کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ لقمان رسول کا انتقال ہوا، اور وہ غیر شادی شدہ تھا، مرحوم لقمان رسول کی وفات کے وقت ان کا کوئی حقیقی بھائی موجود نہیں تھا، ان کا ایک بھائی تھا جو کہ مرحوم کی وفات سے قبل انتقال کرچکا تھا، اور وہ غیر شادی شدہ تھا، جبکہ انتقال کے وقت مرحوم کے ورثاءمیں دو ماں شریک بھائی (میاں رسول اور صاحب رسول ) اور ایک ماں شریک بہن فرزانہ موجود تھی، اس کے علاوہ مرحوم کے تین چچا زاد بھائی (عبدالشکور عبد الرحمن اور عبدالغنی) اور دو چچازاد بہنیں موجود تھیں،جبکہ لقمان رسول کے والدین کا پہلے انتقال ہوگیا تھا،اس کے ایک ہفتے بعد ایک بھائی (ماں شریک) صاحب رسول کا 2004،5 میں انتقال ہوگیا، ورثاء میں بیوہ (بخت نصیبہ ) دو بیٹے ( طاہر خان، ظاہر خان) پانچ بیٹیاں ( ناہیدہ، نسیم، آسیہ،افنان،فتورنی ) موجود تھیں، اس کے بعد بہن فرزانہ کا انتقال 2015 میں ہو گیا ، وہ بھی غیر شادی شدہ تھی، ورثاء میں صرف ایک بھائی میاں رسول موجود تھا،اس کے بعد میاں رسول کا انتقال 2017 میں ہوگیا، ورثاء میں دوبیوہ (بخت ثنا،بخت نساء) چار بیٹے (ناصر خا ن، مصطفی خان، مسلم علی خان،میر عالم خان) سات بیٹیاں ( تاج بیگم، مسلمہ، السلامیہ، شاہدہ،پروین ،نرگس، زینت)، اس کے بعد مرحوم صاحب رسول کی ایک بیٹی مسماۃ فتورنی کا 2020 میں اپنے شوہر اور ایک بیٹے اور ایک بیٹی سمیت کار ایکسڈنٹ میں انتقال ہوا، فتورنی کے ورثاء میں اس کی والدہ دو بھائی اور چار بہنیں موجود ہیں، جبکہ فتورنی کے شوہر کے ورثاء میں ان کی والدہ اور ایک بھائی کا موجود ہونا تو ہمیں معلوم ہےباقی ورثاء کے متعلق ہمیں علم نہیں،پھر مرحوم لقمان رسول کے ایک چچا زاد بھائی عبدالرحمٰن کا انتقال 2021 میں ہوا، اس کے ورثاء میں بیوہ دو بیٹے اور پانچ بیٹیاں موجود ہیں، اس کے بعد مرحوم عبدالرحمٰن کی بہن کا 2022 میں انتقال ہوا، پھر مرحوم کے چچازاد بھائی عبدالشکور بھی 2022 میں انتقال کرگئے، اس کے ورثاء میں چھ بیٹے اور ایک بیٹی حیات ہے، بیوہ کا انتقال ہوچکا ہے، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ مرحوم لقمان رسول کا ترکہ مذکور ورثاء میں شریعت کے مطابق کس طرح تقسیم کیا جائیگا، لہذا اگر کسی وارث کے ترکہ کا مال دیگر ورثاء کی اجازت کے بغیر خود ہی خرچ کردیا ہو، تو کیا ان کی اولاد کے ذمہ دوسرے ورثاء کو ادائیگی کرنا لازم ہے۔
واضح ہو کہ ترکہ کی تقسیم سے قبل , ترکہ تمام ورثاء کے درمیان مشترک ہوتا ہے ، کوئی ایک وارث دوسرے ورثاء کی اجازت کے بغیر ترکہ کی چیزوں میں تصرف کا حق نہیں رکھتا ، لہذا مرحوم لقمان رسول کے ورثاء میں سے کسی ایک وارث کے لئے دیگر ورثاء کی اجازت ورضامندی کے بغیر تصرف کرنا تو جائز نہیں تھا، تاہم اگر کسی وارث نے ترکہ کا مال خرچ کرلیا ہو تو اب اس کے ذمہ دیگر ورثاء کو ان کے حصوں کے بقدر رقم دینا لازم اور ضروری ہوگا، جبکہ مذکور کار ایکسڈنٹ میں انتقال کر جانے والے میاں بیوی اور بچوں کے متعلق یہ معلوم نہ ہو کہ کس کا انتقال پہلے ہوا اور کس کا بعد میں تو ایسی صورت میں یہ ایک دوسرے کے وارث نہیں بنیں گے، بلکہ ہر میت کا تر کہ اسکے موجود زندہ ورثاء میں تقسیم کیا جائیگا۔
اس کے بعد واضح ہو کہ مرحوم کا ترکہ ان کے ورثاء کے درمیان اصولِ میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال وجائیداد، سونا چاندی، زیورات، نقدی اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز وسامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے، وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے، جس میں سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو، تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) کی حد تک اس پر عمل کریں، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے ، اس کے کل بیس لاکھ اکیس ہزار سات سو ساٹھ(2021760)حصے بنائے جائیں، جن میں سے چچازاد بھائی عبدالغنی کو چار لاکھ انچاس ہزار دو سو اسی(449280) حصے، اور صاحب رسول کی بیوہ کو اکتیس ہزار سات سو بیس (31720) حصے، اور ان کے ہر بیٹے کو اڑتالیس ہزار دو سو تیس(48230) حصے، اور ہر بیٹی کو چوبیس ہزار ایک سو پندرہ (24115) حصے، اور دوسرے بھائی میاں رسول کی ہر بیوہ کو اٹھائیس ہزار اسی(28080) حصے، اور ان کے ہر بیٹے کو باون ہزار چار سو سولہ(52416) حصے، اور ہر بیٹی کو چھبیس ہزار دو سو آٹھ(26208) حصے، اور ان کے چچازاد بھائی عبدالرحمن کی بیوہ کو چھپن ہزار ایک سو ساٹھ(56160) حصے، اور ہر بیٹے کو ستاسی ہزار تین سو ساٹھ(87360) حصے، اورہر بیٹی کو تریالیس ہزار چھ سو اسی(43680) حصے، اور چچازاد بھائی عبدالشکور کے ہر بیٹے کو انہتر ہزار ایک سو بیس (69120) حصے، اور ہر بیٹی کو چونتیس ہزار پانچ سو ساٹھ(34560) حصے دیے جائیں -
کمافی الھندیۃ: ولا يجوز لأحدهما أن يتصرف في نصيب الآخر إلا بأمره،الخ (ج2 ص301 کتاب الشرکۃ ط ماجدیۃ)۔
و فی ردالمحتار: تحت (قوله إلا أن يصطلحا) (الی قولہ) بيانه أن شرط الإرث وجود الوارث حيا عند موت المورث، الخ(ج6 ص769 کتاب الفرائض ط سعید)۔
وفی ردالمحتار: تحت (قوله: إلا إذا علم إلخ) اعلم أن أحوالهم خمسة على ما في سكب الأنهر وغيره.
أحدها هذا وهو ما إذا علم سبق موت أحدهما ولم يلتبس فيرث الثاني من الأول ثانيها: أن يعرف التلاحق ولا يعرف عين السابق ثالثها: أن يعرف وقوع الموتين معا رابعها: أن لا يعرف شيء ففي هذه الثلاثة لا يرث أحدهما من الآخر شيئا خامسها: أن يعرف موت أحدهما أولا بعينه ثم أشكل أمره بعد ذلك وسيأتي الكلام عليه اهـ ومثله في الدر المنتقى الخ (ج6ص798 فصل في الغرقى والحرقى وغيرهم كتاب الفرائض ط سعید)۔
وفی الدرالمختار: أنه لو مات أحدهما ولا يدري أيهما هو يجعل كأنهما ماتا معا لتحقق التعارض بينهما وهو مخالف لما مر فتدبر (و) إذا لم يعلم ترتيبهم (يقسم مال كل منهم على ورثته الأحياء) إذ لا توارث بالشك الخ (ج6 ص798 فصل في الغرقى والحرقى وغيرهم كتاب الفرائض ط سعید)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1