محترم جناب مفتی صاحب ،السلام علیکم !
عرض یہ ہے کہ مجھے کچھ مسائل میں راہ نمائی کی ضرورت ہے ،
1) میرے والدین کا انتقال ہو گیا ہے ، ان کی طرف سے وراثت میں ایک مکان اور ایک دوکان شامل ہیں ۔ (مکان اپنا ہے) اور دوکان مسجد کی دوکانوں میں سے ہے ، جس کا کرایہ مسجد کو ادا کیا جاتا ہے ، ہم دس بہن بھائی ہیں ، چار بھائی اور چھ بہنیں۔ کیا دوکان بھی وراثت میں شامل ہوگی ؟ جبکہ وہ پگڑی پر خریدی ہوئی ہے ،آپ راہ نمائی فرمائیں کہ وارثت میں حصہ کس طریقہ سے ہوگا ؟ مکان کے ساتھ دوکان میں بھی حصہ ہوگا ؟ اور مکان کے ساتھ ہی دوکان کا حصہ ہوگا یا پھر دوکان بعد میں بھی فروخت ہو سکتی ہے ؟
2)ابھی کچھ دن پہلے یعنی 12 جولائی 2024 کو میرے سب سے چھوٹے بھائی کا رضائے الہی سے انتقال ہو گیا ہے ، بھائی اپنی کمپنی میں کام کرتے ہوئے اونچائی سے گر کر سر پر چوٹ لگنے سے 22 دن ہاسپٹل میں رہا اور بے ہوشی ہی کی حالت میں اس کا انتقال ہوگیا ۔ بھائی کے دو بچے ایک بیٹی ڈھائی سال کی اور بیٹا 4 ماہ کا ہے ، شادی کے کچھ عرصے کے بعد ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے بھائی نے ہم سے علیحدگی اختیار کر لی تھی ، یعنی کسی بھی بھائی بہن سے بات چیت نہ ہونے کے برابر تھی ۔ اب مزید یہ کہ بھابی اپنی اور اپنے گھر والوں کی مرضی سے اپنے گھر پر عدت گزار رہی ہیں ، اور ان کی طرف سے میرے چھوٹے بھائی ارسلان احمد کی جائیداد کے حصے کا تقاضا سر گرم ہے ، جو کہ ہمیں مکان بیچ کر ادا کرنا پڑے گا ، اور ہم سب بہن بھائی میں سے کوئی بھی اس قابل نہیں ہے کہ مکان بغیر سیل کیے بھائی کا حصہ ادا کر سکے ، اور بھا بھی اور ان کے گھر والوں کو صبر کرنا مشکل ہو رہا ہے ، اب آپ سے گزارش ہے کہ کتاب وسنت کی روشنی میں ہماری راہ نمائی فرمائیں کہ ہم بھائی کے حصے کو کیسے ادا کریں ؟ ہمیں بھائی کے بچوں کے مستقبل کا بھی خیال رکھنا ہے اور اپنا فرض بھی ادا کرنا ہے۔
3) ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ عدت کے بعد بھا بھی یہاں ہمارے گھر رہ سکتی ہے یا نہیں ؟ کیونکہ بھائی کا انتقال ہو چکا ہے ، دادا، دادی پہلے ہی فوت ہوئے تھے۔
واضح ہو کہ مروجہ پگڑی کا معاملہ کرنا کئی قباحتوں پر مشتمل ہونے کی بنا پر شرعاً جائز نہیں ہے ،اور نہ ہی اس عقد کی بنیاد پر وہ شخص پگڑی کے ذریعہ خریدے گئے دوکان کا شرعاً مالک بن جاتا ہے، نیز اس معاملہ کو بنیاد بنا کر پگڑی پر لی ہوئی چیز آگے فروخت کرنا بھی جائز نہیں ، لہذا سائل کے والد مرحوم نے پگڑی پر جو دوکان لی تھی وہ شرعاًاس کی ملکیت شمار نہ ہوگی ، اور نہ ہی ورثاء کے لئے اس دوکان کو آگے فروخت کرنا جائز ہوگا ،اس لئے سائل اور دیگر ورثاءکو چاہیئے کہ والد مرحوم نے مسجد انتظامیہ کے ساتھ عقد کرتے وقت جو رقم حوالہ کی تھی وہ رقم واپس لے کر دوکان ان کے حوالہ کر دے اور یہ رقم والد مرحوم کے ترکہ میں شامل کر کے تمام ورثاء میں دیگرترکہ کی طرح حسب حصصِ شرعیہ تقسیم کریں،تاہم اگر کوئی وارث اپنے لئے ذاتی طور پر مذکور دوکان کرایہ پر لینا چاہے ،تو مسجد انتظامیہ سے نئے سرے سے شرعی شرائط کو ملحوظ رکھ کر عقد کرتے ہوئے دوکان کرایہ پر لے سکتا ہے ،جبکہ سائل کے چھوٹے بھائی کی بیوہ اگر مرحوم سسر کے ترکہ میں سے اپنے مرحوم شوہر کے حصہ کا مطالبہ کر رہی ہو، تو اس میں وہ حق بجانب ہے، اور سائل یا دیگر ورثاء کے لئے بلا وجہ تقسیم ِترکہ میں رکاوٹ ڈالنا یا اسے مؤخر کرنا درست نہیں، بلکہ سائل یا دیگر ورثاء میں سے کوئی ایک یا چند مل کر اپنے مرحوم بھائی کا حصہ خریدنا چاہے تو اس کی مارکیٹ ریٹ کے مطابق اس کا حصہ خرید کر اس کی قیمت مرحوم بھائی کے ورثاء بیوہ اور اولاد کو حوالہ کر دے، بصورتِ دیگر سائل سمیت دیگر ورثا ء پر جلداز جلد یہ مکان وغیرہ فروخت کر کے ان کا حصہ انہیں حوالہ کرنا لازم ہوگا، البتہ مذکور بیوہ ایام عدت گزرنے کے بعد اگر بچوں سمیت سسرال میں رہنا چاہے اور ان کا حصہ میراث ان کی رہائش کے لئے کافی ہو، تو اس کا اسے اختیار ہے، مگر سسرال میں رہتے ہوئے چو نکہ دیور وغیرہ اس کے حق میں غیر محرم اور اجنبی ہیں اس لئے ان سے مکمل شرعی پردہ کا اہتمام کرنا لازم و ضروری ہوگا ۔
اس کے بعد واضح ہو کہ سائل کے مرحومین والدین کا ترکہ ان کے موجود ورثاء میں اصولِ میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحومین نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا ، چاندی ، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑاگھریلو سازو سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، وہ سب مرحومین کا ترکہ ہے ، جس میں سے سب سے پہلے مرحومین کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعددیکھیں کہ اگر ان کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومین نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3)کی حد تک اس پر عمل کریں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل چودہ (14) حصے بنائے جائیں ، جن میں سے مرحومین کےہر بیٹے کو دو ( 2) حصے ، جبکہ ہربیٹی کو ایک (1) حصہ دیا جائے -
كما في سنن أبي داود : عن عبد الله بن عمرو، قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الراشي والمرتشي (باب في كراهية الرشوة، ج 5، ص 433، رقم : 3580، ط : دار الرسلة العالمية)-
وفي فقه البيوع على المذاهب الأربعة لشيخ الإسلام : فان بدل الخلو الذي يأخذه المؤجر في أول العقد لا ينطبق على مثل حق القرار الذي جوزه المتأخرون في الأراضي الوقفيه والسلطانيه ومن المقرر أن العاقد لا يجوز له أن يطالب العقد الأخر بعوض عن مجرد دخوله في العقد علاوة على ما يستحقه بالعقد فانه رشوة(إلى قوله) نعم ! يجوز له أن يسترد منه ما دفع كبدل الخلو عند بداية العقد فإنه رشوة، يجب ردها إلى الدافع (خلو الدور والحوانيت، ج 1، ص 262-263، ط : مكتبة معارف القرأن، كراتشي)-
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1