بخدمتِ جناب مفتی صاحب جامعہ بنوریہ عالمیہ کراچی:
جناب عالی!مجھے ایک شرعی مسئلہ حقِ وراثت کی تقسیم کے حوالے سے معلوم کرنا ہے کہ میرے نانا کی جائیداد کی تقسیم کا معاملہ زیرِ غور ہے،میرے نانا نے میری نانی کی وفات کے بعد دوسری شادی کی،میری نانی سے ان کی چھ (6) اولاد ہیں،جس میں پانچ بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے(نسرین اختر مرحومہ،پروین اختر،شمیم اختر،تسلیم اختر،یاسمین اختراور خالدمحمود)مندرجہ بالا اولاد سب شادی شدہ ہیں اور ان میں سے ایک بیٹی نسرین اختر مرحومہ کا انتقال نانا کی حیات میں ہی ہوگیا تھا،مرحومہ کے گیارہ بچے ہیں،اب نانا بھی دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں،دوسری نانی حیات ہےاور ان سے دو بچے ہیں ایک بیٹا اور ایک بیٹی (حسن محمود،طیبہ فاطمہ)،لہذا آپ سے عرض یہ ہے کہ جائیداد کی شرعی تقسیم کو واضح کریں تاکہ دنیوی زیست کے ساتھ اخروی حیات بھی آسان ہوسکے۔
مزید وضاحت:میرے نانا مرحوم کے انتقال کے وقت ایک بیوہ (رخسانہ)دو بیٹے اور پانچ بیٹیاں موجود تھیں،نانا کی ایک بیوی کا انتقال ان کی حیات میں ہی ہوگیا تھا،ان سے ایک بیٹا خالد محمود اور پانچ بیٹیاں پروین اختر،شمیم اختر،تسلیم اختر،یاسمین اختر،نسرین اختر ہیں۔
دوسری نانی (رخسانہ)جو حیات ہے ان کے دو بچے ایک بیٹا حسن محمود اور ایک بیٹی طیبہ فاطمہ موجود ہے،نیز نانی کی ایک اور بیٹی نسرین اختر کا والد کی موجود گی میں ہی انتقال ہوگیا تھا،کیا ان کی اولاد وغیرہ کو والد کی جائیداد میں حصہ ملے گاکہ نہیں؟ جو بھی شرعی حکم ہو اصولِ شریعت کے مطابق تحریر فرمائیں؟
واضح ہوکہ جس بیٹی کا انتقال والدین کی حیات میں ہوجائے،اس کی اولاد شرعاً نانا،نانی مرحومین کے ترکے میں حصہ دار نہیں ہوتی،لہذا نانا مرحوم کی جوبیٹی مسماۃ نسرین اختر مرحومہ نانا کی زندگی میں انتقال کرچکی ہے اس کی اولاد کا نانا مرحوم کے ترکہ میں شرعاً کوئی حصہ نہیں تاہم اگر تمام ورثاء عاقل بالغ ہوں اور وہ اپنی مرضی سے مرحومہ کی اولاد کوکچھ دینا چاہیں تو ایسا کرنا جائز بلکہ اجر وثواب کا باعث ہے۔
اس کے بعد واضح ہو کہ سائل کے نانا مرحوم کا ترکہ اس کے موجود تمام ورثاء میں اصولِ میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا ، چاندی ، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو سازوسامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، اس میں سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض یا بیوہ کا حقِ مہر واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3 ) حصے کی حد تک اس پر عمل کریں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل بہتر (72) حصے بنائےجائیں ، جن میں سے مرحوم کی بیوہ کونو (9) حصے ، ہر بیٹے کو(14 ) حصے ، جبکہ ہر بیٹی کو (7) حصے دیئے جائیں -
کمافی السراجی فی المیراث: وھم أربعۃ أصناف: جزء المیت،وأصلہ،وجزء أبیہ،وجزء جدہ،الأقرب فالأقرب،یرجحون بقرب الدرجۃ (الی قولہ) وھذا مبنی علی أصلین:أحدھما: و ھو أنّ کل من یدلی الی المیت بشخص لایرث مع وجود ذلک الشخص، سوی أولاد الأمّ،فإنھم یرثون معھا لانعدام استحقاقھا جمیع الترکۃ. والثانی: الأقرب فالأقرب کما ذکرنا فی العصبات الخ(ص 36/44 باب الحجب ط: بشریٰ)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1