کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام! مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ میرے سسر مسمی فقیر گل کا انتقال ہو گیا ہے، بوقت انتقال ان کے ورثاء میں تین بیٹے اور تین بیٹیاں موجود تھیں، مرحوم فقیر گل نے اپنی حیات میں بیٹوں کے درمیان باقی جائیداد تقسیم کر لی تھی ، لیکن ایک رہائشی مکان ان کی ملکیت میں باقی تھا ،فقیر گل مرحوم نے اپنی زندگی میں میرا حق مہر اور باقی دو بہوؤ ں کا حق مہرلے کر بطور امانت اپنے پاس رکھ لیا تھا ، تاکہ بیٹے مجھے خرچہ دیتے رہیں ، اور یہ بات وہ اپنی زندگی میں زبانی کہتا رہا کہ اگرمیرے پاس زیورموجود نہ رہا ، تو میرے مکان کے فروخت کرنے کے بعد آپ لوگوں کو زیورات یا اس کی قیمت مل جائیگی، میرا زیور ساڑھے سات تولہ ہے ،مکان اور تقسیم جائیداد کے وقت جو دستاویز لکھی گئی ہے اس میں ان زیورات کا تذکرہ موجود ہے کہ بطور امانت سسر کے پاس رہے گا ، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ مرحوم فقیر گل کا جائیداد مذکور ورثاء میں شریعت کے مطابق کس طرح تقسیم کیا جائیگا؟ اور بہو ؤ ں کے زیورات کی قیمت اس میں سے منہا کی جا سکتی ہے یا نہیں ؟ جو بھی شرعی حکم ہو تحریر فرمائیں جزاکم اللہ ۔
نوٹ: مرحوم فقیر گل کی ایک بیوہ موجود ہے۔
صورتِ مسئولہ میں سائلہ کے مرحوم سسر نے جو زیورات امانتاً اپنے پاس رکھے تھے، اگر وہ زیورات موجود ہوں تو ان زیورات کو تقسیم ترکہ سے قبل بہوؤں کولوٹانا لازم ہے، البتہ اگر سسر مرحوم یہ زیورات بہو ؤں کی اجازت کے بغیر اپنے استعمال میں لے آیا ہو تو ایسی صورت میں تقسیمِ ترکہ سے قبل اسی معیار و مقدار کا سونا یا اس کی مارکیٹ ویلیو کے مطا بق موجودہ قیمت ترکہ سے منہا کرکے بہوؤں کو دینا لازم ہے، ورنہ سائلہ اور مرحوم کی دیگر بہوئیں اپنے حق کی وصو لیابی کے لئے قانونی چارہ جوئی کی بھی مجاز ہیں۔
اس کے بعد واضح ہوکہ سائلہ کے مرحوم سسرکا ترکہ اس کے موجود ورثاء میں اصولِ میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا ، چاندی ، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑاگھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے ، جس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعددیکھیں کہ اگر اس کے ذمہ کچھ قرض یا بیوہ کا حق مہر واجب الاداء ہوتو وہ ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3)کی حد تک اس پر عمل کریں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل بہتر (72) حصے بنائے جائیں ، جن میں سے مرحوم کی بیوہ کو نو (9) حصے ، ہر ایک بیٹے کوچودہ (14)حصے، جبکہ ہر ایک بیٹی کو سات (7) حصے دیے جائیں -
کما فی الہندیۃ؛ وأما حكمها فوجوب الحفظ على المودع وصيرورة المال أمانة في يده ووجوب أدائه عند طلب مالكه، كذا في الشمني. الوديعة لا تودع ولا تعار ولا تؤاجر ولا ترهن، وإن فعل شيئا منها ضمن، كذا في البحر الرائق. (ج4، ص 338، ط: ماجدیۃ)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1