائهم، وإن كان لم يوص إلى أحد فالقاضي يفرض لكل واحد من الصغار في نصيبه بقدر ما يحتاج إليه من النفقة على قدر سعة أموالهم وضيقها ويشتري للصغير خادما إن كان يحتاج إلى الخادم؛لأنه من جملة مصالحه، وكذا كل ما كان من المصالح فالقاضي يشتري ذلك للصغير من نصيبه، فإن كان الميت لم يوص إلى أحد، وله أولاد كبار وصغار فنفقة كل واحد منهم تكون في نصيبه كما ذكرنا وينصب القاضي وصيا في ماله، فإن لم يكن في البلدة قاض فأنفق الكبار على الصغار من أنصباء الصغار كانوا ضامنين في هذه النفقة، وهذا في الحكم، فأما فيما بينهم وبين الله تعالى - فلا ضمان عليهم كذا في الذخيرة(فصل فی نفقۃ الاولاد،ج1،ص564،ط:ماجدیہ)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد خباب ارباب عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 77038کی تصدیق کریں
0     878
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • وراثت کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 6
  • باپ کی جائیداد میں اولاد کا حصہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 4
  • کسی وارث کا اپنا حصہ میراث معاف کرنے کا طریقہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 3
  • بھائیوں کا مرحوم والد کے ترکہ میں سے بہن کو حصہ نہ دینا

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 1
  • وفات کے بعد ملنے والی پینشن اورگریجویٹی کاحکم

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • ورثے میں انشورنس کمپنی سے پیسے ملیں تو ان کا کیا حکم ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • یتیم پوتوں کو دادا کی جائیدا میں حصہ کیوں نہیں ملتا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • وراثت کی تقیسم میں بلا وجہ تاخیر کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • بیٹوں کو ہبہ کردہ حصے میں بیٹیوں کا بعد از وفات حصہ مانگنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • نافرمان بیٹے کو جائیداد سے محروم کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بیٹوں کے نام کی گئی زمین میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بیوہ ،سات بیٹوں اور تین بیٹیوں میں ترکے کی تقسیم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکے کے مکان سے کرایہ کی مد میں حاصل شدہ رقم میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بہنوں کا میراث میں حصہ اور اپنا حصہ معاف کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بڑے بیٹے کی کمائی میں , باپ کے انتقال کے بعد وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء=بیوہ,والد,والدہ,ایک بیٹا ایک بیٹی)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = 3 بیٹے 1 بیٹی 1 بہو 1 پوتا)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = ایک بیوہ ,دو بیٹے, ایک بیٹی, پانچ بھائی, پانچ بہنیں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بیٹے کی ذاتی کمائی میں وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بھائی کی موجودگی میں مرحومہ بہن کے ترکے میں بہن حصہ دار ہوگی یا نہیں ؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
Related Topics متعلقه موضوعات