جناب مفتی صاحب! السلام علیکم!
میں اس وقت میٹروول، سائٹ ایریا میں رہائش پذیر ہوں، یہ مکان امی کے نام پر ہے، اور انہوں نے یہ مکان بیچنے کافیصلہ کرکے 2 کروڑ 15 لاکھ میں بیچ دیا ہے، امی کی عمر اس وقت 80 سال ہے، انہوں نے یہ پلاٹ 83-1984 میں 25 ہزار کا لیا تھا، میرے والد ریلوے میں تین مہینے ملازمت کے بعد انتقال کرگئے،پھر ہمارے کسی رشتہ دار نے پنشن وغیرہ کےلئے درخواست دی، تو انہوں نے کہا اس کی پنشن نہیں بنتی مدت ملازمت کم ہے،اور پھر ویسے ہی تعاون کے طور پر ادارہ نے میری والدہ کو پچیس ہزار روپےدیے ، جس سے والدہ نے پلاٹ خرید لیا،اور پھر ہم بہن بھائیوں نے اس پر تعمیر کی ،اب ہم دو بھائی اور چار بہنیں ہیں،میری بڑی بہن جوکہ انڈیا میں اپنے سسرال کے ہاں رہتی تھی 3 سال پہلے اس کا انتقال ہوگیا ہے،انکے ورثاء میں انکے شوہر اور ایک بیٹی ہیں، ،مفتی صاحب اس وقت والدہ ہم دو بھائی اور تین بہنیں حیات ہیں، ورثاء کے نام :محمد احسان، محمد اکرم، اور بہنوں کے نام: زرین، ماہ جبین، ناضرین،مرحوم بہن کا نام پروین ہے۔
سوال میں درج کردہ بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہواس میں کسی طرح کی غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو،اس طور پر کہ مذکور مکان سائل کے والد مرحوم کی ملکیت اور ترکہ نہ ہو، بلکہ اس مکان کا پلاٹ سائل کی والدہ نے محکمہ ریلوے کی طرف سے اسے ملنے والی اپنی ذاتی رقم سے خریدا ہو، تو شرعاً یہ پلاٹ سائل کی والدہ کی ملکیت تھی، پھر سائل اور اسکے دیگر بہن بھائیوں نے اس پر جو مکان تعمیر کیا ہے، یہ اگر والدہ کے کہنے پر انہوں نے بطورِ تعاون وتبرع تعمیر کیا ہو یا والدہ کو مالکانہ طور پر رقم دیکر اس سے یہ مکان تعمیر ہواہو، تو ایسی صورت میں شرعاً تعمیرشدہ مکان بھی سائل کی والدہ کی ملکیت ہے، چنانچہ اب گھر فروخت ہونے کے بعد اسکے عوض جو رقم ملی ہے، وہ شرعاً سائل کی والدہ کی ملکیت ہے -
اور ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلی ہونے سے قبل چونکہ اپنے مال و جائیداد کا تنہا مالک ہوتا ہے، وہ اس میں جس طرح چاہے تصرف کر سکتا ہے ، اس کے ذمہ اپنی زندگی میں اپنی اولاد کے درمیان مال و جائیداد تقسیم کرنا شرعاً لازم نہیں اور نہ ہی کسی بیٹے یا بیٹی کو اس میں حصہ داری کے مطالبہ کا حق حاصل ہے ، اور سائل کی والدہ بقید حیات ہے، اس لئے سائل کی والدہ کے ذمہ بھی اپنا مال و جائیداد اپنی اولاد میں تقسیم کرنا کوئی لازم نہیں ، البتہ اگر وہ اپنی مرضی سے بلا کسی جبر و اکراہ اپنا مال و جائیداد اپنی اولاد میں تقسیم کرنا چاہے تو شرعاً ایسا کرنا بھی جائز اور درست ہے ، مگر یہ تقسیمِ ِترکہ نہیں بلکہ ہبہ اور گفٹ ہوگا ، جس کا بہتر اور مستحب طریقہ یہ ہے کہ سائل کی والدہ اپنی بقیہ زندگی کے لئے محتاط اندازے کے مطابق اپنے لئے جو کچھ رکھنا چاہے وہ رکھ کر یا مرحومہ بیٹی کی اولاد کو جو کچھ دینا چاہے وہ دیکر بقیہ مال و جائیداد اپنی اولاد ( بیٹوں، بیٹیوں ) میں برابر تقسیم کرکےہر فرد کو اسکے حصے پر باضابطہ مالکانہ قبضہ بھی دیدے تاکہ یہ ہبہ اور گفٹ شرعاً بھی درست اور تام ہو جائے ، محض کاغذات میں نام کر دینا یا زبانی کلامی دینا کافی نہیں ، پھر بہتر اور افضل یہ ہے کہ اس ہبہ اور اعطاء میں سب کو برابر اور یکساں رکھے کسی کو کم کسی کو زیادہ نہ دے کہ سب ہی اس کی اولاد ہیں ، تاہم اگر کسی بیٹے ، بیٹی کی خدمت گزاری ، دینداری وغیرہ کی بناء پر اسے دوسری اولاد کے مقابلے میں زیادہ دینا چاہے تو شرعاً اسکی بھی اجازت ہے، مگر بلا وجہ کسی وارث کو اپنی جائیداد سے بالکل محروم نہ کرے کہ یہ گناہ ہے ۔
کما فی مشکاۃ المصابیح : و عن النعمان بن بشير أن أباه أتى به إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إني نحلت ابني هذا غلاماً، فقال: «أكل ولدك نحلت مثله؟» قال: لا قال: «فأرجعه» و في رواية قال: «فاتقوا الله واعدلوا بين أولادكم»'۔اھ ((1/261باب العطایا، ط: قدیمی)۔
وفی بدائع الصنائع : و ینبغی للرجل ان یعدل بین اولادہ فی النحلی لقولہ سبحانہ و تعالٰی ان اللہ یامر بالعدل و الاحسان الخ ( کتاب الھبۃ ، ج 6 ، ص 127 ، ط : سعید ) ۔
و فی البحر الرائق : یکرہ تفضیل بعض الاولاد علی البعض فی الھبۃ حالۃ الصحۃ ( الی قولہ ) و فی الخلاصۃ المختار التسویۃ بین الذکر و الانثیٰ فی الھبۃ الخ ( کتاب الھبۃ ج 7 ، ص 288 ، ط : ماجدیہ ) ۔
و فی الھندیۃ : و لو وھب رجل شیئاً لاولادہ فی الصحۃ و اراد تفضیل البعض علی البعض ( الی قولہ ) لاباس بہ اذا لم یقصد بہ الاضرار سوی بینھم یعطی الابنۃ مثل ما یعطی للابن و علیہ الفتوٰی الخ (کتاب الھبۃ ، ج 4 ، ص 391 ، ط : ماجدیہ )۔
و فی الدر المختار : ( و تتم ) الھبۃ ( بالقبض ) الکامل ( و لو الموھوب شاغلا لملک الواھب لا مشغولا بہ ) ( کتاب الھبۃ ، ج 5 ، ص 690 ، ط : سعید)۔
وفی رد المحتار: وإنما تبرع به ليسقط عن نفسه الرجوع الخ (ج5 صـ703 باب الرجوع فی الھبۃ ط: سعید)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1