کیافرماتے علماءِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے والد مرحوم حاجی محمد قاسم عباسی کا انتقال ہوچکا ہے،بوقتِ انتقال ان کے ورثاء میں دو بیوہ (مہر بی بی،فاطمہ بی بی)چھ بیٹے (راشد،ارشد،نوید،وحید،عاصم،سعید)اور تین بیٹیاں (صائمہ،اسماء،عارفہ)موجود تھیں،دادا،دادی پہلے ہی فوت ہوگئے تھے،پھر اس کے بعد بیوہ مہر بی بی کا انتقال ہوا،اس کے ورثاء میں ایک بیٹا(عاصم) اور دو بیٹیاں(اسماء اور عارفہ)موجود ہیں،پھر اس کے بعد دوسری بیوہ فاطمہ بی بی کا انتقال ہوا،اس کے ورثاء میں پانچ بیٹے (راشد،ارشد،نوید،وحید،سعید)اور ایک بیٹی(صائمہ)حیات ہے۔
اب معلوم یہ کرنا ہےکہ والد مرحوم کا ترکہ مذکور ورثاء میں شریعت کے مطابق کس طرح تقسیم کیا جائیگا؟
سائل کےوالد مرحوم کا ترکہ ان کے موجود تمام ورثاء میں اصولِ میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا ، چاندی ، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو سازوسامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، اس میں سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) حصے کی حد تک اس پر عمل کریں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل دس ہزار پانچ سو ساٹھ (10560) حصے بنائےجائیں ، جن میں سے مرحوم کے بیٹوں(راشد،ارشد،نوید،وحید،سعید) میں سے ہربیٹے کوتیرہ سو باون(1352 ) حصے،اور بیٹی صائمہ کو چھ سو چھہتر(676)حصے،جبکہ بیٹے عاصم کو پندرہ سو باسٹھ(1562 )حصے اور دو بیٹیوں(اسماء اور عارفہ)میں سےہر بیٹی کوسات سو اکیاسی (781) حصے دیدیے جائیں -
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1