السلام علیکم !
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میری والدہ انتقال فرما گئی ہیں ،انہوں نے اپنی زندگی میں وصیت کی تھی کہ میری چوڑیاں میری چھوٹی بہو (رمشا)کو دے دی جا ئیں ،کیونکہ باقی بچوں کو ان کی شادی پر زیورات دیےتھے ، اور مزید دو عدد انگوٹھیاں اپنے پوتے (حنظلہ) کو دینے کا کہا تھا ، مرحومہ کا ایک بھائی بھی تھا جو انتقال کر گیا ہے اس کے بچے ہیں ،مر حومہ کی کچھ رقم بھی ہے ،اب قرآن وحدیث کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں ۔
نوٹ :والدہ کی وصیت پر ہم سب بہن بھائیوں کو کوئی اعتراض نہیں ہے ،تقسیم کا طریقہ کا ربتادیں ۔والدہ مرحومہ کے ورثاء میں پانچ سگے بیٹے اور تین بیٹیاں موجود ہیں ، پہلے والدہ نے والد کی جائیداد میں سے اپنے حصہ پر باقاعدہ قبضہ کر کے پھر اپنا حصہ اپنے دو چھوٹے بیٹوں کو باقاعدہ قبضہ کے ساتھ حوالہ کیا ان کی مالی حالت کو دیکھ کر،لیکن اس کے بعد مالی حالت بہتر ہو گئی تھی جس پر والدہ نے ان دوبیٹوں سے واپسی کا مطالبہ کیا تھا ،لیکن ادائیگی سے پہلے ہی والدہ کا انتقال ہو گیا تھا تو اب سوال یہ ہے کہ وہ حصہ بھی والدہ کا ترکہ شمار ہو کر تمام ورثاء میں تقسیم ہو گا یا نہیں؟
سائل کی والدہ مرحومہ نے اپنی بہو اور پوتے کے لئے جو وصیت کی ہے تو ورثاء پر کفن دفن کے اخراجات اور قرض کی ادائیگی کے بعد بقیہ مال کے ایک تہائی کی حد تک مرحو مہ کی وصیت پوری کرتے ہوئے بہواور پوتے کو مذکور اشیاء دینا لازم ہے،جبکہ سائل کی والدہ نے والد کا ترکہ تقسیم ہو نے اور اس پر قبضہ کرنے کے بعد اپنا شرعی حصہ جن دوبیٹوں کو مالکانہ طورپر تقسیم کرکے قرض کی صراحت کے بغیر دے دیا تھا تو یہ ان کی طرف سے تبرع واحسان تھا،اور وہ دونوں بیٹے اس کے شرعاً بھی مالک بن گئے تھے،لہذا بعد میں سائل کی والدہ کا اس حصہ کا مطالبہ کرنا شرعاً جائز نہیں تھا اور نہ ہی اب دیگر ورثاء کو ان دوبھائیوں سے اس کا مطالبہ کرنا شرعاً جائز ہے ،تاہم اگر سوال کی نوعیت مختلف ہو تو مکرر سوال لکھ کر دوبارہ حکمِ شرعی معلوم کرلیا جائے۔
اس کے بعدواضح ہو کہ سائل کی والدہ مرحومہ کا تر کہ اصولِ میراث مطابق ان کے موجودہ ورثاءمیں اس طرح تقسیم ہوگاکہ مرحومہ نے بوقتِ انتقال جوکچھ منقولہ وغیرمنقولہ مال وجائیدادسونا ،چاندی ،زیورات ،نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو سازوسامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے،وہ سب مرحومہ کا ترکہ ہے ، جس میں سے سب سے پہلے مرحومہ کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومہ کے ذمہ کوئی قرض واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں ، اس کے بعد بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3)کی حد تک والدہ کی وصیت پرعمل کریں، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل تیرہ(13)حصے بنائے جائیں ،جن میں سے مرحومہ کے ہر بیٹے کو دو(2)حصے،اورمرحومہ کی ہربیٹی کو ایک(1)حصہ دیاجائے،
کما فی الدر المختار :(وتجوز بالثلث للأجنبي) عند عدم المانع (وإن لم يجز الوارث ذلك لا الزيادة عليه إلا أن تجيز ورثته بعد موته(ج6 ص 650)۔
وفی الھدایہ: قال: "وإن وهب هبة لذي رحم محرم منه فلا رجوع فيها" لقوله عليه الصلاة والسلام: "إذا كانت الهبة لذي رحم محرم منه لم يرجع فيها"؛ ولأن المقصود فيها صلة الرحم وقد حصل(باب الرجوع فی الھبۃ ج3 ص225 ط:دار احياء التراث العربي،بيروت لبنان)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1