احکام وراثت

مرحوم کے پراویڈنٹ فنڈ میں تقسیم ترکہ کا حکم

فتوی نمبر :
77859
| تاریخ :
2024-09-03
معاملات / ترکات / احکام وراثت

مرحوم کے پراویڈنٹ فنڈ میں تقسیم ترکہ کا حکم




السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ میری بیٹی جویریہ کی شادی کو آٹھ سال ہو گئے ہیں، چار سال پہلے اس کے شوہر کا انتقال ہو چکا ہے ،میری بیٹی چار سال سے سسرال میں ہے، اپنے دو بچوں کے ہمراہ رہ رہی تھی، مگر اب سسرال والوں کے نارواسلوک کی وجہ سے تین ماہ پہلے اپنے ماں باپ کے گھر واپس آگئی ہے، اور واپس نہیں جانا چاہتی، عدت پوری کرنے کے بعد اس کے مرحوم شوہر کے آفس سے میری بیٹی کے نام پر 28 لاکھ پراویڈنٹ فنڈ کی رقم ملی تھی، جو میری بیٹی نے اپنے سسر کو دیے تھے،سسر نے اپنے 36 لاکھ اور یہ پرائیویڈنٹ فنڈ کے 28 لاکھ ملاکرمشترکہ طور پر ایک فلیٹ خریدا، اور revonationکروایا،فلیٹ کی گزشتہ قیمت 52 لاکھ تھی اور موجودہ 80 لاکھ ہے۔
1) میری بیٹی کو 28 لاکھ ملیں گے یا موجودہ فلیٹ کی قیمت کے حساب سے پیسے ملیں گے۔
2) اس پراویڈنٹ فنڈ کی رقم میں مرحوم کے والدین کا حصہ بنتا ہے ؟اور اگر بنتا ہے تو کتنا ؟
3) اس پراویڈنٹ فنڈ کی رقم میں مرحوم کے بچوں کا حصہ بنتا ہے؟ اور اگر بنتا ہے تو کتنا؟
4) بچوں کی سرپرستی اور کفالت کس کے ذمہ ہوگی ؟بچے ماں کے پاس رہیں گے یا دادا دادی کے پاس ؟بچوں کی عمر سات سال اور پانچ سال کے قریب ہے، دونوں بیٹیاں ہیں۔
5) مرحوم شوہر کے نام گاڑی بھی ہے جو کہ میری بیٹی چلاتی تھی، کیا اس میں مرحوم کے والدین کا حصہ ہے؟ یا اس کے بچوں کا حصہ ہے ؟یا میری بیٹی کا حصہ ہے ؟اور ہے تو کتنا ہے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ سرکاری ادارےکی طرف سے ملنے والی مالی امداد کی دو قسمیں ہیں، ذیل میں انکی بنیادی تفصیل اور شرعی حکم بیان کیا جاتا ہے ۔
1- وہ امداد جس کا ملازم اپنی زندگی میں مالک نہیں بنا تھا، بلکہ اس کے مرنے کے بعد حکومت یا متعلقہ ادارہ ملازم کے ساتھ تبرع و احسان کے طور پر اسکے پسماندگان کو دیتا ہے، جیسے گریجویٹی اور پنشن وغیرہ ، تو چونکہ اس نوعیت کے اموال کا ملازم اپنی زندگی میں مالک اور حقدار نہیں ہوتا، اس لیےاس کے مرنے کے بعد اس میں میراث کے احکام جاری نہیں ہونگے، بلکہ حکومت یا متعلقہ ادارہ جس فرد کو بھی اس کیلئے نامزد کرے ، وہ ہی اس کا مستحق ہوگا، دیگر ورثاء کا اس میں کوئی حصہ نہ ہوگا اور نہ ہی ان کو مطالبہ کا حق حاصل ہوگا۔
2-مالی امداد کی دوسری قسم وہ ہے جس کا ملازم اپنی زندگی میں ہی مالک یا مستحق بن چکا تھا، لیکن ادارہ جاتی پالیسی کی وجہ سے وہ اپنی زندگی میں اسکو قبضہ میں نہیں لاسکتا تھا، جیسے جی پی فنڈ، وغیرہ تو چونکہ اس نوعیت کے اموال کا ملازم اپنی زندگی میں ہی مالک ہوتا ہے ، اس لئے اسکی وفات کے بعد دیگر اموال کے ساتھ اس پر بھی میراث کے احکامات لاگو ہونگے، اور یہ تمام ورثاء کے درمیان حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم کیا جائیگا۔
(1/2/3) پراویڈنٹ فنڈ چونکہ دوسری قسم میں آتا ہے،اس لئےصورت مسؤلہ میں سائل کی بیٹی کو جو پراویڈنٹ فنڈ کی مد میں 28 لاکھ روپے ملے ہیں،اس رقم میں سائل کی بیٹی، اس کی دونوں بیٹیاں اور شوہر کے والدین تما م اپنے شرعی حصص کے بقدر حقدار ہیں،لہذا سائلہ کے سسر نے جو گھر اپنی ذاتی رقم اور پراویڈنٹ فنڈ کی رقم سے خریدا ہے تو اس گھر میں موجودہ مارکیٹ ویلیو کے حساب سے مذکور رقم کے بقدر تمام ورثاء حقدارہوں گے،چنانچہ موجودہ مارکیٹ ویلیو معلوم کرنے کے بعد جتنی رقم مذکور پراویڈنٹ فنڈ کے مقابلہ میں آئے گی وہ تمام رقم ورثاء میں حسبِ حصص شرعی تقسیم ہوگی۔
کما في شرح المجلة : "المادة (2 9 0 1) - (كما تكون أعيان المتوفى المتروكة مشتركة بين وارثيه على حسب حصصهم كذلك يكون الدين الذي له في ذمة آخر مشتركا بين وارثيه على حسب حصصهم)."(ج3،ص55)۔
وفی مجلۃ الاحکام العدلیۃ: (المادة 1073) تقسيم حاصلات الأموال المشتركة في شركة الملك بين أصحابهم بنسبة حصصهم. فلذلك إذا شرط لأحد الشركاء حصة أكثر من حصته من لبن الحيوان المشترك أو نتاجه لا يصح.(ص206،نور محمد)۔
(4)دونوں بچیاں نو سال کی عمر کو پہنچنے تک ان کی پرورش کی زیادہ حقدار ان کی ماں ہے ، بشرطیکہ وہ ان بچیوں کے کسی غیر ذی رحم محرم سے شادی نہ کر لے ،ورنہ ماں کا حق پرورش ختم ہوکر ان بچیوں کی نانی کو حاصل ہوگا،اگر نانی نہ ہو یا وہ لینے سے انکار کردے تو پھر ان بچیوں کی دادی کو حق پرورش حاصل ہوگا،اس کے بعد خالہ اور پھوپھی کو بالترتیب حق حاصل ہوگا،جبکہ مذکور مدت کے بعد دادا کو مذکور بچیاں اپنی تحویل میں لینے کا حق ہوگا،البتہ دوران پرورش ان بچیوں کے اخراجات ان کے اپنے حصہ میرا ث سے ادا کیے جائیں گے۔
كما في البزازية : أحق الناس بالولد حال قيام النكاح و بعد الفرقة الأم فإن ماتت أو تزوجت بأجنبي لا بعم الصغير أو الجدة بجد الصغير فأم الأم ثم أم الأب الخ (مسائل الحضانة، ج2، ص 543، ط: رشيدية )-
و في الهندية : وإن كان الأب قد مات وترك أموالا وترك أولادا صغارا كانت نفقة الأولاد من أنصبائهم الخ ( الفصل الرابع في نفقة الأولاد، ج 3، ص 29، ط : رشيدية )-
وفيها أيضا : و إنما يبطل حق الحضانة لهؤلاء النسوة بالتزوج إذا تزوجن بأجنبي، فإن تزوجن بذي رحم محرم من الصغير كالجدة إذا كان زوجها جدا لصغير أو الأم إذا تزوجت بعم الصغير لا يبطل حقهاالخ (الباب السادس عشر في الحضانة، ج 2، ص 544، ط : رشيدية)-
وفيها أيضا : و الأم و الجدة أحق بالغلام حتى يستغني و قدر بسبع سنين وقال القدوري حتى يأكل وحده و يشرب وحده و يستنجي وحده و قدره أبو بكر الرازي بتسع سنين و الفتوى على الأول و الأم و الجدة أحق بالجارية حتى تحيض الخ ( الباب السادس عشر في الحضانة، ج 2، ص 545، ط: رشيدية)-
و في فتاوى قاضي خان : وفي ظاهر الرواية : البنت البالغة و الغلام البالغ الزمن بمنزلة الصغير نفقته على الأب خاصة وأب الأب عند عدم الأب في النفقة
بمنزلة الأب الخ ( فصل في نفقة الأولاد، ج 3، ص 37، ط: رشيدية)۔
5)اس کے بعد واضح ہوکہ مرحوم نے بوقتِ انتقال مذکور گاڑی سمیت جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا ، چاندی ، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا اس میں سب سے پہلے ، مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض یا بیوہ کا حق مہرواجب الاداء ہو تو وہ ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (3/1) کی حد تک اس پر عمل کر یں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل ستائیس(27) حصے کیے جائیں، اور والدین میں سے ہر ایک کو چار(4) حصے، بیوہ کو تین (3) حصے،اور ہر ایک بیٹی کو آٹھ (8) حصے دیئے جائیں،جیسا کہ ذیل کے نقشہ سے بھی واضح ہو رہا ہے، مزید سہولت کے لئے فیصدی حصے بھی لکھ دیئے گئے ہیں ، ملاحظہ ہوں !
مسئلہ24 عـــــــــــــــــ27
میـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬
والد والدہ بیوہ بیٹی بیٹی
4 4 3 16
8 8
14.814% 14.814% 11.111% 29.629% 29.629%

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد خباب ارباب عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 77859کی تصدیق کریں
0     748
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • وراثت کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 6
  • باپ کی جائیداد میں اولاد کا حصہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 4
  • کسی وارث کا اپنا حصہ میراث معاف کرنے کا طریقہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 3
  • بھائیوں کا مرحوم والد کے ترکہ میں سے بہن کو حصہ نہ دینا

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 1
  • وفات کے بعد ملنے والی پینشن اورگریجویٹی کاحکم

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • ورثے میں انشورنس کمپنی سے پیسے ملیں تو ان کا کیا حکم ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • یتیم پوتوں کو دادا کی جائیدا میں حصہ کیوں نہیں ملتا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • وراثت کی تقیسم میں بلا وجہ تاخیر کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • بیٹوں کو ہبہ کردہ حصے میں بیٹیوں کا بعد از وفات حصہ مانگنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • نافرمان بیٹے کو جائیداد سے محروم کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بیٹوں کے نام کی گئی زمین میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بیوہ ،سات بیٹوں اور تین بیٹیوں میں ترکے کی تقسیم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکے کے مکان سے کرایہ کی مد میں حاصل شدہ رقم میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بہنوں کا میراث میں حصہ اور اپنا حصہ معاف کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بڑے بیٹے کی کمائی میں , باپ کے انتقال کے بعد وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء=بیوہ,والد,والدہ,ایک بیٹا ایک بیٹی)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = 3 بیٹے 1 بیٹی 1 بہو 1 پوتا)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = ایک بیوہ ,دو بیٹے, ایک بیٹی, پانچ بھائی, پانچ بہنیں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بیٹے کی ذاتی کمائی میں وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بھائی کی موجودگی میں مرحومہ بہن کے ترکے میں بہن حصہ دار ہوگی یا نہیں ؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
Related Topics متعلقه موضوعات